پاک بھارت تجارت بڑھنے کے آثار نہیں، خرم دستگیر

بزنس رپورٹر  بدھ 3 دسمبر 2014
آئی ایم ایف سے چھٹکارہ برآمدات بڑھنے سے ممکن ہے، آئندہ ماہ ایکسپورٹرز کو سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کے بعد زیرو ریٹنگ بھی شروع ہو جائیگی، وفاقی وزیر تجارت۔ فوٹو: این این آئی/فائل

آئی ایم ایف سے چھٹکارہ برآمدات بڑھنے سے ممکن ہے، آئندہ ماہ ایکسپورٹرز کو سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کے بعد زیرو ریٹنگ بھی شروع ہو جائیگی، وفاقی وزیر تجارت۔ فوٹو: این این آئی/فائل

کراچی: وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے اہمیت نہیں دی گئی، دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بہتر ہونے سے ہی تجارت بڑھ سکے گی فی الحال اس کے آثار نہیں ہیں۔

بیرون ملک تعینات کمرشل قونصلرز کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے، موجودہ کمرشل قونصلرز کو سابق حکومت نے 2 سال کے کنٹریکٹ پر بھیجا تھا لیکن اب ان کی مدت ختم ہورہی ہے، اس لیے آئندہ سال 2015 میں نئے کمرشل قونصلرز تعینات کریں گے اور ان کا باقاعدہ انٹرویو لیا جائے گا تاکہ یہ جائزہ لیا جاسکے کہ وہ نئی مارکیٹوں کی تلاش میں کس حد تک معاون ثابت ہوں گے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہارگزشتہ روز پی ایچ ایم اے ہاؤس میں پاکستان اپیرل فورم کے عہدیداران سے ملاقات میں اپنے خطاب میں کیا، پی ایچ ایم اے میں زبیرموتی والا، پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی، اعجاز کھوکھر، جنید ماکڈا، رفیق گوڈیل، مہتاب چاؤلہ، نقی باڑی، مزمل حسین، اسلم کارساز اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔

وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا کہ جی ایس پی پلس میں پاکستان نے جو27 کنونشنز سائن کیے تھے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے، جی ایس پی پلس کے نتائج حوصلہ افزا ہیں اور یورپی یونین کے اعداد وشمار کے مطابق 31 اگست 2014 تک 8 ماہ میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 18 فیصد اضافی برآمدات ہوئیں جو 77 کروڑ ڈالر تھیں اور ان میں نمایاں حصہ ٹیکسٹائل، لیدر، فٹ ویئر کا رہا ہے، قوی امید ہے کہ ہم پہلے ایک سال میں یورپی یونین کو 1 ارب ڈالر تک اضافی برآمدات کرنے میں کامیاب رہیں گے، جی ایس پی پلس 2 سال کے لیے نہیں بلکہ 10 سال کے لیے ہمیں ملا ہے اور ابھی 9 سال اور ایک ماہ باقی ہیں، اگر ہم اپنے اندرونی معاملات حل کرلیں تو ہمیں زیادہ کامیابی مل سکتی ہے۔

وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ آئی ایم ایف سے چھٹکارہ صرف ایکسپورٹ بڑھانے سے ہی ممکن ہے، یہ کسی کی غلط فہمی ہے کہ آئی ایم ایف ہمیں کوئی کام کرنے سے روکتا ہے، ایکسپورٹرز کو وزارت تجارت سے شکایات کم اور ایف بی آر، کسٹمز، وزارت پانی وبجلی سے شکایات زیادہ ہیں اور جب تک پوری حکومت ایک ساتھ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور دیگر سیکٹرز کی ایکسپورٹ بڑھانے کی کوشش نہ کرے اس وقت تک ایکسپورٹ نہیں بڑھ سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ تک ایکسپورٹرز کو سیلزٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی ہونے کے بعد زیروریٹنگ بھی شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ دوسرے فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے2) کا آغاز نہیں کیا گیا کیونکہ پہلے ایف ٹی اے کے تحت دوطرفہ تجارت کا بیلنس میں آنا ضروری ہے، دوطرفہ تجارت متوازن ہونے کے بعد ہی چین کے ساتھ ایف ٹی اے 2 کا آغاز ہوسکے گا، چین ہمارا دوست ضرور ہے مگر ہمارے لیے تجارت اور ملک کا مفاد عزیز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لینڈ پورٹ اتھارٹی کا ڈیزائن تیار ہے، واہگہ و چمن پر ڈرائی پورٹس پر 21ویں صدی کا جدید کسٹم نظام ہوگا تاکہ تجارت بڑھ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تجارت میں تعطل ضرور آیا ہے مگر افغانستان سے تجارت بڑھنے میں پیشرفت ہوئی ہے، بھارت کے ساتھ جب تک سفارتی تعلقات بہتر نہیں ہوں گے تب تک تجارت بڑھنا مشکل ہے، پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے درمیان زمینی راستہ بننے سے وسطی ایشیا تک رسائی ہوسکے گی، ہم ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ پر کام کررہے ہیں، انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کنونشن پر جلد دستخط کیے جائیں گے۔

انجینئر خرم دستگیرخان نے بتایا کہ ٹی ڈی اے پی کے ہیومن ریسورس اور فنانس قوانین منظور کرلیے گئے ہیں، تمام عارضی ملازمین کو کنفرم کر دیا گیا ہے، ٹی ڈی اے پی فعال ہوگی تو ایکسپورٹ بڑھے گی، یہ ہمارا چیلنج ہے کہ محنت سے وزیراعظم میاں نوازشریف کو 50 ارب ڈالر ایکسپورٹ کا تحفہ دیں گے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کی تمام بندرگاہوں پر ای ڈی ایف کے فنڈ سے اسکینرز لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی استحکام سے ہی ملکی معاشی استحکام جڑا ہوا ہے، دھرنوں نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا اور پاکستان 2 سال پیچھے چلا گیا، غیرملکی خریداروں نے دوسرے ملکوں کا رخ کرلیا، جمہوریت میں اختلاف رائے کو ہم تسلیم کرتے ہیں مگر تمام مسائل کے لیے پارلیمنٹ موجود ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔