آنکھوں کے اندھے اور ضمیر کے اندھے

عبدالقادر حسن  جمعـء 5 دسمبر 2014
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

ستم گر پولیس کی ماڈل ٹاؤن لاہور والی ستمگری ابھی بھولی نہیں تھی جس میں پولیس کے مردہ ضمیر نے کئی پاکستانیوں کو قتل کر دیا اور کئی ایک زخمی ہو گئے پولیس کی اس درندگی کا پورا منظر ٹی وی نے فلما لیا اور پوری دنیا نے پاکستانی پولیس کا یہ تماشا دیکھ لیا۔

معلوم ہوا کہ پولیس کی سنگدلی کی کچھ کسر رہ گئی تھی یا اس کے دست ستم کی ابھی تسکین نہیں ہوئی تھی کہ اس نے ایک قدم آگے بڑھ کر اندھوں کے ایک مظاہرے پر بھی اپنا شوق پورا کر لیا۔ اگر ماڈل ٹاؤن والا واقعہ باعث غم تھا تو پولیس کی تازہ حرکت پوری قوم کو شرمندگی میں ڈبو گئی۔ اتفاق سے یہ دن معذوروں کا عالمی دن بھی تھا جسے پولیس نے منا لیا۔ خبروں میں بتایا گیا کہ صدر مملکت نے اسی  راستے سے گزرنا تھا جس کو ان بے خبر اندھوں نے بند کر رکھا تھا ورنہ وہ کبھی ایسی حرکت کی جرات نہ کرتے۔ بینائی سے محروم ان احتجاج کرنے والوں کے جو رہنما تھے وہ بھی پوری طرح بینا نہ تھے۔

بہر کیف وجہ جو بھی تھی جو ہو گیا تھا اس کی کوئی وجہ نہیں تھی یہ سب کچھ سراسر بے وجہ تھا اور اس کی اصل وجہ صرف یہ تھی کہ با اختیار پولیس انسانی ضمیر سے محروم تھی۔ جب کسی کے ہاتھ میں سرکاری ڈنڈا ہو اور اس کے اندر ضمیر نام کی چیز مر چکی ہو تو وہ نہ اندھا دیکھتا ہے نہ آنکھوں والا کیونکہ لکڑی کی لاٹھی یا ڈنڈا اندھا ہوتا ہے۔

ایک سرکاری وکیل نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ موجود ہوتے تو پولیس والوں کو سخت سزا دیتے۔ اس دن وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ دونوں ملک سے باہر کسی کانفرنس وغیرہ میں شریک تھے۔ ویسے جب ماڈل ٹاؤن والا قاتلانہ حادثہ ہوا تو دونوں ملک کے اندر یا لاہور میں موجود تھے۔ اصل بات کسی کی حاضری یا غیر حاضری کی نہیں اندرون سینہ دل کی زندگی کی ہے دل کی روشنی کی ہے جو انسان کی آنکھوں کو بینا رکھتی ہے اور انسان کے ضمیر کو زندہ رکھتی ہے۔

پاکستان ایک مسلمان ملک ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اس لیے جب کبھی اس میں کوئی خلاف اسلام یا اسلام کی کسی روایت کے خلاف کوئی بات ہوتی ہے تو اس کی موثر مذمت مسلمانوں کے کسی دور حکومت اور کسی مسلمان حکمران کے حوالے سے ہو سکتی ہے۔

مصر کے فاتح اور حکمران جناب عمر بن وقاصؓ کے بیٹے نے کسی مقامی مصری کو بازار میں مارا پیٹا۔ اس کے والد کی جب مصر میں شنوائی نہ ہو ئی تو اس نے اپنی شکایت کو حج کے موقع تک موخر کر دیا اور آنے والے حج پر اس نے امیر المومنین حضرت عمرؓ سے اس شکایت کو پیش کرایا۔ حج کے اس موقع پر مصر کے گورنر اور ان کا بیٹا بھی موجود تھے۔ شکایت کی تصدیق کے بعد حضرت عمرؓ نے اس باپ بیٹے اور شکایت کرنے والے کو بلایا اور اس سے کہا کہ تم اس بڑے آدمی کے بیٹے کو اتنے ہی ڈنڈے مارو اور اتنا ہی تشدد کرو جتنا اس نے تمہارے بیٹے پر کیا تھا اور ساتھ ہی مسلمانوں کا حکمران یہ کہتا جا رہا تھا کہ وقاص جن کو ماؤں نے آزاد جنا تھا تم نے ان کو غلام کب سے بنا لیا۔

حضرت عمرؓ کا یہ قول تاریخ کا حصہ بن گیا اور صدیوں بعد فرانس کے ایک دانشور روسو نے جب اسے نقل کیا تو یہ اس کے نام سے موسوم ہو گیا۔ زوال اور کمزوری کے اس دور میں مسلمان روسو  کو جواب نہ دے سکے کہ تم ہمارے لیڈر کی بات چرا رہے ہو۔ بہر کیف یہ بات آج بھی زندہ ہے کیونکہ بڑے لوگ اور ان کی اولاد کے لچھن زندہ ہیں اور ان دنوں ہم لاہور وغیرہ میں یہ سب دہراتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور بڑے باپوں کی اولاد نے عام اور بے وسیلہ پاکستانیوں کو غلام بنا رکھا ہے۔

یہ اندھوں والا سانحہ بھی ایک وی آئی پی کی وجہ سے ہوا جس کے راستے کو کھلا رکھنے کے لیے اندھوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ ہمارے انھی رویوں سے پاکستان کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ معاشرے انصاف سے طاقت پکڑتے ہیں زلزلہ آیا تو حضرت عمرؓ حسب معمول زمین پر ہی بیٹھے تھے انھیں زمین کی حرکت محسوس ہوئی تو اپنا مشہور کوڑا زمین پر مار کر کہا کیا میں تم پر انصاف نہیں کرتا کہ تو شرارت اور شکایت کر رہی ہے۔

ہم مسلمان اور ہمارا دین اور نظریہ تو آیا ہی دنیا میں انصاف قائم کرنے اور ظلم کو مٹانے کے لیے تھا اور اس کا عملاً ثبوت دے کر اور اس کی ایک تاریخ بنا کر اسلام کو دنیا کی سپر پاور بنا دیا تھا کیا ہمیں یاد ہے کہ گزشتہ انیسویں صدی کے تیسرے ہفتے تک مسلمان اس زمین کی سپر پاور تھے جب ترکی میں ان کی صدیوں پرانی خلافت کو ختم کیا گیا کیونکہ ہم اسلام سے دور ہو گئے تھے کمزور ہو گئے تھے اور ہماری جگہ مغربی دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقتوں نے لے لی تھی۔ خلاء کبھی باقی نہیں رہتا۔ اسلامی تعلیمات سے دور ہمارے خلفاء نے اپنی طاقت گنوا دی جسے ان کے مخالفوں نے اچک لیا۔

ہندوستان کے مسلمانوں نے جو اسلامی خلافت کی عملداری سے باہر تھے خلافت کی تحریک چلائی تھی اور اسلام کے ساتھ اپنے رشتوں کو زندہ کیا تھا بعد میں یہی رشتے پاکستان کی صورت میں ظاہر ہوئے اور پاکستان ایک اسلامی طاقت بن سکتا تھا اس کے پاس زیادہ یا کم وہ سب کچھ تھا جو کسی طاقت کے پاس ہوتا ہے بے مثل سپاہ تھی جس کے لیے جان دینا ایک اعزاز تھا اور ایک ابدی زندگی کا راستہ تھا۔ اس کے پاس قدرتی وسائل کی کمی نہیں تھی اور اس کے پاس ذہین اور صاحب علم افرادی قوت تھی جس نے بعد میں ایٹم بم بنا لیا یعنی دنیا کی سب سے بڑی زمینی طاقت اور پاکستان ناقابل تسخیر ملک بن گیا لیکن پاکستانی عوام کو ایسے روگ لگا دیے کہ وہ کسی بڑی طاقت کے شہری نہ بن سکے مگر ان تمام مخالفانہ پالیسیوں کے باوجود آج ہم سے کئی گنا بڑا ملک جو پہلے کئی بار ہم سے جنگ کر چکا ہے۔

اب ہماری طرف گندی آنکھ سے دیکھ بھی نہیں سکتا صرف خفیہ کارروائیاں کر سکتا ہے اور ہمارے اونچے اور با اثر طبقے کو زیر اثر رکھ سکتا ہے اور یہی وہ طبقہ ہے اشرافیہ کا جو ہمیں اٹھنے نہیں دیتا۔ اسے خطرہ ہے کہ پاکستان کے عوام اس کے ذرایع مال و دولت کو بند کر دیں گے اس لیے ان کو دبا کر رکھو لیکن یہ حالات بہر کیف کب تک باقی رہ سکیں گے۔ یہ اونچ  نیچ  ایک غیر قدرتی عمل ہے۔ کیا ہم دیکھتے نہیں کہ سوویت یونین جیسی بڑی طاقت ایسی ختم ہوئی کہ تاریخ سے اس کا نام تک مٹ گیا اس کے خاتمے میں کچھ حصہ ہمارا بھی تھا اور بقول ہمارے ایک مفکر مولانا مودودی کے ایک وقت ایسا آئے گا کہ کمیونزم ماسکو کے سرخ چوک میں اوندھے منہ پڑا ہو گا اور امریکا کا سرمایہ دارانہ نظام نیو یارک کی عمارتوں سے سر ٹکرا رہا ہو گا۔

ایک ہم نے دیکھ لیا دوسرے کے لیے کسی دیوار کو دھکا لگانا ہے۔ بظاہر یہ بھی سوویت یونین کی طرح طاقت سے لبالب بھرا ہوا ہے لیکن اس سے بڑی طاقت بھی ہے اس کا انتظار کیا جائے۔ اور فی الحال سابقہ سوویت یونین کی طرح اس کی افغانستان سے پسپائی کا تماشا کیا جائے جو شروع ہو چکا ہے ہم پاکستانیوں کو آنکھوں کی روشنی اور ضمیر کی صفائی درکار ہے کیونکہ جس قوم نے پاکستان بنا لیا ہے دنیا کو اک معجزہ دکھا دیا ہے وہ باقی کام بھی کر لے گی۔ اب ہمیں آنکھوں کے اندھوں کو روشنی دینی ہے اور ضمیر کے اندھوں کو جیتا جاگتا ضمیر کہ وہ خود بھی انسان بن سکیں اور دوسروں کو بھی انسان سمجھیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔