امیزون پر اشیاء مفت میں فروخت ہونے لگیں!

عبدالریحان  پير 29 دسمبر 2014
سوفٹ ویئر کی خرابی تاجروں کو دیوالیہ کرگئی۔ فوٹو: فائل

سوفٹ ویئر کی خرابی تاجروں کو دیوالیہ کرگئی۔ فوٹو: فائل

انٹرنیٹ کی آمد سے زندگی کے دوسرے شعبوں کے ساتھ ساتھ کاروباری دنیا میں بھی انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ کاروبار کی نئی شکلیں وضع ہوئیں۔

انٹرنیٹ کے ذریعے اشیا کی خرید و فروخت کرنے والی کمپنیاں وجود میں آئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر کمپنی نے اپنی ویب سائٹس بنالیں جن کے ذریعے ان کے کاروبار کو فروغ ملا۔ ایسی کمپنیاں بھی قائم ہوئیں جن کی ویب سائٹ پر کاروباری اداروں کے ساتھ ساتھ عام افراد بھی اشیاء و سامان کی خرید و فروخت کرسکتے تھے۔

امیزون امریکا میں انٹرنیٹ کے ذریعے خریدوفروخت کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ ’امیزون ڈوٹ کوم‘ کے ذریعے کپڑے، جوتے، کھلونے، ویڈیوگیمز، کمپیوٹر، فرنیچر سے لے کر دنیا جہان کی چیزیں خریدی جاسکتی ہیں۔ امیزون اپنی تیارکردہ چیزوں کے ساتھ ساتھ دوسری کمپنیوں کی اشیاء بھی فروخت کرتی ہے۔

چھوٹی کمپنیاں اپنی فروخت بڑھانے کی غرض سے امیزون کا سہارا لیتی ہیں مگر گذشتہ دنوں انھیں یہ سہارا اس وقت مہنگا پڑگیا جب ان کی تیارکردہ مصنوعات اصل سے بھی کئی گنا کم قیمت پر فروخت ہونے لگیں۔ یہ سلسلہ ایک گھنٹے تک چلا مگر اس دوران متعدد کمپنیوں کے مالکان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور کئی کمپنیاں دیوالیہ ہوگئیں۔

اشیاء کے کم قیمت پر فروخت ہونے کی وجہ امیزون کے سوفٹ ویئر میں ہونے والی خرابی تھی۔ یہ سوفٹ ویئر اشیاء کے نرخ ازخود مقرر کرتا ہے جو مارکیٹ کے نرخوں سے کسی قدر کم ہوتے ہیں۔ بارہ دسمبر کی شام سات سے آٹھ بجے کے دوران سوفٹ ویئر میں نقص پیدا ہوگیا جس کی وجہ سے بیڈ کے گدّے، بیٹریاں، کپڑے، ویڈیوگیمز سمیت ان گنت آئٹمز کی قیمت محض ایک پینی (ایک پیسہ) مقرر ہوگئیں۔ امیزون پر تقریباً مفت میں اشیاء دست یاب ہونے کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعے سیکنڈوں میں پھیل گئی۔ اور لوگوں نے دھڑادھڑ آرڈرز دینے شروع کردیے۔

سوفٹ ویئر کی اس عارضی خرابی نے کئی لوگوں کو بھاری مالی نقصان سے دوچار کیا۔ گارمنٹس بنانے والی کمپنی کی مالکہ جوڈتھ بلیک فولڈ بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔ جوڈتھ نے اس حوالے سے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا، ’’میں نے چند ماہ پہلے اس سوفٹ ویئر کا استعمال شروع کیا تھا۔

گذشتہ شب سوفٹ ویئر میں پیدا ہونے والے نقص کی وجہ سے امیزون پر موجود میرا اسٹاک کوڑیوں کے دام بِک گیا۔ ایک ہی رات میں مجھے 31000 ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ میں نے امیزون کی انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ تمام آرڈرز کینسل کردیں مگر انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وہ اب بھی آرڈرز کی تکمیل کررہے ہیں۔ اگر تمام آرڈر نمٹا دیے گئے تو میں دیوالیہ ہوجاؤں گی۔‘‘

کھلونے اور ویڈیوگیمز بنانے والی کمپنی کی مالک بیلی نے بتایا کہ اس تیکنیکی خرابی کی وجہ سے اسے 46000 ڈالر کا بھاری نقصان ہوا ہے اور وہ اپنا کاروبار جاری رکھنے کے قابل نہیں رہی۔ بیلی نے امیزون کی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے تھرڈ پارٹی کا سوفٹ ویئر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ہم اس سوفٹ ویئر کی ماہانہ فیس بھی ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود اس میں خرابی پیدا ہوگئی۔ اصول طور پر امیزون کو ہمارا نقصان پورا کرنا چاہیے۔

بیلی، جوڈتھ اور امیزون پر اپنی مصنوعات فروخت کرنے والے دوسرے لوگوں کی طرف سے واویلا مچانے کے بعد امیزون کی انتظامیہ بیشتر آرڈرز کینسل کرنے پر تیار ہوگئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔