مزدور تحریک اور انتہا پسندی

ڈاکٹر توصیف احمد خان  منگل 2 دسمبر 2014
tauceeph@gmail.com

[email protected]

سوویت یونین کے خاتمے سے پوری دنیا میں مزدورطبقے کے حالات کارمتاثر ہوئے، فری مارکیٹ اکانومی نے سرمایہ دار طبقے کو ریاست پراپنی بالادستی قائم کرنے کا موقع دیا،  ریاست نے اپنے بنیادی فرائض مارکیٹ کے سپرد کردیے، اس طرح تعلیم صحت فروخت ہونے لگی اور گلوبلائزیشن نے ایک نئے معاشرے کو ترتیب دیا ، آئی ٹی ٹیکنالوجی نے فرد کی اہمیت کم کردی، اس نظام کے ذریعے مزدوروں کے بدترین استحصال کی بنیاد رکھی گئی ۔

مزدور اور متوسط طبقہ ملازمت کے تحفظ کے حقوق سے محروم ہوا، اپنی اور خاندان والوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے غیر سرکاری اسپتالوں سے رجوع کرنا پڑا، بچوں کی تعلیم مارکیٹ اکانومی سے محروم ہوگئی، مقابلے کے رجحان نے سرمایہ داروں کو اپنے دولت میں اضافے کے وسیع مواقعے فراہم کیے تو دوسری طرف ایک عام مزدور سے لے کر ڈاکٹر ، انجینئر، پروفیشنلز تک اپنے اور اہل خانہ کی معاشی ضروریات کی فراہمی کے بحران کا شکار ہوئے،گلوبلائزیشن نے مزدوروں سے اجتماعی جدوجہد کا حق چھین لیا،ایک منصوبے کے تحت ٹریڈ یونین کو بے اثر کیا گیا، یہ تجزیہ ساری زندگی جدوجہد کرنے والے مزدور رہنما شاہ نور کا ہے۔ شاہ نور نے اپنی زندگی کا آغاز مزدور کی حیثیت سے کیا تھا، وہ 1954 میں پاکستان آئے اور اوکاڑہ میں اپنے چچا کے گھر مقیم ہوئے،  وہاں ایک ٹیکسٹائل ملز میں ملازمت کرلی ، یہ ٹیکسٹائل ملز قیام پاکستان سے پہلے معروف ہندوستانی سرمایہ کار برلا گروپ نے قائم کی تھی ۔

ایک کمیونسٹ کارکن عبدالسلام کامریڈ ٹریڈ یونین کے رہنما تھے، شاہ نور پہلی دفعہ ٹریڈ یونین میں شامل ہوئے، انھیں سوشلزم کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں اور مزدور تحریک کے فوائد کا عمل ہوا ۔آخرکار شاہ نور کراچی آگئے اور لانڈھی میں ایک ٹیکسٹائل ملز میںملازمت کرلی، وہاں ایک ایسی یونین موجود تھی جو انتظامیہ کی آلہ کار تھی ، شاہ نور کی ملاقات لانڈھی کے مزدور رہنما ابن ایوب سے ہوئی انھوں نے اس مل میں ٹریڈ یونین بنانے کی کوشش کی مگر ملازمت سے فارغ کردیے گئے ، شاہ نور کا کہنا ہے کہ ایوب خان کا دور تھا جسے بھی قوانین تھے ان پر عمل درآمد ہوتا تھا ۔

سائٹ ایریا میں ملازمت تلاش کی وہ مزدور رہنما طفیل عباس کی مزدور مرکزی کمیٹی میں شامل ہوئے،معروف صحافی اور اس وقت کے مزدور رہنما واحد بشیر سے ٹریڈ یونین کے اسرار و رموز سیکھے ،متحدہ مزدور فیڈریشن میں شامل ہوئے یوں مزدوررہنماعثمان بلوچ سے رابطہ ہوا، شاہ نور نے70 کی دہائی میں سائٹ ایریا اور اطراف کی کچی آبادیوں میں ٹریڈ یونین کو منظم کیا۔ ان کچی آبادیوں میں جن میں پٹھان کالونی ، فرنٹیئر کالونی وغیرہ شامل تھے، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے پٹھان علاقو ں سے آکر آباد ہونے والوں کی اکثریت ان بستیوں میں آباد تھی یہ لوگ قبائلی معاشرے سے آکر کراچی میں آباد ہوئے تھے یوں اپنی روایات کو ساتھ لائے، شاہ نور، عثمان بلوچ، واحد بشیر،کرامت علی، بصیر نوید وغیرہ نے ان کو ایک سیکولر ادارہ ٹریڈ یونین میں سمو دیا، مزدور فیڈریشن نے 1972میں ایک جدوجہد منظم کی بھٹو حکومت نے پولیس کی طاقت کے ذریعے اس جدوجہد کو کچل دیا ، ٹرید یونین پر عملاََ پابندی لگی ، مزدور رہنماؤں کو قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑی ، کئی خاندان پنے کمانے والوں سے محروم ہوئے ۔

ہزاروں مزدوروں کو بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑا، شاہ نور کو ان کی خدمات کی بناء پر بائیں بازو کی سیاسی جماعت نیشنل ورکرز پارٹی کراچی کا سربراہ منتخب کیا ،انھوں نے پاکستان میں ہونے والی صنعتی ترقی اور مزدور تحریک کا تحقیقی مطالعہ کیا ، شاہ نور کے سامنے پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت نے 1972میں سائٹ اور لانڈھی کی مزدور تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلا اور بڑی صنعتیں ، بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کو قومی تحویل میں لیا ،بعض اداروں میں بیورو کریسی اور ٹریڈ یونین میں گٹھ جوڑ ہوا ۔

بعض اداروں میں ٹریڈ یونین نے جدوجہد کرکے مزدوروں کو بنیادی حقوق دلائے اور اپنے کارخانوں کی پیداوار میں حیرت انگیز اضافہ کیا ، شاہ نور مزدور تحریک کا صرف مزدوروں کے حالات کار کے حوالے سے تجزیہ نہیں کرتے بلکہ مزدور تحریک کے شہروں اور ملکی سیاست پر ہونے والے اثرات کا بھی جائزہ لیتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ 60 اور 70کی دہائی میں جب مزدور تحریک منظم تھی اور مزدور طبقہ سیاست میں کردار ادا کرتا تھا تو سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور میں ریاست کے فلاحی کردار کو شامل کرنا پڑا، مزدور تحریک کی دباؤ کی بناء پر جنرل یحییٰ خان نے جامع اصلاحات کی اور انڈسٹریل ریلیشن آرڈیننس 1969 نافذ ہوا ، ائیر مارشل نور خان نے مزدور اصلاحات تیار کی۔

اس آرڈیننس میں CBAسودا کار یونین کا تصور آیا تو ایک سے زیادہ مزدور یونین کے قیام کا جوازبنا ، مزدور رہنما اس شق کو ایک منفی شق قرار دے رہے ہیں ،اس مزدور تحریک کے دباؤ پر تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے منشور کو اس زرعی مزدور اصلاحات اور ریاست کی ذمے داری سے متعلق شق شامل کی ۔ یہ مزدور تحریک کا اثر تھا کہ جماعت اسلامی جو سرمایہ داروں کی حامی تھی اور ذاتی ملکیت کو ایمان قراردے دیتی تھی ، مزدوروں ، کسانوں اور طلباء کے لیے اصلاحات کا مطالبہ کرنے لگی ۔

شاہ نور کا کہنا ہے کہ 70 کی دہائی تک کراچی میں ترقی پسند سیاست کا غلبہ رہا،اس کی بنیادی وجہ مزدور تحریک کا فعال ہونا اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا متحرک ہونا تھا ، شاہ نور کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے اس ترقی پسند ماحول سے فائدہ اٹھایا اور جب مزدور تحریک کو کچلا تو اپنا مستقبل تاریک کرلیا ، شاہ نور کہتے ہیں کہ سائٹ کے علاقے میں متحدہ فیڈریشن کو کمزور کیا گیا تو مذہبی جماعتوں کو ان علاقوں میں کام کرنے کا موقع ملا پھر یہ علاقے پی این اے کی تحریک کا مرکز بن گئے، جنرل ضیا ء الحق کے دور میں یہاں سے نوجوانوں کو جہاد کے لیے افغانستان لے جایا گیا اور اب جہادی تنظیموں نے جہاں اپنی کمین گاہیں قائم کرلی ہیں۔

شاہ نور کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے صنعتی اداروں کو قومیالیا توان کو بیوروکریسی کے حوالے کردیا۔ یوں بیورو کریسی نے بدعنوانیاں کی جس کی وجہ سے سیاسی مداخلت شروع ہوئی ، ان اداروں میںمیرٹ کے بجائے سفارش پر تقرر ہونے لگے اس طرح ان اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی ۔شاہ نور کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ایک ٹیکسٹائل ملزجو مالیاتی بحران کا شکار ہے اگر اس کا اندرونی نظام مزدور یونین کے حوالے سے کیاجائے اورمارکیٹنگ کے لیے پروفیشنلز کا تقرر کیا جائے تو وہ پیدا وار میں 20فیصد اضافے کی گارنٹی دے سکتے ہیں، شاہ نور کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی ایک طرف تو پرائیوئٹائزیشن کی مخالفت کررہی ہے تو دوسری طرف ان کے حکومت نے پرائیویٹائزیشن کی وزارت قائم کی تھی۔

پیپلز پارٹی نے سیاسی بنیادوں پر ان اداروں میں بھرتیاں کرکے غیر حاضر عملے کے ادارہ کو تقویت دے کر مزدور تحریک کو نقصان پہنچایا ، وہ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ، تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور مذہبی جماعتیں مزدوروں کی خیر خواہ نہیں ہیں، شاہ نور کہتے ہیں کہ کسی بھی ادارے میں کام کرنے والا مزدور ہو یا ان کا رہنما اس کو ہر صورت میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض ایمانداری سے  انجام دینے چاہیے ، وہ کہتے ہیں کہ سرکاری شعبے کے اداروں میں شفافیت کا معیار بلند ہونا چاہیے اور احتساب کا خود کار نظام ہونا چاہیے یوں مزدور محنت سے فرائض انجام دینے سے اور ادارے ترقی کرنے سے ملک سے بے روزگاری کے خاتمہ ممکن ہے۔

سرکاری اور نجی شعبے میں کارخانے قائم ہونے چاہیے، شاہ نور پاکستان اور بھارت کی دوستی کو غربت اور افلاس کے خاتمے کے لیے لازمی سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس دوستی کے ذریعے ہم دفاعی اخراجات کم کرسکتے ہیں اور یہ رقم عوام کی ترقی پر خرچ کرسکتی ہے ۔ دہشت گردی سے عام آدمی کی زندگی کو اجیرن کردیا ہے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مدرسوں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کے نصاب میں تبدیلی ضروری ہے ۔ مزدور تحریک کو فعال کرکے مزدوروں میں شعور پیدا کیا جاسکتا ہے مزدور تحریک ہی لوگوں کو باشعور کرسکتی ہے ، کیونکہ ایک سیکولر ریاست ہی عوام کا تحفظ کرسکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔