امریکی جرنیل کا چشم کشا اعتراف ’’ہم افغان جنگ ہار چکے!‘‘

سید عاصم محمود  اتوار 30 نومبر 2014
 ان اسباب کا بیان جو عراق و افغانستان میں امریکا کی عبرت ناک شکست کا سبب بن گئے ۔  فوٹو : فائل

ان اسباب کا بیان جو عراق و افغانستان میں امریکا کی عبرت ناک شکست کا سبب بن گئے ۔ فوٹو : فائل

ابراہام لنکن امریکا کے لیجنڈری حکمران گزرے ہیں۔ ان کا قول ہے: ’’سیکھنے کے عمل میں غلطیاں پانی پر پڑے پتھروں کی طرح ہیں۔ ان پہ چل کر آپ منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔‘‘ لنکن صاحب نے سولہ آنے سچی بات کہی۔ انسان سے غلطیاں و کوتاہیاں سرزد ہونا فطری ہے۔ مسئلہ اس وقت جنم لیتا ہے جب انسان غلطیوں سے کوئی سبق نہ سیکھے اور انہیں دہراتا رہے۔

حال ہی میں ایک سرکردہ امریکی ریٹائرڈ جنرل، ڈینئل بولگر نے اپنی چشم کشا کتاب’’ہم کیوں ہارے؟‘‘(Why We Lost: A General’s Inside Account of the Iraq and Afghanistan Wars) میں ان غلطیوں کی نشان دہی فرمائی جو عراق و افغانستان میں امریکی سیاسی و عسکری قیادت کے باعث ظہور پذیر ہوئیں۔امریکا میں دونوں جنگوں کے اسباب ِشکست پہ بحث کرنا تقریباً ممنوع ہے۔گویا اس کتاب کو ’’پہلا پتھر ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ امریکی سیاست داں اور جرنیل ان غلطیوں سے سبق سیکھتے ہیں یا انہیں بدستور دہراتے رہیں گے۔ ایک سیانا کہتا ہے :
’’ماضی نے آپ کو جو دکھ دیئے، انہیں بھول جائیے، لیکن ان دکھوں سے جو سبق ملے، انہیں کبھی نہ بھولیے۔‘‘
٭٭
’’میں امریکا کا جرنیل ہوں اور میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ہار چکا۔‘‘ یہ ہے وہ چونکا دینے والا جملہ جس کے ذریعے جنرل (ر) بولگر کی کتاب کا آغاز ہوتا ہے۔موصوف معمولی امریکی جرنیل نہیں، وہ عراق اور افغانستان میں ان فورسز کے سربراہ رہے جو عراقی و افغان افواج کو عسکری تربیت دیتی رہیں۔ مزید براں تاریخ کا (پی ایچ ڈی) پروفیسر ہونے کے ناتے بھی انھیں امریکی عسکری حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جنرل (ر) بلوگر نے افغان و عراق جنگوں میں شکست کے باعث اپنی سیاسی و عسکری قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔اس کی شدت کا اندازہ یوں لگائیے کہ جنرل صاحب کا کہنا ہے :’’مجھے یقین ہے، اس دسمبر مجھے باوردی دوستوں سے بہت کم کرسمس کارڈ موصول ہوں گے۔‘‘

امریکا کی ’’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘‘ کا آغاز 7 اکتوبر 2001ء کو افغانستان پر حملے سے ہوا۔ اس کے بعد یہ جنگ عراق، پاکستان، یمن، صومالیہ اور شام تک پھیل گئی۔ فی الحال اس کا کوئی انت نظر نہیں آتا کہ امریکا عراق میں پھر داعش (آئی ایس) کے خلاف سرگرم عمل ہو چکا۔گو امریکی افواج و حکومت تسلیم نہیں کرتیں، مگر یہ حقیقت ہے، افغانستان اور عراق میں انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا۔

وجہ یہی کہ امریکا دونوں ممالک میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہابلکہ الٹا انھیں مزید تباہی و بربادی کی سمت دھکیل دیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اپنی ناکامیوں اور غلطیوں سے امریکی سیاست داں اور جرنیل کوئی سبق سیکھتے ہیں یا نہیں؟ دو ہزار سال قبل رومی فلسفی و مدبر، مارکس سسیرو نے کہا تھا ’’غلطیاں تو ہر انسان کرتا ہے، لیکن صرف احمق ہی انہیں دہراتا رہتا ہے۔‘‘

جنرل (ر) بلوگر نے اپنی انکشاف انگیز کتاب میں امریکی شکست کے کئی اسباب بیان کیے۔ ان میں نمایاں یہ ہیں: اول ویت نام جنگ کے بعد امریکی افواج کا ڈھانچا سریع الحرکت فوج کی طرز پر بنایا گیا تھا جو جلدازجلد فوجی آپریشن ختم کرسکے۔ لیکن افغانستان اور عراق، دونوں جگہ امریکی فوجیوں کو طویل عرصہ جنگجوؤں سے نبردآزما ہونا پڑا۔دوم افغانستان اور عراق میں فوری کامیابیوں نے امریکی جرنیلوں و حکومت میں حد سے زیادہ خود اعتمادی پیدا کردی۔ امریکی جرنیل سمجھنے لگے کہ وہ تمام مشکلات پہ قابوپا سکتے ہیں۔ مگر ان کی توقعات پوری نہیں ہوسکیں۔

سوم افغانستان اور عراق میں مزید فوجی بھجوانے کی حکمت عملی ناکام رہی۔ وجہ یہی کہ صدر اوباما نے آتے ہی اعلان کر دیا کہ فلاں تاریخ تک امریکی افواج دونوں ممالک سے نکل جائیں گی۔ چناں چہ جنگجو پسپا ہوکر امریکی فوج کے جانے کا انتظار کرنے لگے۔چہارم جب ایک فوج کسی ملک پر حملہ آور ہو، تو پہلے وہاں کی تہذیب، ثقافت، معاشرت، روایات وغیرہ کے متعلق معلومات حاصل کرتی ہے۔ مگر امریکی افواج نے افغانستان و عراق پر دھاوا بولتے ہوئے مقامی معلومات لینا ضروری نہیں سمجھا۔ چناں چہ بعدازاں انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔

کتاب کی اشاعت کے بعد جنرل (ر) ڈینئل بولگر نے مختلف امریکی اخبارات و ٹی وی چینلوں کو انٹرویو دیئے۔ ان انٹرویوز میں سے چیدہ و بینا سوالات و جوابات کا انتخاب درج ذیل ہے۔

سوال: افغانستان اور عراق میں امریکی افواج کو شکست کیوں ہوئی؟
جواب: بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی افواج سے صحیح طرح کام نہیں لے سکے۔ یہ افواج طویل عرصہ چھاپہ مار جنگ لڑنے کے قابل نہیں تھیں۔ماضی میں جب کبھی امریکی فوج کسی ملک پر حملہ آور ہوتی، تو اس موضوع پر عوامی بحث ہوتی ۔ یوں منصوبے کی خامیاں و خوبیاں سامنے آجاتیں۔ مگر افغانستان و عراق پر لشکر کشی کرتے ہوئے کوئی عوامی مباحثہ نہیں ہوا۔
ابتداً ان دونوں ممالک میں امریکی افواج کو کامیابیاں ملیں، لیکن کوتاہیوں پر کسی کی نظر نہیں گئی۔

خصوصاً یہ سوال اٹھایا ہی نہیں گیا ’’کیا یہ بات درست ہے کہ ہزارہا نوجوان امریکی لڑکے لڑکیوں کو بیرون ممالک بھجواؤ تاکہ وہاں وہ گھر گھر تلاشی لے کر دیکھ سکیں، کون جنگجو ہے اور کون دیہاتی؟‘‘ ہم نے ویت نام میں بھی یہی عمل اپنایا مگر اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ اس کے باوجودافغانستان اور عراق میں اسے دہرایا گیا۔ میں سمجھتا ہوں، اس غلطی نے ہمیں شکست خوردہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

سوال: عراق و افغانستان میں مزید فوجی بھجوانے کا کیا نتیجہ نکلا؟
جواب: ان ممالک میں جنگجوؤں کو روکنے کے لیے بش حکومت نے ’’انسداد بغاوت‘‘ (Counter-insurgency) کا طریق کار اپنایا۔ امریکی فوج میں جنرل ڈیوڈ پیٹریاس اس طریق کار کا بڑا حامی تھا۔ جنرل پیٹریاس نمود و نمائش کا شوقین تھا اور اپنے آپ کو ’’بادشاہ‘‘ کہلوانا پسند کرتا۔

2007ء میں جب وہ عراق میں امریکی فوج کا کمانڈر بنا، تو اپنا انسداد بغاوت منصوبہ شروع کرنے کی خاطر اس نے مزید فوجی منگوالیے۔ زائد فوج کی بنا پر جنگجوؤں کے خلاف امریکا کو کامیابی تو ملی مگر یہ عارضی تھی کیونکہ نفری میں اضافہ مسئلے کا عارضی حل ہے۔ مثلاً بخار میں مبتلا ایک مریض کو آپ اسپرین دیں۔ مریض افاقہ محسوس کرے گا، مگر بخار تو موجود ہے۔ چناںچہ عراق اور پھر افغانستان میں بھی مزید فوجی بھجوانے سے جنگجویانہ کارروائیاں کم تو ہوئیں، رک نہ سکیں۔ وجہ یہی کہ دونوں ممالک میں صرف خود عراقی اور افغان ہی جنگ جوئی روک سکتے تھے۔

سوال:عراق و افغانستان میں مزید نفری بھجوانے کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ دونوں جانب سیکڑوں لوگ مارے گئے۔ پھر امریکا نے عراق میں بظاہر طاقتور عراقی فوج تیار کی مگر وہ داعش کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ یہ حیران کن واقعہ کیونکر رونما ہوا؟
جواب: عراقی فوج کی شکست پر حیران مت ہوں۔ آپ کو یاد ہوگا، 1991ء اور 2003ء میں جب بھی ہمارا عراقی فوج سے مقابلہ ہوا، وہ بہت جلد تتّر بتّر ہوگئی۔ اب وہ داعش کا مقابلہ نہ کرسکی۔وجہ یہ ہے کہ ایک ملک کی مضبوط، تجربہ کار اور پیشہ ور فوج کئی عشروں کی تربیت و محنت سے وجود میں آتی ہے۔ چند برس کی تربیت، رائفل رینج میں چاند ماری اور اِدھر اُدھر مارچ پاسٹ سے طاقتور فوج جنم نہیں لیتی۔
مثال کے طور پر 1950ء میں جنوبی کورین فوج ناتجربے کار اور بوری تھی، اسی لیے جنگ میں مات کھاگئی۔ وہ نصف صدی بعد اب اس قابل ہوئی کہ ایک مضبوط فوج کا روپ دھارسکے۔ایک مضبوط و طاقتور فوج لڑاکا طیاروں اور ہزارہا فوجیوں کی موجودگی سے وجود میں نہیں آتی۔ ضروری ہے کہ فوج میں مٹھی بھر تجربے کار تربیت کار اور محبت وطن افسر موجود ہوں۔ وہ پھر فوجیوں کو تربیت دیتے اور ایک طاقتور فوج وجود میں لاتے ہیں۔ ( دلیر پاک فوج کا قیام بھی اسی طور عمل میں آیا)

سوال: آپ نے اپنی کتاب میں واضح کیا ہے کہ امریکی افواج انسداد بغاوت کی جنگیں نہیں لڑ سکتی۔ وہ روایتی جنگیں لڑنے میں تو طاق ہے‘ مگر انسداد بغاوت کی جنگ بالکل مختلف دنیا ہے۔ اس موضوع پر مزید کچھ روشنی ڈالیے۔
جواب: دراصل جب ایک ملک میں بغاوت یا خانہ جنگی ہو‘ تو اسے اس دیس کے باشندے ہی ختم کر سکتے ہیں۔ یہ مسئلہ عسکری سے زیادہ سیاسی پہلو رکھتاہے۔ میں نے آرمی وار کالجوں میں تعلیم پاتے ہوئے یہی سیکھا کہ ایک ملک کی فوج چاہے کتنی ہی بڑی اور تجربہ کار ہو‘ وہ دوسرے ملک جا کر خانہ جنگی پر قابو نہیں پا سکتی۔
بدقسمتی سے مجھ سمیت تمام امریکی جرنیل یہ بنیادی بات بھول گئے ۔ دراصل ہم غرور یا حد سے زیادہ خود اعتمادی میں مبتلا ہو بیٹھے۔ ہم نے سوچا‘ ہمارے پاس جدید ترین اسلحہ ہے‘ ہم بہترین تربیت یافتہ فوجی رکھتے ہیں۔ انہیں عوام کی بھی حمایت حاصل ہے۔ لہٰذا اب ویت نام کے برعکس افغانستان و عراق جا کر انہیں کامیابیاں ملیں گی۔ ہم فراموش کر بیٹھے کہ روایتی جنگ اور خانہ جنگی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

سوال: آپ نے امریکی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک کمیشن بنائے۔ یہ کمیشن اس بات کا جائزہ لے کہ ہم افغان اور عراقی جنگیں کیوں ہارے؟ ہم نے کچھ عرصہ قبل رچرڈ کلارک سے گفتگو کی تھی جو صدر بش جونیئر کے مشیر برائے سیکورٹی رہے۔ جب 2003ء میں صدر بش نے عراق پر حملے کا حکم دیا‘ تو رچرڈ کلارک نے استعفیٰ دے ڈالا۔ صدر بش چاہتے تھے کہ رچرڈ کلارک 9/11کے حملوں کا ذمے دار صدر صدام حسین کو قرار دیں۔ لیکن اس امر کا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ عراقی حکومت نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پرحملے کرائے۔ چنانچہ رچرڈ نے استعفیٰ دے دیا‘ اپنے صدر کا غیر قانونی و غیر اخلاقی حکم تسلیم نہیں کیا۔

اب رچرڈ کلارک کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں صدر بش اور ان کے ارکان کابینہ پر جنگی جرائم کے سلسلے میں مقدمہ چلنا چاہیے۔ بین الاقوامی عدالت صدور اور وزرائے اعظم پہ مقدمات چلانے کے لیے قوانین تشکیل دے چکی۔ لہٰذا صدر بش جونیئر پر مقدمہ چل سکتا ہے۔ آپ اس ضمن میں کیا کہتے ہیں؟
جواب: مجھے علم نہیں کہ کیا سابق امریکی صدر پہ ازروئے قانون جنگی جرائم کا مقدمہ چل سکتا ہے۔ تاہم میں رچرڈ کلارک کے اس استدلال سے اتفاق کرتا ہوں کہ افغان و عراقی جنگوں پر عوامی سماعت (Congressional hearing)منعقد ہونی چاہیے تاکہ ہماری سیاسی و عسکری کوتاہیاں سامنے آ سکیں۔(امریکہ میں عوامی سماعت سے مراد ارکان اسمبلی کی ایسی کارروائی ہے جس میں عام لوگ بھی شریک ہو سکیں۔)

آپ یہ دیکھئے کہ کوریائی جنگ (1950ء تا1953ء) کے دوران امریکا میں اہم عوامی سماعتیں منعقد ہوئیں۔ ان کا مقصد دوران جنگ امریکی سیاسی و عسکری قیادت کی خامیاں تلاش کرنا تھا۔ ان سماعتوں میں امریکی صدر ٹرومین کے علاوہ سبھی اہم جرنیل و سیاسی راہنما شریک ہوئے۔ مثال کے طور پر جنرل ڈگلس میک آرتھر‘ چیرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف سٹاف‘ جنرل عمر بریڈلے‘ اور سیکرٹری داخلہ ڈین ایچسن! ویت نام جنگ کے دوران سینٹر فل برائٹ نے ایسی ہی عوامی سماعتیں منعقد کیں۔ ان میں بھی سبھی اہم جرنیل وسیاست داں آئے اور انہوں نے ویت جنگ سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

لیکن عراقی اور افغان جنگوں پر منعقد ہونے والی عوامی سماعتیں کہاں ہیں؟ یہ عوامی عدالتیں لگنی چاہئیں اور ان میں رچرڈ کلارک جیسے سرکاری افسر‘ سیاسی راہنما اور فوجی افسر اظہار خیال کرنے آئیں۔ان عوامی سماعتوں کا فائدہ یہ ہے کہ سبھی کے سامنے ایک معاملے کی خامیاں و خوبیاں سامنے آ جاتی ہیں۔ پھر غلطیوں سے سبق سیکھ کر اگلی بار بہتر عمل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن امریکا میں پچھلے بارہ سال سے حالیہ جنگوں میں کوئی عوامی سماعت منعقد نہیں ہوئی۔ بس امریکی حکومت سالانہ بجٹ پاس کر دیتی ہے اور اس پر کوئی عوامی بحث نہیں ہوتی۔

سوال: امریکیوں کی اکثریت یہ نہیں جانتی کہ ان کی حکومت ’’آپریشن اینڈ یورنگ فریڈم‘‘ کے نام سے جاری ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کو کئی ممالک میں پھیلا چکی۔ تاہم ان آپریشنوں کا خاص نشانہ ایشیائی اور عرب مسلمان ممالک ہیں۔ بہ حیثیت جرنیل کیا آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی دنیا اور مغرب کے مابین تہذیبوں کا تصادم جاری ہے؟
جواب: جی ہاں‘ امریکا و یورپی ممالک نے عالم اسلام میں جو جنگیں چھیڑ رکھی ہیں‘ وہ تشویش ناک بات ہے۔ کئی ماہرین ان جنگوں کو ’’صلیبی جنگیں‘‘ کہتے ہیں۔ یہی دیکھیے کہ امریکا نے افغانستان اور عراق میں جو جنگیں شروع کیں‘ ان کا نشانہ افغان و عراقی باشندے بھی بنے۔دوران جنگ ہماری کوشش رہی کہ شہری ہلاک نہ ہوں مگر دو وجوہ کی بنا پر ہم ناکام رہے۔ اول جدید ہتھیار بہت تباہ کن ہیں۔ دوسرے ہم یہ نہ جان سکے کہ شہری لباس میں ملبوس فرد جنگجو ہے یا نہیں؟ اس امر کی تمیز کرنا بہت کٹھن مرحلہ ہے۔
امریکی سیاسی وعسکری قیادت کا مسئلہ یہ ہے کہ اب تک وہ عالم اسلام میں اپنے حقیقی دشمن کو’’پن پوائنٹ‘‘ نہیں کر سکی۔ اسی لیے ہماری افواج کئی مقامات پر مختلف گروہوں کے پیچھے بھاگ رہی ہیں۔ مزید براں ہماری انٹیلی جنس کا بیشتر زور دفاع وطن پر ہے۔ یقیناً میں نہیں چاہتا کہ 9/11 جیسا کوئی اور حادثہ جنم لے۔ مگر ہم اپنی کمزور انٹیلی جنس کے باعث بھی دنیا میں اپنے دشمن پہچان نہیں پاتے۔

سوال: درج بالا سچائی کہنے کے لیے کیا آپ کا ریٹائرڈ ہونا ضروری تھا؟
جواب: بالکل نہیں‘ لیکن امریکا میں یہ روایت ہے کہ جرنیل اپنی سیاسی حکومت کے سامنے سرجھکا دیتے ہیں۔ میں بند دروازوں کے پیچھے منعقد ہونے والے کئی اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شریک ہو چکا۔ اس میں ہم جرنیل سیاست دانوں پہ اچھی خاصی تنقید کرتے ہیں۔ لیکن سیاست داں یا عوامی نمائندے جو فیصلہ کریں‘ وہ ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اور ہم جرنیلوں کی ذمہ داری ہے کہ اس فیصلے پہ جی جان سے عمل کریں۔اور کسی کو فیصلہ تسلیم نہیں‘ تو وہ رچرڈ کلارک کے مانند استعفیٰ دے کر گھر چلا جاتا ہے۔

سوال: بہ حیثیت فوجی افسر آپ کو کب محسوس ہوا کہ امریکی سیاسی و عسکری پالیسیاں غلط ہیں اور ان سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا؟
جواب: میں 2005ء کے موسم بہار میں عراق پہنچا۔ رفتہ رفتہ وہاں زمینی حقائق سے واقف ہوا۔ دشمن کی تلاش میں امریکی فوجی گھروں کی تلاشی لیتے۔ مارکیٹوں پہ چھاپے مارتے حتیٰ کہ اسپتالوں اور اسکولوں کی بھی چھان بین ہوتی۔یہ سعی لاحاصل تھی۔بالفرض آپ کو طارق نامی شخص کی تلاش ہے‘ تو بغداد یا موصل میں سیکڑوں طارق موجود ہیں۔ پھر امریکی فوجی عربی زبان سے بھی ناواقف تھے اور ترجمان کا سہارا لیتے۔ ان مسائل کے باعث مطلوبہ شخص کو ڈھونڈنا کٹھن کام بن جاتا۔مجھے تب احساس ہوا کہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کی فوج تو پولیس بن چکی۔اب اس کا کام یہ ہے کہ گھروں کی تلاشی لے اور تفتیش کرے۔ اسی حقیقت نے مجھے باور کرایا کہ ہماری عسکری پالیسیاں غلط ہیں۔ یہ وہ جنگ تو نہیں جسے لڑنے ہم عراق یا افغانستان پہنچے۔
میں سمجھتا ہوں، ہمیں صرف عراقی عوام کی مدد کرنا چاہیے تھی جو اپنے آمر حکمران سے نبرد آزما تھے۔ اسی طرح افغانستان میں بھی افغان راہنماؤں کو صف اول پہ رکھا جاتا۔ وہی طالبان سے معاہدے اور مذاکرات کرتے۔ ان دونوں ممالک میں مسائل بنیادی طور پر سیاسی تھے‘ مگر ہم نے انہیں اپنی افواج کے سپرد کر دیا۔ نتیجہ، دونوں ملکوں میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے جو اب تک بجھ نہیں سکے۔

سوال: امریکا نے عراق پر اس لیے حملہ کیا کہ وہاں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تباہ کر دے۔ حالانکہ یہ دعویٰ جھوٹ تھا؟
جواب: اسے مکمل جھوٹ نہیں کہا جا سکتا۔ صدام حسین نے کیمیائی ہتھیار ضرور تیار کرائے۔ پھر وہ بہت بڑا ڈکٹیٹر تھا۔ اس نے پڑوسی ممالک پر حملے کیے۔ کرد اور شیعہ اقوام کا جینا حرام کیے رکھا۔ لہٰذا وہ ایک بڑی مصیبت تو تھا۔

سوال: لیکن کیمیائی ہتھیار بنانے کی ٹیکنالوجی امریکا نے صدام حسین کو فراہم کی؟
جواب: یہ بات درست ہے۔ جب عراق‘ ایران جنگ جاری تھی‘ تو امریکا نے یہ ٹیکنالوجی صدام حسین کو دی تھی تاکہ وہ ایرانیوں کو شکست دے سکے۔

سوال: گویا ایران کے خلاف جنگ میں صدام حسین کو امریکا کی مدد حاصل رہی؟
جواب: جی ہاں‘ مگر کویت پر حملے نے اسے ہمارا دشمن بنا دیا۔ چناں چہ ہمیں صدام سے خلیجی جنگ (1991ء) لڑنا پڑی۔

سوال: مگر واقعہ 9/11 میں تو عراق کا کوئی کردار نہیں تھا۔ لیکن صدر بش جونیئر کی خواہش تھی کہ اس معاملے میں عراق کو بھی قصور وار ٹھہرایا جائے؟
جواب: جی ہاں‘ صدربش نے رچرڈ کلارک پر زور دیا کہ عراق کو بھی واقعہ 9/11 میں ملوث کرو۔ دراصل ہمیں افغانستان کے متعلق کم معلومات حاصل تھیں۔ جبکہ ہم عراقی جغرافیہ‘ تہذیب و تمدن وغیرہ سے زیادہ شناسائی رکھتے تھے۔

سوال: لیکن امریکا نے صرف صدام حسین ہی کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ عراق پہنچ کے عراقی حکومت اور فوج میں شامل ارکانِ بعث پارٹی کا بھی صفایا کر ڈالا۔ چنانچہ پورے ملک کا انتظامی ڈھانچا تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔ اسی حکمت عملی کے باعث آج عراق میں مضبوط حکومت نہیں رہی اور وہ ناکام ریاست کا روپ دھار چکا۔افغانستان میں بھی امریکا نے یہی انتہائی ناقص حکمت عملی اپنائی۔ امریکی افواج نے القاعدہ پر حملہ کیا تھا لیکن وہ طالبان سے مقابلہ کرنے لگیں…
جواب: جنہوں نے امریکا پر حملہ نہیں کیا تھا۔

سوال: جی بالکل‘ طالبان نے امریکا یہ کوئی حملہ نہیں کیا۔ آپ دونوں ممالک میں اس حکمت عملی کے نتائج پر روشنی ڈالیے؟
جواب:دراصل امریکی حکومت نے بعث پارٹی کو جرمنوں کی نازی پارٹی سے تشبیہہ دی۔ حالانکہ بعث پارٹی میں شامل سنی و شیعہ عرب تعلیم یافتہ و عاقل لوگ تھے۔ وہ پولیس‘ فوج اور انٹیلی جنس ہی نہیں اسپتال‘ اسکول‘ بجلی گھر‘ پانی کا نظام… گویا پورا نظام مملکت چلاتے تھے۔امریکی قیادت نے عراق پہنچتے ہی ان لوگوں کو حکومت سے نکال باہر کیا اور انہیں عضو معطل بنا دیا۔ عراق میں اسی اقدام سے خانہ جنگی کا بیج بویا گیا۔ داعش کے کئی جنگجو بعث پارٹی کے سابق رہنماؤں کے قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

عراقی نظام حکومت تباہ و برباد کرنے کا ایک اور بڑا نقصان یہ ہوا کہ معاشرے میں بے ترتیبی پھیل گئی۔ جو انتظامیہ شہریوں کو بجلی‘ پانی و پیٹرول فراہم کرتی تھی‘ سڑکوں کو صاف رکھتی اور انہیں دیگر سہولیات دیتی تھی‘ وہ نابود ہو گئی۔ چنانچہ عراقی تمدن زوال پذیر ہو گیا۔ سرجان کیگن برطانیہ کا مشہور جنگی مورخ گزرا ہے۔ اس نے عراقی جنگ پر اپنی کتاب میں لکھا ہے: ’’عراق پر قابض ہونے کے بعد امریکیوں کو چاہیے تھا کہ وہ سابق حکومت کے زیادہ سے زیادہ وزرا و مشیروں کو ساتھ ملا تے۔ یوں انہیں عراق میں صدام مخالف حکومت بنانے میں آسانی رہتی۔ لیکن انہوں نے حکومت کے سارے انتظامی انفراسٹرکچر کا تیا پانچا کر ڈالا۔ چناںچہ عراقی معاشرہ بھی شکست و ریخت کا شکار ہو گیا۔‘‘

اب بھی عراق کا مسئلہ وہاں کے باشندے مل بیٹھ کر ہی حل کر سکتے ہیں۔ امریکا ہو یا روس‘ کوئی بھی خصوصاً اسلحے کے بل یہ مسائل حل نہیں کر سکتا۔
اب افغانستان کی طرف آیئے۔ اسامہ بن لادن وہاں کا رہائشی تھا۔ اس کی تنظیم نے امریکا پر حملہ کیا۔ لیکن اس حملے میں طالبان براہ راست ملوث نہیں تھے۔ گو امریکا کے ساتھ ان کی کچھ چپقلش چل رہی تھی۔ مزید براں انتہا پسندی کے باعث بھی دنیا والے انہیں پسند نہیں کرتے تھے۔

سوال: واقعہ9/11 میں ملوث10 ہائی جیکروں میں سے15کا تعلق سعودی عرب سے تھا؟
جواب: جی ہاں کیونکہ القاعدہ عالمی تنظیم بن چکی تھی۔ خود اسامہ کا تعلق یمن سے تھا‘ گو اس کے والد سعودیہ میں کاروبار کرتے تھے۔تو امریکی قیادت نے افغانستان میں بھی طالبان کا قائم کردہ انتظامی ڈھانچا تباہ کر دیا اوراسے میدان جنگ بنا دیا۔

سوال: جنرل بلوگر، کیا یہ ممکن تھا کہ افغان و عراقی جنگیں جنم نہ لیتیں؟
جواب: ایک جنگ چھیڑنے سے قبل اس کی مخالفت ضرور ہوتی ہے۔1991ء کی خلیجی جنگ میں جنرل کولن پاول اس کے مخالف رہے۔ وہ ویت نام جنگ میں حصہ لے چکے تھے۔ لہٰذا اپنے تجربے کے بل بوتے پر انہوں نے واویلا مچایا کہ امریکی فوج بیرون ملک نہ بھیجی جائے تاہم ان کی آواز صدا البصحرا ثابت ہوئی۔ پھر 2002ء تک جنرل پاول کی آواز مزید کمزور پڑگئی۔

سوال: امریکی جرنیل میڈیا کے سامنے بہت کم آتے ہیں۔ اسی لیے صحافی جرنیلوں سے مختلف موضوعات پہ ان کی آرا نہیں لے پاتے۔ مثلاً ہمیں نہیں معلوم کہ جرنیل اور امریکی افواج کے ٹھیکے دار (Private military contractors) کس قسم کے تعلقات رکھتے ہیں؟ اور کیا جرنیل ٹھیکوں سے مالی فائدہ پاتے ہیں؟
جواب: میں کسی ملٹری کنٹریکٹر کو نہیں جانتا۔

سوال: ہم نے مجموعی طور پر بات کہی۔ یہ سننے میں تو آتا ہے کہ فلاں جرنیل بوئنگ کمپنی اور فلاں لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کے لیے کام کرتا ہے؟
جواب: اگر کوئی امریکی جرنیل یا فوجی افسر کسی عسکری کمپنی سے خفیہ تعلق رکھتا ہے، تو یہ غیر قانونی ہے۔ میڈیا کا فرض ہے کہ وہ ایسے چور کو بے نقاب کرے۔

سوال: پچھلے بارہ برس میں امریکی حکومت خصوصاً بیرون ممالک میں بہت سے عسکری معاملات نجی ملٹری ٹھیکے داروں کے سپرد کرچکی۔ خیال ہے کہ یہ ملٹری کنٹریکٹر مختلف حیلے بہانوں سے ان ملکوں میں جنگ و جدل کی آگ مزید بھڑکاتے ہیں کیونکہ مار دھاڑ بڑھنے سے ہی ان کا کاروبار بھی پھلتا پھولتا ہے۔
جواب: ملٹری ٹھیکے داروں کا یہ روپ خاصا خوفناک ہے اور یقینا اس پر بحث ہونی چاہیے ۔بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ امریکی حکومت ان ٹھیکے داروں کو عسکری معاملات کیوں سونپ رہی ہے؟ کیا امریکی افواج اتنی کمزور اور نااہل ہوچکیں کہ اپنے معاملات نہیں سنبھال سکتیں؟

افغان فوج بامقابلہ طالبان

افغانستان اور امریکہ کے دوستانہ معاہدے کی رو سے اب تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی سرزمینِ افغانان میں قیام کریں گے۔ افغان افواج کو تربیت اور مدد فراہم کرنا ان امریکی فوجیوں کی بنیادی ذمے داری ہوگی۔ گویا اب افغان افواج اور طالبان کے مابین اصل مقابلہ ہوگا۔

افغان افواج کی تعداد تقریباً ’’دو لاکھ‘‘ ہے۔ یہ جدید امریکی، برطانوی اور بھارتی اسلحے سے لیس ہے۔ طالبان کی فوج ’’60 ہزار‘‘ سپاہ پر مشتمل ہے۔ وہ چھوٹے ہتھیار زیادہ رکھتی ہے۔ گویا بظاہر افغان فوج کا پلّہ بھاری ہے۔ تاہم یہ فوج نسلی اختلافات اور جوش و جذبے میں کمی جیسے مسائل کا بھی شکار ہے۔

پچھلے سال جب عراق میں داعش کا عجوبہ رونما ہوا تو عراقی فوج ’’آٹھ لاکھ‘‘ فوجیوں پہ مشتمل تھی۔ امریکہ نے انہیں بھی جدید ہتھیار فراہم کررکھے تھے۔ مگر داعش کے صرف بیس پچیس ہزار جنگجوئوں نے اس طاقتور عراقی فوج کو کئی علاقوں سے مار بھگایا۔ گویا یہ قدیم روایت درست ثابت ہوئی کہ میدان میں جوش و جذبہ بھی بہت قدر و قیمت رکھتا ہے۔

افغان فوج کے 43 فیصد فوجی پشتون جبکہ بقیہ 57 فیصد غیر پشتون ہیں۔ غیر پشتونوں میں 32 فیصد فوجی تاجک، 12 فیصد ہزارہ، 10 فیصد ازبک اور 3 فیصد دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ گویا فوج میں غیر پشتون اکثریت میں ہیں۔

طالبان کی 99 فیصد سپاہ پشتونوں پر مشتمل ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جب افغان افواج اور طالبان کا صحیح معنوں میں مقابلہ ہوا، تو اول الذکر کے پشتون کس کا ساتھ دیں گے؟ اگر افغان فوج میں شامل پشتونوں کی اکثریت طالبان سے جاملی تو وہ قدرتاً طاقت ور ہوجائیں گے۔ دوسری صورت میں طالبان اتنے طاقتور نہیں کہ باقاعدہ فوج کی صورت کابل پر حملہ کرسکیں۔ گویا وہ بدستور چھاپہ مار جنگ کی تکنیک اپنائے رکھیں گے۔

فی الوقت افغانستان کے خصوصاً دیہی علاقوں میں طالبان کا اثرورسوخ زیادہ ہے۔تاہم شہروں کا کنٹرول افغان فوج نے سنبھال رکھا ہے۔امریکی افواج کی واپسی کے بعد دونوں میں خانہ جنگی چھڑ سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ڈینئل پی بولگر جنوری 1957ء میں پیدا ہوئے۔ 1978ء میں امریکی بری فوج کا حصہ بنے۔ جون 2005ء تا جون 2006ء عراق میں ’’ملٹی نیشنل سکیورٹی ٹرانزیشن کمانڈ‘‘ کے سربراہ رہے۔ یہی ادارہ عراقی فوج کو تربیت اور مسلح کرنے کا ذمے دار تھا۔ آپ نے طویل عرصہ عراق میں گزارا اور اہم عسکری عہدوں پر فائز رہے۔

2010ء میں امریکی فوج کے ڈپٹی چیف آف سٹاف بنائے گئے۔ 2011ء میں افغانستان میں کمبائنڈ ٹرانزیشن کمانڈ کے سربراہ بنائے گئے۔ اسی ملٹی نیشنل عسکری ادارے نے جدید افغان فوج کھڑی کی، افغان فوجیوں کو تربیت دی اور اسلحہ فراہم کیا۔ 2013ء میں اس عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے۔

جنرل بلوگر نے تاریخ میں پی ایچ ڈی کررکھی ہے۔ فی الوقت نارتھ کیرولینا سٹیٹ یونیورسٹی میں تاریخ پڑھاتے ہیں۔ لکھنے پڑھنے سے بھی دلچسپی ہے۔ عسکریات محبوب موضوع ہے۔ مختلف عسکری موضوعات پر اب تک آپ کی گیارہ کتب شائع ہوچکیں۔ ’’ہم کیوں ہارے؟‘‘ تازہ ترین کتاب ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔