(پاکستان ایک نظر میں) - جیسی عوام ویسے حکمران

محمد نعیم  منگل 2 دسمبر 2014
بھائی یہ پاکستان ہے ایک دفعہ کسی چیز کی قیمت بڑھنے کے بعد کہاں کم ہوتی ہے۔ دکاندار کی یہ بات سننے کے بعد مجھے وہی بات یاد آگئی کہ جیسی عوام ہوتی ہے حکمران بھی ویسے ہی ہوتے ہیں۔ فوٹو: فائل

بھائی یہ پاکستان ہے ایک دفعہ کسی چیز کی قیمت بڑھنے کے بعد کہاں کم ہوتی ہے۔ دکاندار کی یہ بات سننے کے بعد مجھے وہی بات یاد آگئی کہ جیسی عوام ہوتی ہے حکمران بھی ویسے ہی ہوتے ہیں۔ فوٹو: فائل

بھائی ایک لیٹر دودھ اور آدھا کلو دھی دینا۔ کتنے پیسے ہو گئے دونوں چیزوں کے؟ ۔۔۔۔۔۔کیا!200وہ کیسے بھائی؟ دودھ دہی کی دکان پر میں حیران کھڑا دکاندار کا منہ دیکھ رہا تھا۔ میں نے دکاندار کی معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے کہا ، یہ تو پرانی قیمت ہے؟دکاندار بولا ہاں وہی قیمت ہے۔ کیوں اب قیمت کو کیا ہو گا۔ بھائی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تقریبا تیس دن میں دوبار کم ہو چکی ہیں۔ کیا اب بھی دودھ دہی اسی قیمت پر ملے گا؟

دکاندار نے پاکستان کے ایک ایسے اصول سے مجھ کو آگاہ کیا جو لکھا ہوا تو کہیں نہیں ۔ مگر لاگو سب جگہ ہوتا ہے۔ بولا! بھائی یہ پاکستان ہے ایک دفعہ کسی چیز کی قیمت بڑھنے کے بعد کہاں کم ہوتی ہے۔ دکاندار کی یہ بات سننے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ چند روز قبل جب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا تو میری طرح بہت سے غربت کے مارے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ اب روزہ مرہ استعمال کی چیزیں ہمارے بجٹ میں پوری ہو جائیں گی۔ نہ اب مہینے کے آخر میں کسی سے قرض لینا پڑے گا اور نہ دکاندار کی ادھار دینے کے لیے منت سماجت کرنی پڑے گی۔

لیکن پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کے باوجود ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی نہیں آسکی اور نہ ہی کسی محکمے کی جانب سے ایسے کرنے کے دور دور تک کوئی اثرات نظر آ رہے ہیں۔ پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے بجائے اپنی جیبیں بھرنے کے بڑے مگرمچھوں نے ہاتھ پاوں مارنے شروع کر دیئے ہیں، بعض نے مختلف اشیاء کی نرخ برقرار رکھنے کے لیے مختلف بہانے بھی تراشنے شروع کر دیئے ہیں جیسا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ساتھ توجیہ یہ پیش کی ہے کہ قیمتیں تو تب کم کریں گے جب ڈیزل کی قیمت اور کم ہو۔

گزشتہ برس ستمبر 2013میں جب پٹرولیم کی منصوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آٹا، دودھ، چائے، گھی، تیل اورتمام اشیائے خورونوش سمیت چھوٹی سے چھوٹی چیز کی قیمت میں کئی گناہ اضافہ کر دیا گیا تھا اور بہانہ یہ تھا کہ جی پٹرول مہنگا ہو گیا ہے۔ اور تو اور بسیں اور ویگنیں جن پر سفر عام آدمی کرتاہے ان کے کرایے کم کرنے کی بات کرو تو ٹرانسپورٹرزلڑنے پر آ جاتے ہیں کہ پٹرول اور ڈیزل سستا ہوا ہے سی این جی اور ایل پی جی تھوڑی سستی ہوئی ہے کہ کرایہ کم کر دیں۔ ہماری گاڑیاں تو سی این جی اور ایل پی جی پر چلتی ہیں۔

بس ہو رکشہ یا ٹیکسی اب یہ پیٹرول یا ڈیزل پر نہیں بلکہ سی این جی اور ایل پی جی پر چلائی جاتی ہیں۔حالانکہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے جب پٹرول مہنگا ہوا تھا تو اس وقت کرایہ بڑھا دیا تھا جبکہ اس وقت بھی شہر میں چلنے والی اکثر گاڑیاں سی این جی یا ایل پی جی پر چلتیں تھیں مگر اس وقت کیوں کہ ان کا مفاد تھا اس لیے انہوں نے لوگوں کو لاعلمی میں رکھتے ہوئے یہ اقدامات کیے۔ اور ظلم تو یہ ہے کہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ عوام سے کرائے ڈیزل اور پیٹرول کے حساب سے لیے جاتے ہیں، جبکہ گاڑیاں پٹرول یا ڈیزل پر چلا ہی نہیں رہے۔

یوں پٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کے باوجود مہنگائی کے بڑھتے ہوئے گراف پر نظر ڈالتے ہوئے ہم سوچیں تو ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا ہو گا کہ حکمرانوں سے زیادہ ہم خود اپنے دشمن ہیں۔ جس کا جتنا بس چلتا ہے وہ دوسرے کی کھال ادھیڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے حکومتی اقدامات کے باوجود عوام مہنگے داموں اشیائے خورونوش خریدنے پر مجبور ہیں تو بتائیں اس میں ناانصافی اور ظلم کون کر رہا ہے؟ تو پھر یہ ٹھیک ہی تو کہا گیا ہے کہ جیسی عوام ہونگے ویسے ہی حکمران ہونگے۔

اس ضمن میں حکومت اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ مہنگے داموں اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کروائیں۔ تاکہ حقیقی طور پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہونے کے فوائد عوام تک پہنچ سکیں۔

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

محمد نعیم

محمد نعیم

بلاگر کالم نگار اور رکن کراچی یونین آف جرنلسٹ ہیں۔ کراچی اپ ڈیٹس میں بحیثیت سب ایڈیٹر کام کررہے ہیں اور بلاگز کے ذریعے تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔ ٹوئٹر پررابطہ [email protected]

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔