خلائی چڑیا گھر

غ۔ع  بدھ 31 دسمبر 2014
سطح ارض سے 340 کلومیٹر کی بلند پر موجود ’ چڑیا گھر‘ میں بیکٹیریا، فنجائی، اور آرتھوپوڈز کی 46 اقسام بند ہیں۔ فوٹو: فائل

سطح ارض سے 340 کلومیٹر کی بلند پر موجود ’ چڑیا گھر‘ میں بیکٹیریا، فنجائی، اور آرتھوپوڈز کی 46 اقسام بند ہیں۔ فوٹو: فائل

چڑیا گھر تو آپ نے ضرور دیکھا ہوگا۔ وہاں پنجروں میں بند قسم قسم کے چرند، پرند اور دوسرے جانور بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کی توجہ کا بھی مرکز بنتے ہیں۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک چڑیا گھر آسمانوں سے بھی اوپر خلا میں موجود ہے؟ جی ہاں، ایک چڑیا گھر زمین کے مدار میں محو گردش ہے، مگر اس کے پنجروں میں شیر، ہاتھی ، گھوڑے کے بجائے خردبینی جان دار قید ہیں!

سطح ارض سے 340 کلومیٹر کی بلند پر موجود ’ چڑیا گھر‘ میں بیکٹیریا، فنجائی، اور آرتھوپوڈز کی 46 اقسام بند ہیں۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے بندھا ہوا یہ ’چڑیا گھر‘ ایک بڑے سے چوکور آہنی باکس پر مشتمل ہے جس میں خانے بنے ہوئے ہیں جن میں یہ خردبینی جان دار رکھے گئے ہیں۔ ان جانوروں کو گذشتہ برس جولائی میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچایا گیا تھا۔

خلا میں ان خردبینی جان داروں کی موجودگی دراصل یورپین اسپیس ایجنسی کے تحقیقی منصوبے کا حصہ ہے۔ یہ جان دار ڈیڑھ برس تک خلا میں رہیں گے۔ اس عرصے کے دوران انھیں سورج کی سمت سے آنے والی تاب کار شعاعوں اور شدید درجۂ حرارت کا سامنا ہوگا۔ خلا میں درجۂ حرارت منفی بارہ سے چالیس ڈگری سیلسیئس تک رہتا ہے۔ اس طرح یہ جرثومے اسی عمل سے گزریں گے جو زمین پر اشیائے خورونوش کو محفوظ کرنے کے لیے اپنایا جاتا ہے۔ یعنی درجۂ حرارت کو بلندی سے یکلخت کم ترین سطح پر لے آنا۔

اس تجربے کا مقصد خلا میں زندگی کی حدود کو جانچنا ہے کہ آیا یہ جان دار خلا میں زندہ رہ پاتے ہیں یا نہیں اور یہ کہ سورج کی سمت سے پوری شدت کے ساتھ آنے والی تاب کاری اور وہاں موجود کیمیکلز ان پر کس طرح انداز ہوں گے۔

زمین پر شمسی تاب کاری مکمل طور پر نہیں پہنچ پاتی، کیوں کہ اس کے اردگرد اوزون کی چھلنی موجود ہے جو مہلک شمسی شعاعوں کو روک لیتی ہے۔ زمین پر تمام شمسی شعاعیں پیدا کرنا ازحد مشکل کام ہے، اسی لیے ان جان داروں کو خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔

یورپی خلائی ایجنسی ماضی میں بھی اس نوع کے تجربات کرتی رہی ہے۔ گذشتہ تجربات سے ظاہر ہوا تھا کہ کائی اور آبی ریچھ ( واٹر بیئر) نامی خردبینی جان دار خلا میں بنا کسی حفاظتی نظام کے بھی زندہ رہتے ہیں۔ اس تجربے کے نتائج سے یہ امکان پیدا ہوا تھا کہ زندگی خردبینی جان داروں کی صورت میں سیارچوں کے ذریعے سیاروں پر پھیل گئی ہوگی۔

موجودہ تجربہ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں کچھ جان داروں کو مریخ جیسا ماحول بھی فراہم کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ’ چڑیا گھر‘ میں چند خصوصی ’ پنجرے‘ بنے ہوئے ہیں جو شمسی تاب کاری میں شامل کچھ شعاعوں کو اندر داخل ہونے سے روک دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان ’پنجروں‘ کے اندر مریخ کے سطحی دباؤ کے مساوی دباؤ بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ خصوصی ’ پنجرے‘ مریخ کی فضا میں زندگی کی نمو اور بقا کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ ’خلائی چڑیا گھر‘ 2016ء کے اوائل میں زمین پر اُترے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔