مشتبہ برطانوی سٹے باز اور حکام میں آنکھ مچولی جاری

اسپورٹس ڈیسک  پير 29 دسمبر 2014

سڈنی: بگ بیش میں برطانوی ماہر شماریات اور آسٹریلوی کرکٹ حکام کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے۔

حکام نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر برطانوی باشندے کو سڈنی تھنڈر اور سکسرز کے درمیان میچ کے موقع پر حراست میں لیا، اس سے قبل انھیں دیگردومیچزکے مواقع پر بھی گراؤنڈ سے باہر نکالا جاچکا ہے، راجیو ملچندانی پر حد سے تجاوزکرنے کا الزام عائدکیا، انھوں نے ایک مرتبہ پھر اے این زیڈ اسٹیڈیم میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، جہاں پر6 دن قبل ان کے داخلے پر پابندی عائدکی جاچکی تھی، اس سے قبل انھیں 19دسمبر کو بھی سڈنی سکسرز کے ابتدائی مقابلے میں بھی حکام نے میدان بدر کیا تھا۔

جبکہ گذشتہ سیزن میں بھی دو میچز پر انھیں مشتبہ ہونے پر گراؤنڈ سے بے دخل کیا گیا تھا جب وہ کراؤڈ میں لیپ ٹاپ لیے بیٹھے تھے، ملچندانی پر پولیس اور کرکٹ اینٹی کرپشن آفیشلز کوسٹے بازی سے روابط کا شبہ ہے، وہ میچ کی معلومات ٹی وی نشریات کے درمیان وقفے سے فائدہ اٹھانے کیلیے باہر بھیج سکتے ہیں۔

اگرچہ ان کاعمل جرم کے زمرے میں نہیں آتا، تاہم آئی سی سی اور کرکٹ آسٹریلیا نے غیرقانونی سٹے بازی کیخلاف سختی کررکھی ہے اور ہر مشتبہ شخص پر نظر رکھی جاتی ہے، ایسے افراد کو صرف میدان میں داخلے کے قواعد کی خلاف ورزی کے الزام میں میچز سے دور رکھا جاسکتا ہے، اس کیلیے آسٹریلیا میں قوانین موجود نہیں ہیں، انھیں مشروط ضمانت پر رہائی مل گئی ہے تاہم وہ 20 جنوری کو بورووڈ کی مقامی عدالت میں پیش ہوں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔