(بات کچھ اِدھر اُدھر کی) - این ٹی ایس کی انگریز ریاست

اعظم طارق کوہستانی  پير 8 دسمبر 2014
سروں پر مسلط این ٹی ایس اب ذہین طلبہ کی ذہانت سے بھی کھیلنے لگا ہے۔ 
کیا انگریزی کے ساتھ اردو میں ٹیسٹ بنالینے سے امریکا نے ناراض ہوجانا تھا یا ملکہ برطانیہ کا قہر نازل ہونے کا خدشہ تھا۔ فوٹو: فائل

سروں پر مسلط این ٹی ایس اب ذہین طلبہ کی ذہانت سے بھی کھیلنے لگا ہے۔ کیا انگریزی کے ساتھ اردو میں ٹیسٹ بنالینے سے امریکا نے ناراض ہوجانا تھا یا ملکہ برطانیہ کا قہر نازل ہونے کا خدشہ تھا۔ فوٹو: فائل

جامعہ کراچی میں این ٹی ایس اس سال بھی داخلہ ٹیسٹ لینے کے لیے اپنے پَر تول چکا ہے۔ ویسے پروں کا وزن اتنا زیادہ تو نہیں ہوتا لیکن تول لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھا جاتا۔ یہ این ٹی ایس کا دوسرا سال ہے جس کی خدمات جامعہ کراچی ایک بار پھر لے چکا ہے۔۔۔ مذاق ایک طرف لیکن جب کوئی ان پڑھ یا ناسمجھ بندہ کوئی خلاف عقل یا معاشرے کے سیاق سباق سے ہٹ کو فیصلہ کرتا ہے تو یقین کریں آپ کا سر دیوار پر مارنے کو بالکل نہیں چاہتا۔۔۔ لیکن پڑھے لکھے یا لکھے پڑھے افراد سے جب انہونیاں سرزد ہوتی ہیں تو دیوار کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت کچھ کرنے کو جی چاہتا ہے۔ 

اب اس ساری تمہید کا مطلب ہر گز یہ مت سمجھ لیجیے گا کہ ہم این ٹی ایس ٹیسٹ کے مخالف ہیں۔۔۔ حقیقت یہی ہے کہ دیگر لوگوں کی طرح ہمیں بھی ٹیسٹ کے اس طریقہ کار سے اختلاف ہے جو شاید مڈل کلاس کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر اپَر کلاس کے لیے بنایا گیا ہے۔ این ٹی ایس کا ٹیسٹ بہت آسان بھی ہوتا ہے لیکن انگریزی صحیح نہ جاننے والا ذہین وفطین طالب علم بھی اس بحر احمر میں سے گوہر نایاب تلاش کرنے میں ناکام رہتا ہے اور حسرت ویاس کی تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔ انگریزی نہ جاننے والے طالب علموں کے متعلق یہ مت سمجھ لیجیے گا کہ یہ کند ذہن ہوتے ہیں بلکہ یہ سرکار کے ان اداروں سے پڑھے ہوتے ہیں جہاں اساتذہ  سر سے سینگ کی طرح غائب کسی ٹیوشن سینٹر میں طلبہ کو حصول علم کے زیور سے نواز رہے ہوتے ہیں۔

شہر کے کوچنگ سینٹرز میں پڑھنے والے بچوں کو نہ انگلش صحیح آتی ہے اور نہ ہی اردو۔۔۔ لیکن انگریزی کے مقابلے میں ان کی اردو کافی بہتر ہوتی ہے۔ اردو اور انگلش کی یہ کشمکش اعلٰی تعلیمی اداروں میں جانے کے بعد حلق کی ہڈی بنتی ہے۔ جامعہ کراچی میں تدریس چونکہ اردو اور انگریزی دونوں میں ہے اس لیے انگریزی نہ جاننے والا طالب علم بھی با آسانی اعلٰی تعلیم حاصل کر لیتا ہے۔۔۔ لیکن سروں پر مسلط این ٹی ایس اب ذہین طلبہ کی ذہانت سے بھی کھیلنے لگا ہے۔ طالب علم اسلامیات کے آسان ترین سوالات کے جوابات دینے میں بھی شش وپنج میں پڑ جاتے ہیں۔ کیا جامعہ کراچی یا پھر این ٹی ایس کے متعلقہ ذمہ داران کو معلوم نہیں کہ یہ ٹیسٹ دینے والے طلبہ کی ذہنی سطح اور زبان میں کیا فرق ہے؟ کیا انگریزی کے ساتھ اردو میں ٹیسٹ بنالینے سے امریکا نے ناراض ہوجانا تھا یا ملکہ برطانیہ کا قہر نازل ہونے کا خدشہ تھا۔ انگریزی زبان سے مرعوبیت نے ویسے ہی اس ملک کو pull اور push کے چکر میں الجھا کر رکھا ہے۔ پڑھے لکھے لوگ بھی push کے وقت کھینچے ہیں اور pull کے وقت دھکیلیں گے۔

کیا کوئی فرد ایسا نہیں جو طلبہ کے مسائل کو سمجھتے ہوئے فیصلے کریں۔ شعبہ تعلیم کا شعبہ نجانے کن مقاصد کے لیے بنا یا گیا ہے لیکن وہاں سے پڑھنے والے افراد کو جو پڑھایا جا تا ہے اس کے تناظر میں ان امتحانات کو بہتر بنا یا جا سکتا ہے لیکن جہاں تک این ٹی ایس کا تعلق ہے اس کی کمر میں لچک نظر نہیں آتی۔۔۔اگر لچک ہوتی تو وہ اس سلسلے میں ضرور پیش رفت کرتا۔ آرٹس کے شعبوں میں این ٹی ایس ٹیسٹ کر والینا ترقی یا معیار بہتر بنانے کی علامت ہے تو اس میں مزید بہتری کر کے طلبہ کو اس عذاب سے کیوں نہیں نکالا جاتا۔ جامعہ کراچی میں آرٹس کے شعبوں میں زیادہ تر طالب علم اردو میں بی۔ اے اونرز اور ماسٹر کرتے ہیں۔ اس لیے ان طالب علموں سے ٹیسٹ اردو میں بھی لینا چاہیے۔ تاکہ انگریزی نہ جاننے والے لیکن ذہین طالب علم جامعہ کراچی میں داخلے سے محروم نہ رہے۔

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

اعظم طارق کوہستانی

اعظم طارق کوہستانی

اعظم طارق کوہستانی ان کا قلمی نام ہے۔ اصلی نام ’محمد طارق خان‘ ہے۔ نوجوان صحافی اور ادیب ہے۔ آج کل بچوں کے رسالے ’جگمگ تارے‘ کے ایڈیٹر ہیں۔ بچوں کے لیے اب تک ان کی کہانیوں پر مشتمل دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔