اسرائیل کی قرارداد مقاصد

نصرت جاوید  ہفتہ 29 نومبر 2014
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

میرا تعلق صحافیوں کے اس گروہ سے جوڑا جاتا ہے جسے ’’لبرل‘‘ شمار کیا جاتا ہے۔ فلسفے کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے اگرچہ میں اکثر اپنی ایسی تخصیص پر حیران ہوتا رہتا ہوں۔ سیاسی اور سماجی امور کے حوالے سے چند معاملات کے بارے میں میری سوچ کافی غیر لچک دار ہے۔ مجھے لوگوں کے اعتقادات پر اعتراض اٹھانے کی عادت نہیں مگر مغربی تہذیب کے تناظر میں مجھے آزاد خیال بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اپنی چند روایات اور اقدار کا میں بہت معتقد ہوں اور انھیں برقرار دیکھنے کی خواہش رکھنے کے سبب ’’قدامت پرست‘‘ بھی کہلایا جا سکتا ہوں۔

بہرحال صحافیوں کے جس گروہ سے میرا تعلق جوڑا جاتا ہے اس کی اکثریت ’’قراردادِ مقاصد‘‘ پر مسلسل اعتراضات اٹھاتی رہتی ہے۔ یہ باور کیا جاتا ہے کہ اس قرارداد کی منظوری کے بعد پاکستانیوں نے قائد اعظم کی 11 اگست 1947ء والی اس تقریر سے دوری اختیار کرنا شروع کر دی تھی جس میں انھوں نے پاکستانیوں کو مذہبی تقسیم سے بالاتر رہتے ہوئے نوزائیدہ مملکت کے مساویانہ حقوق رکھنے والے شہری بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ قراردادِ مقاصد کے بارے میں جاری بحث کی وجہ سے ابھی تک یہ طے نہیں ہو پایا کہ پاکستان ’’اسلامی نظام‘‘ کا ایک ماڈل فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا یا اس کے قیام کا مقصد فقط برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ہندو اکثریت کے خوف سے آزاد ہو کر ایک جدید جمہوری ملک حاصل کرنا تھا۔ جنرل ضیاء نے اگرچہ قراردادِ مقاصد کو آئین کا باقاعدہ حصہ بنا کر یہ قضیہ اپنے تئیں ہمیشہ کے لیے حل کر دیا ہے۔

قراردادِ مقاصد کی روشنی میں جنرل ضیاء ہی نے ہمارے آئین میں 62/63 جیسے آرٹیکل متعارف کروائے جنھیں 18 ویں ترمیم کی تیاری کے دوران رضا ربانی، افراسیاب خٹک اور میر حاصل بزنجو جیسے ترقی پسند یا لبرل حضرات نے زیر بحث لانے کی بھی جرأت نہیں دکھائی تھی۔ آیندہ چند روز میں پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت بالآخر یہ فیصلہ بھی کر دے گی کہ عوامی نمایندوں کی ’’صداقت‘‘ اور ’’امانت‘‘ جانچنے کے پیمانے کیا ہوا کریں گے۔ جب یہ معیار طے ہو گئے تو یہ فیصلہ کرنے میں بھی آسانی ہو جائے گی کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک بیان دینے کے بعد جس کی بظاہر تردید ایک ٹویٹ کے ذریعے ہوئی تھی وزیر اعظم پاکستان اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے اہل بھی رہے ہیں یا نہیں۔

قراردادِ مقاصد سے متعلق لامتناعی بحث ان دنوں البتہ مجھے اسرائیل میں برپا ایک شدید سیاسی اور نظریاتی چپقلش کے تناظر میں مزید دلچسپ نظر آ رہی ہے۔ ہماری طرح اسرائیل بھی 1948ء میں مذہب کے نام پر بنی ایک ’’نظریاتی ریاست‘‘ کی صورت دُنیا کے نقشے پر اُبھرا تھا۔ ساری دُنیا میں بکھرے یہودیوں نے جو ہمیشہ ’’اگلے برس یروشلم میں‘‘ والی خواہش کا اظہار دُعا کی صورت کیا کرتے تھے صیہونی تحریک کے ایماء پر فلسطین میں پہلی جنگ عظیم کے دوران زمینیں خریدنا شروع کر دی تھیں۔

زیادہ تر فلسطینیوں نے ان زمینوں کی آباد کاری میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔ ان کی دانست میں یہ کاشت کاری کے قابل ہی نہ تھیں۔ صیہونی رضا کاروں نے ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ دام دے کر ان زمینوں کو خریدا اور انھیں بڑی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کے بھرپور ارتکاز کے ساتھ سنگترے، مالٹے، زیتون اور سبزیوں جیسی نقد آور فصلوں کی کاشت کے قابل بنایا۔ دوسری جنگ عظیم کی افراتفری کے دوران صیہونی تحریک نے بالآخر برطانیہ کو ان زمینوں پر مشتمل ایک یہودی مملکت کے قیام کو جائز اور منصفانہ قرار دینے پر مجبور کر دیا۔ مذہب کے نام پر بنی اس مملکت کے ابتدائی شہریوں کی اکثریت چونکہ یورپ اور خاص کر جرمنی، فرانس اور آسٹریا وغیرہ سے آئی تھی اس لیے نوزائیدہ اسرائیل نے بھی خود کو صرف ایک جمہوری ملک قرار دیا جہاں رہنے والے تمام شہریوں کو مساویانہ حقوق حاصل ہونا تھے۔

اسرائیل کے قیام کے فوری بعد مگر اس کی ہمسایہ عرب ملکوں سے جنگیں شروع ہو گئیں۔ اسرائیلی فوج نے امریکا اور برطانیہ کی معاونت سے جدید ترین اسلحہ کی بدولت یہ جنگ لڑتے ہوئے لاکھوں فلسطینیوں کو مصر اور اردن وغیرہ میں دھکیل دیا۔ فلسطینیوں کو جلاوطن کر دینے کے بعد لاکھوں ایکڑ اراضی متروکہ زمینوں کی صورت نئے ملک کی ملکیت ہو گئی۔ حال ہی میں اسرائیل کے ایک بڑے مشہور اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ ان زمینوں کو اسرائیل کی شہریت اختیار کرنے کے بعد وہاں بسنے کے خواہش مند یہودیوں کے لیے پاکستان کے اس قانون سے مکمل طور پر رجوع کیا گیا جو 1950ء کے ابتدائی ایام میں غیر مسلموں کی متروکہ املاک کو بھارت سے آئے مہاجرین میں تقسیم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

آج سے کئی دہائیاں قبل متروکہ املاک کے سوال کو طے کرنے کے لیے پاکستان کی ’’نقالی‘‘ کے بعد اب اسرائیل کا وزیر اعظم اور اس کے انتہاء پسند حامی اپنے ملک کے لیے ایک ’’قراردادِ مقاصد‘‘ منظور کروانے کی جدوجہد میں بھی مصروف ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی کابینہ نے چند روز قبل ایک مسودہ قانون کی متفقہ منظوری دی ہے جو اسرائیل کو باقاعدہ ’’یہودیوں کی قومی ریاست‘‘ قرار دے گا۔ ظاہر ہے اس قانون کی پارلیمان سے منظوری کے بعد اسرائیل میں رہنے والے غیر یہودی تقریباََ دوسرے درجے کے شہری بن جائیں گے۔

ہمارے ہاں ’’یہودوہنود‘‘ کی سازشوں کو فوراََ بھانپ کر ہمارے دلوں میں ان کے خلاف جہاد کی آتش فروزاں کرنے والے بلند آہنگ دانشور اور مبلغ حضرات اسرائیل میں ہونے والی حالیہ سیاسی تبدیلیوں سے تقریباََ بے خبر یا لاتعلق ہیں۔ حقیقت ہے تو یہ کہ مجوزہ قانون کی شدید ترین مزاحمت اسرائیل کے ان نامور یہودیوں کی جانب سے ہی سامنے آ رہی ہے جنھیں ہمارے سیاسی تناظر میں ’’لبرل‘‘ شمار کیا جائے گا۔

اسرائیل کا صدر اور موساد کا ایک انتہائی تجربہ کار مگر سابق سربراہ جو سماجی حوالے سے اب بھی بہت معتبر مانا جاتا ہے اس قانون کے ناقدین میں سرفہرست ہیں۔ اتنی شدید مزاحمت کے باوجود مگر واضح اشارے مل رہے ہیں کہ اسرائیلی وزیر اعظم چند کمزور سی ترامیم کے بعد اپنے ملک کو یہودیوں کی ’’قومی ریاست‘‘ قرار دینے والا قانون منظور کروا لے گا۔ اس قانون کا نظر بظاہر فوری مقصد صرف اتنا ہے کہ مسلمانوں کی بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے حوالے سے عبادت کے حق کو محدود سے محدود تر کر دیا جائے۔ اپنے تجربے کی روشنی میں مگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب ’’نظریاتی مملکتوں‘‘ میں کوئی قراردادِ مقاصد پارلیمان سے باقاعدہ منظور ہو کر آئین کا حصہ بن جائے تو ’’درستیٔ ایمان‘‘ کا ایک ایسا سفر شروع ہو جاتا ہے جس سے واپسی کے راستے نہیں ملا کرتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔