بدمزاج بچے کے خطاب پر کوہلی کا پارہ چڑھ گیا

اسپورٹس ڈیسک  پير 29 دسمبر 2014
آسٹریلوی ٹیم کے اسی رویے سے مجھے ان کے خلاف بہتر کھیلنے میں مدد ملتی ہے، کوہلی۔ فوٹو: فائل

آسٹریلوی ٹیم کے اسی رویے سے مجھے ان کے خلاف بہتر کھیلنے میں مدد ملتی ہے، کوہلی۔ فوٹو: فائل

میلبورن: بدمزاج بچے کے خطاب پر ویرات کوہلی کا پارہ چڑھ گیا، میچ کے دوران آسٹریلوی فقرے بازی پر بھارتی بیٹسمین آگ بگولہ ہوگئے۔

کہتے ہیں کہ میری نظر میں اب مچل جونسن کی کوئی عزت باقی نہیں رہی، انھوں نے رن آؤٹ کرنے کے بہانے مجھے زخمی کرنے کی کوشش کی ہے، آسٹریلوی کھلاڑیوں کی انہی حرکتوں کے باعث میں ان کے خلاف زیادہ بہتر کھیلتا ہوں۔ دوسری جانب میزبان فاسٹ بولر ریان ہیرس کا کہنا ہے کہ فقرے بازی میں بھی ہم ذاتیات پر نہیں اترتے، فیلڈ میں جو ہو اسے وہیں پر چھوڑ دینا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی بیٹسمین ویرات کوہلی نے آسٹریلیا کے خلاف رواں سیریز میں تیسری سنچری اسکور کی اور جس جارحانہ انداز میں انھوں نے بیٹنگ کی وہی انداز بعد ازاں پریس کانفرنس میں بھی برقرار رکھا۔ انھیں خاص طور پر مچل جونسن پر غصہ تھا جن کی تھرو اسٹمپس  کے بجائے کوہلی کو جا لگی تھی اگرچہ اسی وقت انھوں نے معافی بھی مانگی تھی لیکن بیٹسمین کا غصہ کم نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ میں حقیقت میں جونسن پر بہت غصے میں ہوں، انھوں نے مجھے گیند سے ہٹ کیا، میں نے انھیں کہا بھی کہ آئندہ میرے جسم کو نہیں بلکہ اسٹمپس پر گیند مارنا، میں کسی سے غیرضروری بات نہیں کرتا، میں صرف کرکٹ کھیلنے کے لیے میدان میں اترتا  ہوں اب میرے پاس ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں مچل جونسن یا چند دوسرے آسٹریلوی کھلاڑیوں کی عزت کروں میں ان کا احترام نہیں کرسکتا جو کہ میرا احترام نہ کرتے ہوں۔

کوہلی نے مزید کہا کہ آسٹریلوی ٹیم کے اسی رویے سے مجھے ان کے خلاف بہتر کھیلنے میں مدد ملتی ہے، میری 9 ٹیسٹ سنچریوں میں سے پانچ ان کے خلاف ہیں، ان لوگوں نے مجھے سارا دن پریشان کرنے کی کوشش کی، مجھے بدمزاج اور چڑچڑا بچہ تک کہا، میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلنا پسند کرتا ہوں کیونکہ جب آپ اچھا کھیلنے لگتے ہیں تو ان کے لیے خود کو پرسکون رکھ پانا مشکل ہوجاتا اور وہ اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں۔

دوسری جانب ریان ہیرس نے کہا کہ ہماری فقرے بازی ذاتیات پر نہیں ہوتی اور جو فیلڈ میں ہوتا ہے اس کو وہیں چھوڑ دیتے ہیں، ہم لوگ کوہلی کا احترام کرتے اور کسی سے ہماری کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔