وہ لوگ جو ہم سے بچھڑگئے!

راؤ منظر حیات  پير 29 دسمبر 2014
raomanzarhayat@gmail.com

[email protected]

وقت بھی کیسی محیرالعقول چیزہے۔گزرے ہوئے لمحے ماضی کے گمنام دریچوں میں معدوم ہوتے جاتے ہیں۔آنے والاوقت حیرت کدہ لیے آپکے سامنے ہوتاہے۔چندحقائق ایسے ہیں جوجھنجھوڑتے ہوئے آپکو جگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ واقعات نہ ہوں توانسان اپنی حقیت کوپہچان نہیں سکتا۔موت ان تمام حقائق میں سب سے مضبوط اوراٹل حقیقت ہے۔کسی انسان کادنیاسے چلے جانا،وہ غم گداز رمز ہے جوہرایک کے ذہن کوزمین سے جوڑے رکھنے کے لیے کافی ہے۔ وہ انسان کواس کی اوقات یادکروادیتی ہے۔قریبی عزیزوں کی موت آپکوہمیشہ کے لیے بدل کررکھ دیتی ہے۔میں اس کیفیت سے گزرچکاہوں۔

میرے لیے لائلپور(فیصل آباد)جانابہت مشکل کام ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس شہرکے ایک قبرستان میں میری عزیز ترین ہستیوں کی قبریں ہیں۔میرے والداوروالدہ کی۔ راجہ والاسے ملحقہ قبرستان میں میری زندگی کے عزیز ترین رشتے مدفون ہیں۔جب بھی فاتحہ کہنے کے بعدواپس لوٹتاہوں توایک ایک قدم اتنابوجھل ہوجاتاہے کہ عرض نہیں کرسکتا۔ اکیلا وہاں جاکرفاتحہ کہتے ہوئے آنسوؤں میں ڈوب جاتاہوں۔  ویسے تویہ دونوں قبریں مٹی میں نہیں میرے سینے میں بنی ہوئیں ہیں۔مگرپھربھی اصل مٹی کابوجھ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ برداشت سے بھی زیادہ!جب بھی کسی عزیزرشتہ کومٹی کے نیچے دباکرآتاہوں تومیرے اندربھی دل کا چھوٹاساحصہ مرجاتا ہے!اس سے آگے کچھ عرض کرنے سے قاصرہوں مگر انسان کمزور چیزہے۔ خوشیوں کوکم یادرکھتاہے غم زیادہ یادرہتے ہیں۔وہ بھی ذاتی اور اپنے قریب ترین دوستوں کے۔

منورمیرے بڑے بھائی تھے۔بے ضرر،شریف اورمجبور انسان۔سعودی عرب میں چندبرس پہلے ایک حادثہ میں شدیدزخمی ہوگیا زندگی بچ گئی اوروہ پاکستان آگیا۔ مگر یہاں آکروہ حالت جذب میں چلاگیا۔ ہرچیزسے بے نیاز۔  واپڈاٹاؤن لاہور میں وہ اپنے گھرسے بھی باہرکم نکلتاتھا۔میں جب بھی اسے ملنے جاتاتھا،تووہ مجھے غورسے دیکھنے کے بعدیہ ضرورکہتا تھاکہ تمہاراوزن بہت بڑھ گیاہے۔اسے کم کرو۔وہ مجھ سے پانچ سال بڑاتھا۔آج سے چھ ماہ پہلے وہ رات کواپنے کمرے میں سونے کے لیے گیااورمستقل طورپرسوگیا۔میں اپنی بہنوں کے سامنے مصنوعی طورپرمضبوط رہنے کی پوری کوشش کرتارہا۔ مگر اکیلے میں باربارگریہ کرتارہاجوآج تک جاری ہے۔

خالدچوہان کاتعلق بہاولپورسے ہے۔میں وہاں تین سال تعینات رہامگراس سے ملاقات نہ ہوپائی۔آج سے پندرہ برس پہلے میری خالدچوہان سے دوستی ہوئی جوبہت جلدایک پُرخلوص اوراپنائیت والے تعلق میں بدل گئی۔عجیب مرددرویش ہے۔اس کی ٹاؤن شپ لاہور میں ایک فیکٹری ہے۔میں نے اسے بہت کم پریشان دیکھاہے۔خدانے اسکودنیاوی دولت سے نوازا ہے۔ مگروہ ان چندخالص لوگوں سے تعلق رکھتاہے جودولت کوہاتھ کی میل سمجھتے ہیں۔آپ اس کے گھرچلے جائیں تووہ اور اہل خانہ آپکی اس درجہ خاطرکرتے ہیں کہ آپ شرمندہ ہوجاتے ہیں۔

خالدچوہان کواپنی والدہ سے شدیدلگاؤتھا۔تین ماہ پہلے اس نے شام کوفون کیا۔بغیرکسی تمہید کے مجھے بتایاکہ”اماں”فوت ہوگئیں ہیںاوروہ ایمبولینس میں بہاولپورجارہاہے۔اسکاخاندانی پن دیکھئے، ساتھ ہی کہنے لگاکہ آپ بہاولپورنہ آئیں سفرلمبا ہے، میں تین دن بعدلاہور آجاؤنگا۔یہیں افسوس کرلیجئے گا۔ بعد  میں معلوم ہواکہ اس نے اکثردوستوں کوبتایاہی نہیں کہ اس کی عزیزترین ہستی دنیافانی سے کوچ کرچکی ہیں۔محض اس لیے کہ انکوطویل سفرکرنے کی زحمت نہ ہو۔تین چاردن کے بعدجب وہ لاہورپہنچا تو میں افسوس کرنے کے لیے گھرگیا۔

وہ بظاہرٹھیک تھامگردراصل صدمہ اور غم سے مکمل نڈھال۔لیکن وہی تکلف۔ وہی چائے۔میں نے منع کرنے کی بہت کوشش کی،مگراس نے ایک جملے میں بات ختم کردی۔کہنے لگاکہ میری والدہ کاحکم تھاکہ گھرمیں جوبھی مہمان خوشی یاغمی میں آئے اس کی بھرپورخدمت کرو۔میں چپ ہوگیا۔گاڑی میں بیٹھتے ہوئے خالدچوہان کے تین سال کے بیٹے نے پُراعتمادلہجے میں بتایاکہ اس کی دادی گھرسے تھوڑی دیرکے لیے باہر گئیں ہیں۔ابھی واپس آجائینگی۔ اس کا یہ فقرہ سنکرمیری آنکھوں میں بادل ساآگیا جومیں نے خالدچوہان اوراپنے ڈرائیورسے بڑی مشکل سے چھپایا!مگرغم توغم ہے‘چوٹ تولگتی ہے۔

ڈاکٹرعامراوراظہرچوہدری میرے بچپن کے دوست ہیں۔ اظہرتوخیرپہلی جماعت سے میرے ساتھ ہے۔مگرپھروہ آٹھویں کلاس میں ائیرفورس کالج سرگودھاچلاگیا۔میں کیڈٹ کالج حسن ابدال۔عامراورمیں کنگ ایڈورڈمیڈیکل کالج میں ایک ہی کلاس میں تھے۔ان کے والدچوہدری فرزندمیرے والدکے دوستوں میں سے تھے۔زرعی یونیورسٹی فیصل آبادمیں وہ شعبہ اسپورٹس کے انچارج تھے۔ایشیاء کے معدودے چنداول درجے کے ویٹ لفٹر۔افسوس کہ وہ عین جوانی میں چل بسے۔اظہر بارہ تیرہ سال کاہوگا۔ اور عامرشائد دس سال کا!مگران کی باہمت والدہ نے اپنی زندگی میں شدید محنت بلکہ ریاضت جاری رکھی۔وہ ان بچوں کی والد اور والدہ دونوں بن گئیں۔ڈویژنل پبلک اسکول میں جونیئر سیکشن کی ہیڈمسٹرس تھیں۔انکاگھربھی اسکول کے اندرتھا۔وہ عظیم خاتون میری استادتھیں۔

جس وقارسے انھوں نے اپنی زندگی کے ذاتی غم کو برداشت کیا،وہ ہرکسی کاخاصہ نہیں۔تعلیم کے شعبے میں انھوں نے حقیقی طور پربہت محنت کی۔میں علمی طورپرآج بھی ان کا مقروض ہوں۔ ایساقرض جومیں کبھی بھی ادا نہیں کرسکتا! ریٹائرڈ ہونے کے بعدانھوں نے بڑی خاموشی سے وقت گزارا۔ ایک ہفتہ قبل مجھے اظہرکاپیغام ملاکہ والدہ انتقال کرگئیں ہیں۔میں منجمد سا ہوگیا۔کیونکہ وہ میرے دوست کی والدہ ہونے کے ساتھ ساتھ میری استادبھی تھیں۔آپ یقین فرمائیے!میں کوشش کرنے کے باوجوداظہرکوفون نہیں کرسکا۔ میرے اندراتنی ہمت نہیں تھی کہ میں ڈاکٹرعامرکوبتاسکوںکہ مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔ آج دعامیں شریک ہونے کے بعدمیں پھرایک اورغم کے دریامیں بہتاجارہاہوں۔دکھ اوروہ بھی والدہ کی مستقل جدائی کا۔ صاحبان زیست!جس پرگزرتی ہے، صرف وہی جانتاہے!صرف وہی۔کہنابہت آسان ہے کہ صبرکرو،مگرصبرکرنادرحقیقت بہت مشکل ہے۔

صرف خداہی اس موقعہ پرصبرکی قوت عطا کرتاہے۔پھرقرآن میں بیان کردہ اٹل حقیقت آپکے سامنے آجاتی ہے کہ ہرذی روح کوموت کاذائقہ چکھناہے۔ ہمارے بزرگ پکے ہوئے پھل کی طرح ہوتے ہیں۔وہ محبت کے پیڑ پرپرورش پاتے ہیں۔وہ اپنی اولادکوپھلتاپھولتادیکھ کرخوش ہوتے ہیں۔انکادل توموم کابناہوتاہے۔خداانکی دعائیں سنتا ہے اورقبول کرتاہے۔مجھے ایک بزرگ کہنے لگے کہ جب بھی کوئی شخص کسی دنیاوی مصیبت کاشکارہوتواسے صرف ایک کام کرناچاہیے۔اگروالدہ حیات ہوں توانکی خدمت میں جت جائے۔ فوت ہوچکی ہوں توانکی قبرپرجاکرخداسے دعاکرنی چاہیے۔بزرگ کہتے ہیں کہ والدہ کی قبرسے بھی دعامیں قبولیت کی تاثیرشروع ہوتی ہے۔ والدہ کی قبرپر کی جانے والی دعاکبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

ہرشخص پرموت کاغم اپنامستقل سایہ چھوڑجاتا ہے۔ کئی لوگ اپنے ذاتی غموں کوسینے کا چراغ بناکررکھتے ہیں۔مگر زندگی میں  دوبارہ مگن ہوجاتے ہیں کہ جیسے کچھ ہواہی نہیں۔کون ٹھیک ہے اورکون غلط‘میں فیصلہ نہیں کرسکتا!بلکہ میں فیصلہ کرنے والاکون ہوتاہوں۔میں اپنے غموں کواپنے اندررنج کی پال میں لگا کر رکھتاہوں۔اپنے دکھوں کاخاموش نوحہ خواں میںخود اپنے آپ میں ہوں!ہر نقصان اٹھانے کے بعد اپنے آپکو جھوٹا دلاسا دیتا ہوں کہ کوئی مسئلہ نہیں۔کچھ نہیں بگڑا۔مگرصاحبان فہم!سب کچھ بدل جاتاہے۔سب کچھ!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔