یہ سال بھی اداس رہا، روٹھ کر گیا

ایڈیٹوریل  بدھ 31 دسمبر 2014
کراچی انتظامی لحاظ سے مکمل طور پر یتیم رہا، وفاقی اور سندھ حکومتوں نے کراچی کو مکمل طور پر نظر اندازکیا، فوٹو:فائل

کراچی انتظامی لحاظ سے مکمل طور پر یتیم رہا، وفاقی اور سندھ حکومتوں نے کراچی کو مکمل طور پر نظر اندازکیا، فوٹو:فائل

بالآخر کیلنڈر پر محض ایک ہندسے کی تبدیلی کے ساتھ عیسوی سال 2014ء تاریخ کا حصہ بن گیا۔ پاکستانیوں کے لیے یہ سال جہاں چند اچھی خبروں کا پیش خیمہ ثابت ہوا وہیں زیادہ تر آہوں، سسکیوں، حسرتوں اور ناامیدیوں کے گہرے بادل وطن عزیز پر چھائے رہے۔ گزشتہ سال کی تمام اچھی خبروں پر سانحہ پشاور کا گہرا غم حاوی ہوگیا۔ سال 2014 ء جہاں ملک میں سیاسی، انتظامی، معاشی اور عوامی مسائل کے حل نہ ہونے کے حوالے سے مایوس کن رہا، وہیں یہ سال دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے بھی ناقابل فراموش واقعات عوام کے ذہنوں پر چھوڑ گیا ہے۔

10 اگست سے 15 دسمبر تک ملک سیاسی بحران کی زد میں رہا اور وفاقی حکومت کا انتظامی نظام تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث مفلوج رہا۔ 16 دسمبر کو سانحہ پشاور کے بعد سندھ سمیت ملک کے سیاسی حالات یکدم تبدیل ہوگئے، اس سانحے کے بعد وفاقی، چاروں صوبائی حکومتیں، عسکری قیادت اور تمام سیاسی اور مذہبی قوتیں ایک پلیٹ فارم پر دہشتگردی کے خلاف جمع ہوگئیں، تحریک انصاف نے بھی دھرنا اور اپنا احتجاج ختم کردیا۔ 2014 ء سندھ کے سیاسی حالات کے لیے بھی کچھ بہترنہیں رہا، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں سیاسی کشمکش جاری رہی۔

کراچی انتظامی لحاظ سے مکمل طور پر یتیم رہا، وفاقی اور سندھ حکومتوں نے کراچی کو مکمل طور پر نظر اندازکیا۔ سندھ میں جہاں سیاسی حالات بے یقینی کا شکار رہے، وہاں سندھ حکومت کی بیڈگورننس بھی دیکھنے میں آئی اور تھر کی صورت حال پر سندھ حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ سندھ میں سال 2014ء میں امن وامان کی صورت حال بھی کچھ بہتر نہ رہی، کراچی میں آپریشن جاری ہونے کے باوجود ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے، یہ آپریشن اپنے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کرسکا۔ سیاسی حلقے سمجھتے ہیں کہ 2014ء سیاسی حالات کے لیے اچھا سال ثابت نہیں ہوا اور عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے کسی مسیحا کے منتظر رہے۔ گزشتہ سال قوم کی بہادر بیٹی ملالہ کو ملنے والا نوبل انعام بہار کا جھونکا ثابت ہوا، اور تخریب میں سے تعمیر کا پہلو سانحہ پشاور کے بعد قوم کا یکجا ہونا ہے ۔ نئے سال کی آمد کے بعد عوام کی خواہش ہے کہ یہ سال ان کے لیے نیک شگون ثابت ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔