کراچی میں ٹریفک جام ، ذمے دار کون؟

ایڈیٹوریل  بدھ 3 دسمبر 2014
 ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے منی پاکستان ایک جنگل ہے، اور ٹریفک کنٹرول کرنے کا روایتی تصوراور انداز تاحال نہیں بدلا جس کا نظارہ شہری آجکل کررہے ہیں۔  فوٹو : فائل

ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے منی پاکستان ایک جنگل ہے، اور ٹریفک کنٹرول کرنے کا روایتی تصوراور انداز تاحال نہیں بدلا جس کا نظارہ شہری آجکل کررہے ہیں۔ فوٹو : فائل

ایکسپو سینٹر میں جاری دفاعی نمائش ’’آئیڈیاز2014 ‘‘ کے لیے متبادل راستوں کے باوجود ٹریفک پولیس شہریوں کو سفری اذیتوں سے بچانے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے ،ایک طرف بیرون اور اندرون ملک سے آئے ہوئے مہمان پریشان رہے تو دوسری جانب لاکھوں شہری ٹریفک جام میں گھنٹوں پھنسے رہے، شارع فیصل ، یونیورسٹی روڈ، ایم اے جناح روڈ، عیسیٰ نگری، راشد منہاس روڈ، ڈالمیا اور اس کے اطراف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں ۔ ابھی نمائش مزید دو دن جاری رہے گی ۔

ٹریفک جام کی بدترین صورتحال پر شہری حلقوں کا کہنا تھا کہ پیر کو در اصل ’’یوم ٹریفک جام‘‘ کے طور پر منایا گیا۔ بلاشبہ ٹریفک پولیس شہرمیں ہونے والی تقاریب کی اہمیت کے تناسب سے انتظامات اور اقدامات کرنے کے معیار پر پوری نہیں اتر سکی جس کی ایک اہم وجہ ٹریفک کا فرسودہ نظام اور متبادل راستوں کے شیڈول کی غیر موثر مانیٹرنگ ہے جب کہ دنیا بھر میں ٹریفک پولیس کو اس ملک کے ٹرانسپورٹ اور ٹریفک نظام کے آئینے میں اس کے تمام بڑے شہریوں کی تہذیبی اور تمدنی صورت گری کا ذمے دار کہا جاتا ہے ۔یورپ میں آج بھی ٹریفک پولیس کا کردار اہم سمجھا جاتا ہے، شہریوں کو سفری دشواریوں سے بچانے کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے، راستے ٹریفک کی مستقل روانی کے لیے کھلے رکھے جاتے ہیں ۔

مگر یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے ۔ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے منی پاکستان ایک جنگل ہے، اور ٹریفک کنٹرول کرنے کا روایتی تصوراور انداز تاحال نہیں بدلا جس کا نظارہ شہری آجکل کررہے ہیں ۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ دو کروڑ کی شہر ی آبادی کے ایک بڑے حصے کے لیے ایک ایسے شاندار ایونٹ کے ٹریفک انتظامات ناقص پروگرامنگ اور پلاننگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ایسا اکثر ہوتا رہتا ہے ،کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔

چنانچہ ان ناقص انتظامات کے تکلیف دہ تجربات سے اتنا تو ہو کہ جو متبادل راستے باعث اذیت ثابت ہوئے آیندہ انھیں قابل دید انتظامات میں ڈھالا جائے ، خواتین، بچوں، بوڑھوں اور ایمبولینسز کو بلا روک ٹوک راستے ملنے چاہئیں اور دیگر ہلکی و بھاری گاڑیوں ، بسوں، کوچز اور موٹر سائیکلوں کے لیے شفاف ٹرانسپورٹ میکنزم وضع کیا جائے، بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کی روانی میں کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہیے۔ دفاعی نمائش میں وی آئی پی شخصیات کی ایک بڑی تعداد آرہی ہے،اور یہ لوگ آخر کیا سوچیں گے کہ ایک باوقار اور دنیا کے اہم ترین تجارتی اور کاروباری شہر میں ٹریفک کی یہ حالت زار ہے توباقی شہروں کا کیا حال ہوگا ۔امید کی جانی چاہیے کہ ارباب اختیار اس جانب توجہ دیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔