(بات کچھ اِدھر اُدھر کی) - میں بکاؤ نہیں

شاہ فیصل نعیم  جمعرات 4 دسمبر 2014
وہ باغی ہے اُن دنیا والوں کے لئے جو لڑکیوں کو بکاؤ مال سمجھتے ہیں!۔ فوٹو رائٹرز

وہ باغی ہے اُن دنیا والوں کے لئے جو لڑکیوں کو بکاؤ مال سمجھتے ہیں!۔ فوٹو رائٹرز

وہ اب قدرے نحیف و لاغر  نظر آنے لگی ہے، بالوں میں اُترتی سفیدی، ہلکی سیاہ رنگت، چال میں لڑکھڑاہٹ، قدرے اندر دھنسی ہوئی نشیلی آنکھیں، چہرے پہ پڑے داغ دھبے اور جھائیاں زمانے کی شکست و ریخت کے ساتھ گزرتی عمر کا بھی پتا دیتی ہیں۔ جوانی کے کچھ آثار ابھی باقی ہیں جیسے غروب ِآفتاب کے بعد شفق پر ہلکی ہلکی سُرخی پھیل جاتی ہے بالکل ویسے ہی ۔

میرا اُس سے کافی پُرانا تعلق ہے زندگی کی بہت سی بہاریاں اسی کے سنگ ہی تو دیکھی ہیں۔ وہ میرے پاس بیٹھی ہوئی تھی، میرا دل چاہا کہ میں اس سے کچھ پوچھوں اس کی گزری، گزرتی اور گزرنے والی زندگی کے بارے میں ،اس کی چاہتوں کے بارے میں۔

آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟ آخر آپ زندگی سے چاہتی کیا ہیں؟ اور آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟

میں نے ایک ہی بار میں کئی سوالات کر ڈالے، وہ میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی؛

اریان! میری کوئی بڑی خواہش نہیں، میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ میرےہوتے  ہوئے میرے بہن بھائیوں اور گھر والوں کو ہر سہولت میسر ہو اور اُس کی فراہمی کے لئے میں اپنی ساری زندگی محنت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ بس اتنی سی چاہت ہےزندگی سے اس سے زیادہ کچھ نہیں، اور جہاں تک شادی کا تعلق ہے تو اب اس بندھن میں بندھنے کو دل نہیں کرتا۔

ایک لڑکی کہہ رہی تھی کہ اُسے زندگی گزارنے کے لئے کوئی ہم رنگ نہیں چاہیے۔ میں یہ الفاظ میں پہلے بھی سن چکا ہوں لیکن کب؟ کہاں ؟ کس سے اور کیوں؟

ماضی میں جھانکتا ہوں تو کچھ دھندلاتے ہوئے منظر دکھائی دیتے ہیں۔ دس پندرہ برس قبل گزرے وقت کی کچھ پرچھائیاں نظر آتی ہیں۔ یہ گوجرانوالہ کے قرب و نواح کاایک گاؤں ہے، آبادی کوئی خاص نہیں ، مٹی سے بنے کچے مکان لوگوں کا مسکن ہیں جو کہیں کہیں نظر آتے ہیں، دور دور تک پھیلے ہوئے کھیت کھلیان ، لہلاتی ہوئی فصلیں، محنت و مشقت سے زمین کا سینہ چیرتے ہوئے کسان،  سڑک کا کوئی نام و نشان نہیں، ہاں گاؤں میں چھوٹے چھوٹے کچے بازار ضرور ہیں، جب بارش برستی ہے تو یہی بازار گارے میں بدل جاتے ہیں جسے بعد میں لوگ گھروں کی لپائی کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں ۔ الیکشن کا دور چل رہا ہے اور جگہ جگہ آویزاں پوسڑوں پہ لکھا ہوا ہے؛

’’آپ ہمیں ووٹ دیں ہم آپ کو پکی سڑکیں اور گیس دیں گے‘‘

گاؤں میں داخل ہوتے ہی دائیں جانب کے پہلے چار گھر چھوڑ کر پانچواں گھر اُس کا ہے۔ میں بازار  میں کھڑا دوستوں سے گپیں ہانک رہا ہوں اتنے میں وہ مجھے آواز دیتی ہے،

“اریان! کیا کررہے ہوباہر؟ جلدی آؤ ناشتہ کرو، اسکول سے دیر ہو رہی ہے “۔

شہرچھوڑ کر گاؤں میں خالہ کے پاس گیا تھا کہ یہاں پڑھنا نہیں پڑے گا مگر شومئی  قسمت یہاں بھی اسکول اور وہی بے کیف کتابیں میری منتظر تھیں، یہاں بھی پڑھائی میں کوئی دل نہیں لگتا تھا ۔ ہاں جن چیزوں میں دل لگتا تھا اُن میں بکریاں چروانے جانا، جامن اور بیر توڑنے جانا اور  رات گئے تک دوستوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنا شامل تھا۔ مگر اُسے میری ہی نہیں ہر کسی کی بہتری مقصود تھی، یہ میرے بچپن کی باتیں ہیں جب مجھے یہ بھی نہیں پتا تھا کہ بڑا آدمی کیسا ہوتا ہے ؟  وہ ہر دن مجھے اسکول روانہ کرتے وقت یہ کہنا کبھی نہیں بھولتی تھی؛

اریان! خوب دل لگا کہ پڑھا کرو اور پڑھ لکھ کر بڑے آدمی بننا۔

میں کوئی چارسے پانچ سال اُس کے گاؤں میں رہا میں نے ہر وقت اُسے محنت کرتے دیکھا، کبھی لوگوں کے گھروں کی صفائی کرتے ہوئے، کبھی برتن مانجھتے ہوئے، کبھی کپڑے دھوتے ہوئے ، نور کے تڑکے سےشام کے دھندلکے تک کھیتوں میں 50 روپے کے عوض سارا سارا دن فصلوں کو گوڈی دیتے دیکھا،جب گھر کی ضرورتیں بڑھنے لگیں  تو اُس نے امرا کے گھروں کا رخ کیا جہاں وہ ہر روز چار پانچ کلو میٹر مسافت طے کرتی اور سارا سارا دن لوگوں کے گھروں میں کام کرتی۔ گاؤں میں میری تعلیم کا آخری سال تھا جب گھر میں اُس کی  شادی کی باتیں ہونے لگیں مگر جودیکھنے آتا کسی کو گھر پسند نا آتا ، کسی کو گھر والے پسند نہ آتے ، کبھی غربت رستے کی رکاوٹ بن جاتی ، کبھی وقت بے رحم ہو جاتا، کبھی قسمت دغا دے جاتی اور سب سے بڑھ کر ہر آنے والے کی جہیز کی طلب اُس محنت کش لڑکی کے اُداس چہرے پہ ایک اور داغ لگا جاتی۔

ایسے ہی چار پانچ سال گزر گئے لوگ آتے دیکھتے ، باتیں کرتے، کھاتے اور چلے جاتےایک دن وہ مجھے کہنے لگی؛

اریان آج میں بہت خوش ہوں، پتا ہے کیوں؟

نہیں۔۔۔۔ مجھے تو نہیں پتا آپ بتا ئیں۔

آج میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں اب شادی نہیں کروں گی۔ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھ لیا میری بے بسی کا مذاق اُڑاتے ہوئے اس لئے میں آئندہ کسی کا موضوعِ گفتگو نہیں بنوں گی۔

یہاں  میرا سوال ان عزت دار لوگوں سے کہ ایک لڑکی جب اتنے سال تک بار بار رد کی جاچکی ہو تو وہ احساسِ محرومی کا شکار ہو کر یہ فیصلہ نہیں کرے گی تو اور کیا کرے گی؟

اس بات کو دس سال گزر چکے ہیں وہ آج بھی اپنے کیے فیصلہ پہ قائم ہے اور اپنے گھر والوں کے لئے محنت کر رہی ہے، اپنی زندگی گنوا کے اُن کو زندگی بخش رہی ہے ۔ اُس کے پاؤں لوگوں کے گھروں میں کام کرتے کرتے تھک چکے ہیں اور اُس کی رنگت برتنوں کی سیاہی دھو دھو رکر سیاہی مائل ہو چکی ہے۔ مگر وہ جب تک زندہ ہے اُسے اور گھسنا ہے اور محنت کرنی ہے۔ کیونکہ وہ باغی ہے دنیا  کے ان لوگوں کے لئے  جو لڑکیوں کو بکاؤ مال سمجھتے ہیں!

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔