ذرا خیال رہے

نجمہ عالم  جمعرات 1 جنوری 2015
najmalam.jafri@gmail.com

[email protected]

پاکستان کئی عشروں سے کرب و بے چینی، قتل و غارت گری، دہشت گردی اور بے یقینی کی جس کیفیت سے دوچارہے۔ اس سے ہر پاکستانی بلواسطہ یا بلاواسطہ متاثر ہوا ہے، مگر 2014نے جاتے جاتے جو زخم کاری قوم کے ہر فرد کے ذہن پر لگائے اور جس اندوہناک صورتحال میں پورے ملک کو دھکیل دیا اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ حالانکہ درندہ صفت دہشت گردی نے جی ایچ کیو، اہم ایئربیسز، ہوٹلز، شارع فیصل (کارساز) کے علاوہ قائداعظم بین الاقوامی ہوائی اڈے (کراچی) جیسے کتنے ہی سانحات ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ یوں تو پورا ملک ہی غیر محفوظ ہے مگر کراچی تو تقریباً دو عشروں سے مسلسل جل رہا ہے۔

عذاب بھگت رہا ہے، مگر سانحہ پشاور کے بعد بھی جس کو آپریشن ضرب عضب کا ردعمل فرمایا جا رہا ہے (حالانکہ معصوم طلبا کو خون میں نہلا کر ردعمل کون سی بہادری ہے) مگر جس نے حکمرانوں کی آنکھیں کھول دیں، مذاکرات کے حامی اور طالبان کا دفتر کھلوانے والے بھی جیسے ہوش میں آگئے اور اب ان سفاک عناصر سے نجات کے علاوہ اور کوئی صورت ان کے پاس نہیں رہی۔ لہٰذا پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کیا جانے لگا۔ اس پر بھی کسی سمت سے اشارے ملے کہ ان پھانسیوں کا بھی شدید ردعمل ہوسکتا ہے۔ تمام اہم مقامات، درسگاہوں، اسپتالوں، عمارتوں خاص کر ہوائی اڈوں کی نگرانی میں مزید اضافے اور ہوش مندی کی ضرورت ہے۔

افسوس ملک جن حالات و خطرات سے دوچار ہے اس میں بھی حکومت سندھ کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ معاملہ دہشت گردی کا ہو، بھتہ خوری کا، اغوا برائے تاوان کا، تھر میں مرتے بچوں کا، اسپتالوں کی کارکردگی یا جعلی دعاؤں کی مارکیٹ میں کھلے عام فروخت کا ذرا بھی کسی سمت سے ان بدعنوانیوں پر ذمے داران کی توجہ مبذول کرائی جائے تو صوبے کے اعلیٰ حکام اور وزرا اس قدر برہم ہوجاتے ہیں کہ بس اللہ دے اور بندہ لے۔سوال یہ ہے کہ شہر کراچی جو گزشتہ دو دہائیوں سے مبتلائے عذاب ہے، جہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ممکن ہے وہاں کے اداروں کو کس قدر فعال اور چوکس رہنا چاہیے؟ حکومت کے نگران اعلیٰ اور ان کی کابینہ کی آنکھوں سے نیند ہی اڑ جانی چاہیے۔

مگر مجال ہے کہ جو کسی ایک کے بھی معمولات میں ذرا فرق آیا ہو۔ جب کسی بھی بات پر شور مچایا جائے تو ایک عدد کمیٹی بن جاتی ہے، اس کمیٹی کو ہفتہ پندرہ دن دیے جاتے ہیں کہ وہ اس معاملے کی تحقیق کرکے رپورٹ پیش کرے۔ مگر یہ مختصر مدت اول تو کبھی پوری ہوتی ہی نہیں اور اگر کسی من چلے نے بطور ایڈونچر کچھ کارکردگی دکھا بھی دی تو ابتدائی رپورٹ سامنے آجاتی ہے جو اتنی غیر حقیقی اور نامکمل ہوتی ہے کہ اس کو مزید درست کرنے کی ہدایت کے ساتھ واپس کردیا جاتا ہے اور پھر…گویا فرض پورا ہوگیا۔

ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کراچی کی ٹمبر مارکیٹ میں ہولناک آتشزدگی نے حکومتی کارکردگی کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ تقریباً دو سال قبل بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی کے سانحے میں لگ بھگ 260افراد زندہ جل گئے تھے۔ اس وقت بھی حکمرانوں نے متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہ چھوڑنے اور ان کی ہر طرح مدد کرنے کے اعلانات کیے تھے مگر (گزشتہ دنوں کے اخبارات گواہ ہیں) ان میں سے بیشتر خاندان آج تک امداد تو دور کسی بھی قسم کی اشک شوئی سے محروم ہر دروازہ کھٹکھٹاتے پھر رہے ہیں ، ان کی کفالت کرنے والے تو نذرآتش ہو ہی چکے۔

جس کا کوئی بھی ازالہ نہیں کرسکتا مگر مالی امداد جس کا اعلان ہوا تھا وہ تو تمام متاثرین کو مل جاتی، اسی طرح سانحہ کراچی ایئرپورٹ کے دوران سرد خانے میں محصور کئی انسان زندہ جل گئے (اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ تازہ واقعے میں جانی نقصان نہیں ہوا) ان تمام سانحات میں جو مماثلت پائی گئی وہ یہ کہ فائربریگیڈ کا عملہ کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار نہ تھا۔ وہ حالات وہ وجوہات جو دو سال قبل بلدیہ فیکٹری میں جلتے زندہ انسانوں کو نہ بچانے کی بتائی گئیں تقریباً وہی سانحہ ایئرپورٹ میں کار فرما رہی اور اب وہی سب کچھ ٹمبر مارکیٹ کی آتشزدگی کے سلسلے میں دہرائی جا رہی ہیں۔

عالم یہ ہے کہ کسی بھی طرح کا خطرہ ہر وقت سر پر لٹکا رہتا ہے کوئی بھی ہنگامی صورتحال کسی بھی وقت پیش آسکتی ہے۔ مگر سارے ادارے بے فکری کی گہری نیند سو رہے ہیں خاص کر آتشزدگی کی روک تھام اور اگر آگ لگ جائے تو اس کو بجھانے اور پھیلنے سے روکنے کے انتظامات کا یہ حال ہے کہ فائربریگیڈ کا عملہ وقت پر موجود ہی نہیں ہوتا (اطلاع کے مطابق) فائرٹینڈرز کے ڈرائیور بھی موجود نہ تھے، پھر آگ بجھانے والی گاڑیوں میں ڈیزل تک نہ تھا وہ مہیا کردیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان میں پانی بھی ناکافی ہے پھر پتہ چلا کہ تنگ گلیوں میں آگ بجھانے کے لیے پائپ بھی موجود نہیں۔ ٹمبر مارکیٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین سلمان سومرو اربوں کے نقصان پر پریس کانفرنس کے دوران پھٹ پڑے کہ جب وزرا ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی فروخت کرنے میں ملوث ہوں گے تو فائربریگیڈ کی گاڑیوں کو پانی کہاں سے ملے گا؟ پریس کانفرنس میں تاجران صوبائی حکمرانوں کی سست روی اور نااہلی پر بھی برہم تھے اور اس حادثے کی تمام تر ذمے داری صوبائی انتظامیہ پر عائد کرتے رہے۔

غرض جو وجوہات بلدیہ فیکٹری اور ایئرپورٹ کے سردخانے میں زندہ جل جانے والوں کے سانحے میں سامنے آئیں تھیں وہی سب آج بھی جوں کی توں موجود ہیں۔ یعنی من حیث القوم کسی بھی حادثے سے سبق حاصل کرنا اور کوئی حکمت عملی تیار نہ کرنا گویا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔

حکمراں اپنی نااہلی، بے عملی اور غیر ذمے داری کا اعتراف کرکے مستعفی ہونے کے بجائے دوسروں کے بیانات کا ترکی بہ ترکی جواب دینے پر سارا زور صرف کر رہے ہیں متاثرین کے علاوہ ایک سیاسی جماعت نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ ’’لوگ فریاد کرتے رہے ان کی عمر بھر کی کمائی نذر آتش ہوتی رہی مگر حکمران نیند کی گولیاں کھا کر سوتے رہے۔ کراچی جو ملک کو 75فیصد اور سندھ کو 96 فیصد ریونیو دیتا ہے اس کو لاوارث قرار دے دیا گیا ہے۔ یہاں نہ کوئی میئر ہے نہ ناظم اعلیٰ، کراچی سے سوتیلی اولاد والا رویہ یہاں کے لوگوں کو حکمرانوں سے متنفر کر رہا ہے۔ عوام کے جذبات کا لاوا پھٹ گیا اور انھوں نے ٹیکس دینے سے انکار کردیا تو کون ذمے دار ہوگا؟‘‘ شہریوں نے بھی کہا کہ کراچی کو یتیموں اور لاوارثوں کی طرح چھوڑ دیا گیا ہے۔

حسب دستور وزیر اعظم، صدر مملکت، وفاقی وزیر داخلہ کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے اظہار افسوس و ہمدردی کے بیانات اور ضروری کارروائی کی ہدایات، امداد کی پیشکش بھی سامنے آتی رہیں۔ ظاہر ہے کہ سانحے کی تحقیق کے لیے کوئی کمیٹی بھی بنی ہوگی۔ حکومت سندھ نے متاثرین کو ایک لاکھ  امداد دینے کا اعلان کیا۔ تمام سیاسی و فلاحی جماعتوں نے امدادی کیمپ قائم کرکے متاثرین کو اشیائے خوردونوش فراہم کرنے کا کام شروع کردیا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسے ناگہانی حادثات کی روک تھام کے لیے جو ضروری امور سرانجام دینا اہم ہیں وہ کب کیے جائیں گے؟ ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر ہم شاید وقتی، سیاسی فائدہ تو حاصل کرلیں مگر مسائل کو حل نہیں کرسکتے۔

ہمارے اس غیر ذمے دارانہ رویے اور بے عملی کی عادت سے ہمارے دشمن بھی واقف ہوچکے ہیں۔ ذرا اس کا خیال رہے اگلے روز انارکلی بازار لاہور میں آتشزدگی کی وجوہات بھی تقریباً یہی ہیں بجلی کے تاروں کی دیکھ بھال اور بروقت درست نہ کرنا اور یو پی ایس پھٹنا اس سانحے کا اصل سبب بنا مالی نقصان کا ازالہ تو ہوسکتا ہے مگر لاہور میں جو جانی نقصان ہوا اس کا ازالہ ناممکن ہے۔ اس لیے یہ حادثہ بے حد افسوس ناک ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔