مقامی منڈیوں میں ایرانی پھلوں کی بھرمار، پاکستانی زرعی شعبے کی مشکلات بڑھ گئیں

بزنس رپورٹر  پير 1 دسمبر 2014
ایرانی پھلوں کے لیے پاکستانی مارکیٹ کھلی ہوئی ہے لیکن خود ایران نے پاکستانی پھلوں بالخصوص ترش پھلوں پر بھاری ڈیوٹی عائد کررکھی ہے ۔ذرائع۔ فوٹو: فائل

ایرانی پھلوں کے لیے پاکستانی مارکیٹ کھلی ہوئی ہے لیکن خود ایران نے پاکستانی پھلوں بالخصوص ترش پھلوں پر بھاری ڈیوٹی عائد کررکھی ہے ۔ذرائع۔ فوٹو: فائل

کراچی: ایرانی پھلوں کی بھرمار سے پاکستان کی ہارٹی کلچر انڈسٹری کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں، ایران سے بڑے پیمانے پر انگور، سیب اور انار پاکستان میں ڈمپ کیا جارہا ہے جس کی قیمت مقامی پھلوں سے کم ہے۔

ایرانی پھلوں کی یلغار کے سبب پاکستانی فارمرز اور پھلوں کے آڑہتیوں کو نقصان کا سامنا ہے، زرعی شعبہ پہلے ہی بلند لاگت اور مختلف قسم کے موسمیاتی اثرات کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے، اب ایرانی پھلوں کی بڑھتی ہوئی درآمد نے پاکستانی پھلوں کے کاشتکاروں کو بحران سے دوچار کردیا ہے۔

سبزی منڈی کے ذرائع کے مطابق یومیہ بنیادوں پر ایرانی پھلوں کے کنٹینرز کراچی فروٹ منڈی میں لائے جارہے ہیں جن میں انگور، سیب اور انار سرفہرست ہیں۔ ایرانی پھلوں کی وجہ سے بیوپاریوں اور فارمرز کو پاکستانی پھل کم قیمت اور بعض اوقات لاگت سے بھی کم پر فروخت کرنا پڑ رہے ہیں۔ پاکستانی انار اور سیب کا سیزن عروج پر ہے اس کے باوجود بڑے پیمانے پر ایرانی پھل پاکستان لائے جارہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پھلوں کے لیے پاکستانی مارکیٹ کھلی ہوئی ہے لیکن خود ایران نے پاکستانی پھلوں بالخصوص ترش پھلوں پر بھاری ڈیوٹی عائد کررکھی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے ایران کو اپنے پھل فروخت کرنا مشکل ہورہا ہے، اس طرح پاکستان کو ایران کے ساتھ پھلوں کی تجارت میں خسارے کا سامنا ہے۔ زیادہ تر ایرانی پھل اسمگل کرکے پاکستان میں لائے جارہے ہیں جن کی قرنطینہ جانچ بھی نہیں کی جاتی۔ قرنطینہ جانچ نہ ہونے کی وجہ سے ایرانی پھل پاکستان میںزرعی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔