دہشت گردی کے خطرے کے باعث امریکا نے لاپتہ ملائیشین طیارے کو مار گرایا، سابق سربراہ فرانسیسی ایئرلائن

ویب ڈیسک  منگل 23 دسمبر 2014
لاپتہ طیارے کی تحقیقات کے دوران مجھے ایک خفیہ ادارے کی جانب سے بارہا متنبہ کیا گیا کہ اس پر تحقیقات نہ کروں، مارک ڈوگین    فوٹو: فائل

لاپتہ طیارے کی تحقیقات کے دوران مجھے ایک خفیہ ادارے کی جانب سے بارہا متنبہ کیا گیا کہ اس پر تحقیقات نہ کروں، مارک ڈوگین فوٹو: فائل

پیرس: فرانسیسی ایئرلائن کے سابق سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملائشیا کا طیارہ لاپتہ نہیں بلکہ دہشت گردی کے خطرے کے باعث امریکا نے اسے مار گرایا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی ایئرلائن کے سابق سربراہ اور مصنف مارک ڈوگین نے دعویٰ کیا ہے کہ بحر ہند میں تعینات امریکی نیوی کو شبہ تھا کہ ملائشین طیارے کو ہائی جیک کرکے نائن الیون طرز کے حملے میں استعمال کیا جاسکتا ہے جس کے باعث امریکی نیوی کی جانب سے طیارے کو ڈیگو گارشیا جزیرے کے قریب حملہ کرکے گرا دیا گیا۔

مارک ڈوگین کا کہنا تھا کہ جزیرے کے مقامی افراد کے مطابق انہوں نے ملائشین طیارے کو نچلی پرواز کرتے دیکھا جب کہ بعض لوگوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں  جزیرے کے قریب سے طیارے میں آگ بجھانے والا ایک  آلہ بھی ملا۔ مارک ڈوگین کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاپتہ طیارے کی تحقیقات کے دوران انہیں ایک خفیہ ادارے کی جانب سے بارہا متنبہ کیا گیا کہ وہ لاپتہ طیارے کی تحقیقات نہ کریں اور وقت کے ساتھ طیارے کا سراغ خود ہی مل جائے۔

واضح رہے کہ رواں برس 8 مارچ کو ملائیشیا کی پرواز ایم ایچ 370 کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئی تھی جس میں 239 افراد سوار تھے جب کہ  اس طیارے کا آج تک سراغ نہیں مل سکا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔