ترقیاتی منصوبے اور ہمارے رویے

ڈاکٹر منصور نورانی  منگل 2 دسمبر 2014
mnoorani08@gmail.com

[email protected]

مغل بادشاہ شاہجہاں نے اپنی تیسری بیوی ممتاز محل سے محبت کی یاد میں ہندوستان کے شہر آگرہ میں مشہور و معروف تاج محل بنوایا تھا۔ جو 1632ء سے شروع ہو کر 1653ء میں جا کر تقریبا 21 سالوں میں مکمل ہوا۔ اِس کا شمار دنیا کے سات عجائبات میں ہوتا ہے۔ تین سو سال گزر جانے کے باوجود وہاں کے لوگوں نے اُسے اپنا قومی اثاثہ سمجھ کر بڑی حفاظت کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔ انتہا پسندی اور مذہبی تعصب کے روا دار ہو کر اُسے نیست و نابود نہیں کر دیا۔

گرچہ ہماری طرح وہاں بھی مذہبی انتہاپسندی کا پرچار کرنے والے کئی شدت پسند جماعتیں اور گروہ موجود ہیں جو ہندو مسلم فرقوں کے درمیان اشتعال اور نفرت کی آگ کو بھڑکانے میں مسلسل مصروفِ رہتے ہیں۔ لیکن کسی نے بھی اب تک اِس عمارت کو مذہبی منافرت کی بنیاد پر مسمار کر دینے کے لیے کوئی فساد برپا نہیں کیا۔ بلکہ اُسے اپنے ملک کی ایک تاریخی یاد گار کی حیثیت میں ممتاز و مقدم جانا۔ یہی عمارت اگر ہماری سرزمین پر کسی غیر مسلم حکمراں نے تخلیق کی ہوتی تو شاید یہ ابھی تک اِس حال میں بھی نہ رہتی۔

ہمارے یہاں تو ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو بانیِ پاکستان کے مزار کو بھی غیر ضروری اور بے مقصد قرار دے کر اُس کے بنائے جانے کی شدید مخالفت کرتے رہے ہیں کہ ایک مقبرے کے لیے اتنی بڑی زمین الاٹ کر دی گئی جس پر ہزاروں غریبوں کو بسایا جا سکتا تھا۔ حالانکہ جس شخصیت کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یہ بنایا گیا تھا اُس کے اِس قوم پر بڑے احسانات ہیں۔ اُس نے ہمیں سر چھپانے کے لیے ایک علیحدہ وطن لے کر دیا اور اپنے لیے کچھ نہیں مانگا۔ اُس بے لوث اور پُر خلوص شخصیت کی یاد میں اگر ہم نے صرف ایک مقبرہ بنا دیا تو کیا احسان کیا۔ غریبوں کو بسانے کے لیے تو سار ا ملک پڑا ہے۔

صرف شہر کراچی میں کیماڑی سے لے کر نیو کراچی اور مہاجر کیمپ سے لے کر قائد آباد تک ہر طرف غریبوں کی بستیاں ہی تو آباد ہیں۔ اِن بستیوں کے بیچ اگر ایک دلکش اور خوب صورت عمارت تعمیر کر دی گئی تو اِس میں فضول خرچی کا عنصر کہاں سے شامل ہو گیا۔ دنیا میں اپنے شہروں کو خوب صورت بنانے کے لیے لوگ کیسی کیسی یادگاریں بنایا کر تے ہیں۔ جنھیں دیکھنے کے لیے سیاح دور دور سے آیا کرتے ہیں۔ قومیں اپنے محسنوں کے لیے کیا کچھ نہیں کرتیں۔ ہم نے تو بس ایک مقبرہ ہی اُس کے نام کیا ہے۔

اپنے وطن کی ہر چیز پر اعتراض کرنے اور دوسروں کی ہر چیز کی تعریفیں کرنے والے ہمارے یہاں ہزاروں ملیں گے۔ اِسی طرح جب موٹر وے بنایا جا رہا تھا تو بھی اِسی قسم کا شور مچا یا گیا تھا۔ اِسے بھی ایک غیر ضروری فضول خرچی کہہ کر بھر پور مخالفت کی گئی تھی۔ یورپ اور امریکا کے قصیدے پڑھنے والے اپنے یہاں تعمیر و ترقی کے منصوبوں کی مخالفت میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے ہیں۔ موٹر وے کی اہمیت و افایت کے معترف ہونے کے بجائے اُس کی مخالفت میں دلائل کے انبار لگا دیے گئے۔

آج پندرہ برس کے بعد اُنہیں شاید یہ احساس ہو چکا ہو گا کہ یہ نئے اور جدید زمانے کی اہم ضرورتوں میں سے ایک ہے۔ اِس طرح کی راہداریاں ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہوا کرتی ہیں۔ خوشحالی کی منزلوں کا حصول اِن شاہراہوں کی تعمیر کے بغیر ناممکن ہے۔ سب سے بڑھ کر اِس پر سفر کرنے والوں کو اِس کے خوبصورتی اور دلکشی کا احساس اُن کے اندر اپنے وطن سے محبت کو مزید اُجاگر کرتا ہے۔

اِسی طرح آج میٹرو بس سروس بھی ترقی و خوشحالی کی ایک علامت بن کر ہمارے دلوں کو مسرور و مسحور کر رہی ہوتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ابھی تک ہمارے یہاں سے غربت و افلاس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو پایا ہے لیکن اُس کے انتظار میں ہم ترقی کے دیگر ذرایع اپنے لیے بند نہیں کر سکتے ہیں۔ ہندوستان میں مفلسی اور غریبی ہماری نسبت کہیں زیادہ ہے۔ لیکن اُس نے ایٹم بم بھی بنایا اور میٹرو بس سروس بھی شروع کی مگر وہاں حکومت کے مخالفوں نے اتنا شور نہیں مچایا جتنا ہمارے یہاں عام طور سے تعمیر و ترقی کے ہر نئے منصوبے پر مچایا جاتا ہے۔

کوئی بندرگا ہ بنانی ہو یا کوئی ڈیم، کوئی شاہراہ بنانی ہو یا بلٹ ٹرین ہر جانب سے اُس کی مخالفت شروع کر دی جاتی ہے۔ پرویز مشرف نے جب اِس ملک کے تمام لوگوں کے ہاتھوں میں موبائل فون پکڑا دیے اور بینکوں سے قرضوں کے عوض موٹر سائیکلیں دلوا دیں تو کسی نے یہ نہیں کہا کہ ابھی تو لوگوں کو پینے کا صاف پانی اور دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے آپ موبائل فون پکڑا رہے ہیں۔ بلکہ پرویز مشرف تو ہر شخص کے پاس موبائل فون اور موٹر سائیکل کو اپنے دور کی کامیابی اور خوشحالی گردانہ کرتے تھے۔ اور اکثر کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں اب غریبی کہاں باقی رہی ہے۔ ہر شخص تو لیز پرگاڑیاں اور موٹر سائیکلیں خرید رہا ہے اور ہر فرد کے ہاتھوں میں پانچ پانچ ہزار اور دس دس ہزار کے موبائل فون موجود ہیں۔

پاکستان کے ایٹمی قوت بن جانے پر بھی ہمارے کچھ لوگوں کو اِس قسم کا اعتراض رہا ہے کہ ملک سے ابھی غربت تو ختم نہیں ہوئی۔ دنیا بھر میں کشکول لے کر بھیک مانگتے پھرتے ہو اور ایٹم بم بنا بیٹھے ہو۔ ملک سنبھالا نہیں جا رہا، ایٹم بم اپنی حفاظت کے لیے بنا تھا اب خود اُس کی حفاظت کے لالے پڑے ہوئے۔ یہ سوچ اور یہ اندازِ فکر ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہم جانتے بوجھتے اِس حقیقت سے انحراف کرتے ہیں کہ ایک اسلامی ملک ہونے کے ناتے ہمارا ایٹم بم کِن عالمی طاقتوں کی نظروں میں کھٹکتا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کی ایٹمی صلاحیت کو کسی جانب سے کوئی خطرہ نہیں ہے جب کہ ہماری نیوکلیر صلاحیت کو پہلے دن ہی سے خطرات کا سامنا ہے۔ لہذا اُس کی حفاظت بھی اُتنی ہی ضروری ہے جتنی ہمارے اپنے وطن کی۔ اگر کبھی دشمن کی گندی نظریں اُس تک پہنچ گئیں تو یہی تبصرہ نگار ہماری اِس غفلت پر ہمیں ہی لعن و طعن کر رہے ہونگے۔

میٹرو بس سروس کو جنگلا بس کہنے والے ابھی تک اُس میں خامیاں تلاش نہیں کر پائے، سوائے اِس کے کہ اِس کے کرایوں پر سبسڈی دی جانے کی وجہ سے سالانہ ڈیرھ ارب روپے کا مالی خسارہ پنجاب حکومت کو اُٹھانا پڑ رہا ہے۔ لیکن کیا وہ نہیں جانتے کہ کرائے پر سبسڈی کا فائدہ اِس ملک کے متوسط اور غریب لوگوں ہی کو تو پہنچ رہا ہے۔ اگر عوام کا پیسہ عوام کو ایک باعزت، اچھی اور آرام دہ سواری کی صورت میں واپس مل رہا ہے تو اِس میں حرج ہی کیا ہے۔

یہ خسارہ سوئٹزرلینڈ کی بینکوں میں پڑے اُن خزانوں سے کہیں درجہ بہتر ہے جو غبن اور کرپشن کر کے یہاں سے منتقل کر دیے گئے۔ میٹرو بس سروس کا منصوبہ اگر اتنا ہی فضول اور نقصان دہ ہے تو آج دیگر شہروں کے لوگ اُس کی تمنّا کرتے کیوں دکھائی دیتے ہیں۔ بڑے بڑے شہروں میں کشادہ سڑکیں اور اعلیٰ ٹرانسپورٹ سسٹم وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فرسودہ اور پرانا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم تقریباً ناکارہ ہو چکا ہے۔ ہم کب تک اپنے شہریوں کو جانوروں کی طرح ٹوٹی پھوٹی سواریوں، رکشاؤں اور ویگنوں میں سفر کرنے پر مجبور کرتے رہیں گے۔ اگر آج کسی نے اچھی کوشش کی ہے تو اُسے سراہنے کی بجائے اُس پر ہر طرف سے تنقید کے تیر برسائے جانے لگتے ہیں۔

ایسی بے ہنگم اور بے مقصد تنقید کہ جس کا کوئی سر پیر نہ ہو۔ کچھ نہ ملے تو بس یہ کہا جائے کہ اِس کی تعمیر پر ہونے والی لاگت اصل لاگت سے کہیں زیادہ ہے۔ ثبوت مانگا جائے تو آئیں بائیں شائیں۔ ہمارے اِسی طرزِ عمل نے ہمیں دنیا میں آگے بڑھنے سے روکے رکھا ہے۔ ہم کب تک اپنی ترقی کی راہ میں خود روڑے اٹکاتے رہیں گے۔ ایک طرف ہم اپنا موازنہ دیگر پڑوسی ممالک کی تیز رفتار ترقی سے کرتے ہیں اور دوسری جانب اپنے ہی ترقی و خوشحالی کے منصوبوں کی بیخ کنی کرتے رہتے ہیں۔ ہمارا یہ دوغلا پن ہی ہماری اصل کمزوری ہے۔

ہمیں اپنے رویوں اور اندازِفکر کو بدلنا ہو گا۔ زمینی حقائق کیا کہتے ہیں۔ اُس کا فہم و ادراک وقت کی اہم ضرورت ہے۔65 سال کسی قوم کی ترقی کے لیے کم نہیں ہوا کرتے۔ لمبی لمبی باتیں کر کے اور ٹی وی ٹاک شوز میں دانش و ذہانت اور عقل و شعور بھگارتے ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اگر مزید دیر کر دی تو شاید پھر ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔