اسلام آباد میں لگے ناکے اور کنٹینر

نصرت جاوید  جمعرات 27 نومبر 2014
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

30نومبر سے پانچ روز قبل ہی اسلام آباد کی انتظامیہ نے کنٹینر وغیرہ لگا کر اس شہر کی ناکہ بندی کردی ہے۔ اس شہر میں لگے ناکوں کا میں بہت برسوں سے عادی ہوچکا ہوں۔ صحافی ہونے کی وجہ سے وہاں رکنے کے بعد چخ چخ کی زحمتوں سے بھی اکثر بچا رہا۔ ان دنوں مگر اپنی شناخت کروانے کے باوجود کار کی ڈگی کھول کر پولیس والوں کو اطمینان دلانا پڑ رہا ہے کہ میں کوئی اسلحہ وغیرہ لے کر شہر کے مرکز کی طرف نہیں جا رہا۔ دو گھریلو خواتین نے صبح مجھے فون کرکے گلہ کیا کہ سورج ڈھلنے کے بعد اسلام آباد میں سفر کرتے ہوئے ناکے پر کھڑے پولیس والوں کو یقین دلانا پڑ رہا ہے کہ ان کا رخ دھرنے کے مقام کی طرف نہیں ہے۔ 30نومبر سے کئی دن پہلے ہوئی ناکہ بندی اور پولیس والوں کی غیر معمولی مستعدی واضح طور پر بتا رہی ہے کہ اب کی بار ’’14اگست‘‘ نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ذاتی طور پر عمران خان کی سیاست کے بارے میں کئی تحفظات رکھنے کے باوجود میں اسلام آباد کی ایسی ناکہ بندی کے بارے میں ہرگز خوش نہیں۔ نواز حکومت یہ سب کرنے پر مجبور کیوں ہو رہی ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے نکلا تو دریافت ہوا کہ عمران خان کے گوجرانوالہ اور جہلم کے جلسوں کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے بہت سارے حامیوں اور مقامی سطح پر متحرک رہ نمائوں نے اپنی قیادت کو صاف الفاظ میں بتادیا ہے کہ وہ اپنے شہروں اور قصبوں میں تحریک انصاف سے وابستہ نوجوانوں کی مبینہ اشتعال انگیزیوں کو مزید برداشت نہیں کرسکتے۔

عزت اور بے عزتی کے تصورات پنجاب کے انا پرست معاشرے میں ضرورت سے زیادہ انسانی رویوں پر حاوی رہتے ہیں۔ دن بدن یہ امکانات مضبوط تر ہو رہے ہیں کہ وسطی پنجاب کے گوجرانوالہ، فیصل آباد اور سیالکوٹ جیسے شہروں میں مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے حامیوں کے مابین سنگین نوعیت کے جھگڑے ہوسکتے ہیں۔ پاکستان جیسے معاشروں میں ایسے واقعات کو فوراً ’’خانہ جنگی‘‘ کا نام دے دیا جاتا ہے جسے ’’روکنے‘‘ کے لیے 5جولائی 1977ء ہوجایا کرتے ہیں۔

نواز شریف نے اپنی سیاست کا آغاز مارشل لاء کی سرپرستی میں کیا تھا۔ اس حقیقت کے باوجود انھوں نے جمہوری رویے اپنانے میں کوئی زیادہ دیر نہ لگائی۔ مجھے آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب محترمہ بے نظیر بھٹو 10اپریل 1986ء کوطویل جلاوطنی کے بعد لاہورایئرپورٹ آئیں اور ایک تاریخی جلوس کی صورت وہاں سے کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد مینار پاکستان پہنچیں۔ اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو مرحوم اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت میں نواز شریف نے یک جا ہوکر محترمہ کو جلسے جلوس کرنے کی مکمل آزادی دی۔ جنرل ضیاء کے چند وفادار ان دونوں کے اس رویے سے بہت ناراض ہوئے۔

مرحوم پیرپگاڑا نے مگر بڑی ذہانت کے ساتھ جونیجو صاحب کو بچانے کے لیے یہ Whisper Campaignچلائی کہ نواز شریف نے محترمہ کو جلسے جلوسوں کی اجازت ہی نہیں دی بلکہ جہانگیر بدر کی وساطت سے پیپلز پارٹی کو کافی بڑی رقم بھی چندے کی صورت فراہم کی ہے۔ اپنے جلسے جلوسوں کی توانائی کو دیکھتے ہوئے محترمہ نے 14اگست 1986ء کے روز لاہور کے موچی دروازے میں ایک جلسے کا اعلان کردیا۔ عین اسی دن وزیر اعظم جونیجو نے بھی لاہور میں مینار پاکستان پر اپنی ’’جمہوری حکومت‘‘ کا ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے ایک جلسے کا اہتمام کررکھا تھا۔ اسلام آباد کے حکومتی حلقوں میں بہت شدت کے ساتھ ان خدشات کا اظہار ہونے لگا کہ 14اگست 1986ء کے دن لاہور میں پیپلز پارٹی اور حکومتی جماعت کے حامیوں کے درمیان فسادات پھوٹ پڑیں گے۔

تصادم کے امکانات ختم کرنے کے لیے جونیجو مرحوم نے اپنی کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا۔ چوہدری انور عزیز جیسے وزراء نے وہاں اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم کو اپنا 14اگست والا جلسہ منسوخ کردینا چاہیے۔ اس وقت کی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اختر عبدالرحمن نے اس تجویز کی پر زور مخالفت کی۔ ان کا خیال تھا کہ حکومت کی طرف سے جلسے کی ایسی منسوخی جونیجو حکومت کی اتھارٹی اور ساکھ کو مکمل طورپر ختم کردے گی۔ وہاں موجود سیکریٹری داخلہ ایس کے محمود نے انتہائی تلخ لہجے میں جنرل کے مخالف دلائل دئے۔ بالآخر جونیجو صاحب نے پاکستان ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کیا۔ اپنی تقریر  میں انھوں نے بڑھے دھیمے لہجے میں اعلان کیا کہ وہ جمہوری نظام کے تحفظ اور امن وامان کو برقرار رکھنے کی خاطر اپنا لاہور کا جلسہ منسوخ کررہے ہیں۔ انھیں توقع تھی کہ پیپلز پارٹی بھی اپنا جلسہ منسوخ کردے گی۔ جیالے مگر ڈٹ گئے اور موچی دروازے میں جمع ہجوم کو منتشر کرتے ہوئے پولیس نے ان کے چار کارکنوں کو ہلاک بھی کر ڈالا۔

وزیر اعظم کے چند قریبی مانے جانے والے لوگوں سے بات چیت کے بعد مجھے محسوس ہوا ہے کہ نواز شریف اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ عمران خان کی احتجاجی سیاست ان کی حکومت کو اپنے ’’ایجنڈے‘‘ پر پوری توجہ نہیں کرنے دے رہی۔ سب سے زیادہ خفت وہ چین کے بارے میں کنٹینر سے ہوئی تقاریر کے بارے میں محسوس کررہے ہیں۔ عمران خان ذرا محتاط مگر شیخ رشید اپنے روایتی بانکپن کے ساتھ مسلسل یہ الزامات لگا رہے ہیں کہ چین کے ساتھ بجلی کے بڑے بڑے کارخانے لگانے کا اصل مقصد نواز شریف کے چند دوستوں کے لیے بھاری کمیشن اکٹھا کرنا ہے۔ ہمارے عوام کو اس بات کا ہرگز علم نہیں کہ چین اپنی ساکھ کے بارے میں بے حد حساس ہوا کرتا ہے۔ چینی ہماری داخلی سیاست کے بارے میں اپنے قریب ترین دوستوں کے ساتھ ہوئی نجی محفلوں میں بھی کوئی تبصرہ آرائی نہیں کرتے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے مگر ان کے چند سفارت کاروں نے اپنے خلاف ہوئی باتوں کے بارے میں شکوہ کرنا شروع کردیا ہے۔ مجھے شبہ ہے کہ چینیوں کی اس تشویش نے وزیر اعظم کو مجبور کردیا ہے کہ وہ Either/Orوالا ذہن بناکر 30نومبر کی تیاری کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔