حصص مارکیٹ میں تیزی کا تسلسل، مزید 192 پوائنٹس کا اضافہ

بزنس رپورٹر  جمعرات 4 دسمبر 2014
اروباری حجم میں 25.13 فیصد کا اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر 42 کروڑ 27 لاکھ 44 ہزار 920 حصص کا لین دین ہوا۔  فوٹو: اے ایف پی/فائل

اروباری حجم میں 25.13 فیصد کا اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر 42 کروڑ 27 لاکھ 44 ہزار 920 حصص کا لین دین ہوا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

کراچی: کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو بھی کاروبار میں تیزی کا تسلسل قائم رہا اور 55 فیصد حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا، کاروباری ہفتے کے تیسرے دن کاروبار میں تیزی کے سبب کے ایس ای 100 انڈیکس کی بیک وقت 2 نفسیاتی حدیں 31700 اور 31800 بحال ہوگئیں۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی رفتار سست ہونے سے سرمایہ کاروں کو شرح سود میں مزید کمی کی توقع ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ میں سرگرم نظر آئے اور انہوں نے بڑے پیمانے پر حصص کی خریداری کی اور اسی وجہ سے مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی، بدھ کو زبردست تیزی کی وجہ سے مارکیٹ سرمائے میں 40 ارب 70 کروڑ 52 لاکھ 75 ہزار 534 روپے کا اضافہ کا اضافہ ہوا اور کاروباری حجم منگل کے مقابلے میں 25.13 زائد رہا۔

بدھ کو سرمایہ کاروں کی جانب سے سیمنٹ، فرٹیلائزر، بینکنگ، توانائی، ٹیلی کام اور دیگر شعبوں میں خریداری کے باعث کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای 100 انڈیکس 31932 پوائنٹس کی سطح پر بھی دیکھا گیا لیکن پرافٹ ٹیکنگ کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس مذکورہ سطح پر برقرار نہ رکھ سکا البتہ کاروبار کے پورے دورانیے میں مارکیٹ مثبت زون میں رہی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 192.01 پوائنٹس کے اضافے سے 31872.73 پوائنٹس پر بند ہوا، کے ایس ای 30 انڈیکس 134.03 پوائنٹس بڑھ کر 20770.20 پوائنٹس، کے ایم آئی 30 انڈیکس 355.27 پوائنٹس کے اضافے سے 51010.08 جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 128.54 پوائنٹس بڑھ کر 23068.90 پر بند ہوا، بدھ کو کاروباری حجم میں 25.13 فیصد کا اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر 42 کروڑ 27 لاکھ 44 ہزار 920 حصص کا لین دین ہوا۔

منگل کو33 کروڑ 78 لاکھ 17 ہزار750 حصص کے سودے ہوئے تھے، کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ 408 کمپنیوں کے حصص تک وسیع ہوگیا جن میں سے 224 کمپنیوں کے حصص کے بھائو میں اضافہ، 161 کمپنیوں کے حصص کے دام میں کمی جبکہ 23 کمپنیوں کے حصص کے نرخ میں استحکام رہا، مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ 40 ارب 70 کروڑ 52 لاکھ 75 ہزار 534 روپے کے اضافے سے 72 کھرب 65ارب 30 کروڑ 83 لاکھ 10 ہزار 698 روپے تک پہنچ گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔