تازہ بکھیڑا

حسن رضوی ایڈووکیٹ  جمعرات 1 جنوری 2015

سیاست میں فروخت کے لائق مال تو تقریریں ہوتی ہیں جو ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں تو کبھی کبھی گلے میں اٹک جاتی ہیں۔ مگر اس خوف سے اگر تقریریں کرنا چھوڑ دی جائیں تو سیاسی کاروبار گھاٹے کا سودا بن جائے گا۔ مچھلی پکڑنے میں جو جال کام کرتا ہے سیاست میں وہی کام یہ تقریریں کرتی ہیں۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ کہیں کھیت کی سنیں کھلیان کی۔ جس پر ایک لطیفہ یاد آگیا۔ کہیں قوالی ہو رہی تھی قوال نے مصرعہ اٹھایا۔ دریا بہ حباب اندر۔ ایک صاحب کو حال آگیا۔ قصہ مختصر جب قوالی ختم ہوئی تو صاحب حال سے ان کے دوست نے پوچھا کہ فارسی کے مصرعے پر تم کیا سمجھے جو حال آ گیا۔ انھوں نے جواب دیا کہ تم تو جانتے ہو میرا چہیتا بندر آج شام مرگیا۔ میں اسی شش و پنج میں تھا کہ اسے دفن کروں یا کہیں پھینک آؤں۔ یہی سوچتا ہوا قوالی میں آگیا۔ قوال کو خدا جانے کیسے معلوم ہوا اس نے مسئلہ ہی حل کردیا کہ بندر بہ بہا دریا۔ اور اسی پر حال آگیا۔ تو صاحبو! ایسا بھی ہو جایا کرتا ہے۔

ہمارا موضوع تو سابق صدر آصف علی زرداری کی وہ تقریر ہے جو انھوں نے شہید بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقعے پر کی ۔ تقریر کیا تھی صبح ودم دروازہ … کھلا والا حساب ہے۔ انھوں نے معرکۃ الآرا ہدف کا تعین کردیا۔ شکایت کی جا رہی تھی کہ پیپلز پارٹی اپنا کردار ادا نہیں کر رہی۔ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے یا تو تکلف برت رہی ہے یا مروت اور لحاظ کر رہی ہے۔ اب اس پروپیگنڈے کا توڑ تو ڈھونڈنا ہی تھا۔ خوب سوچ بچار کے بعد ضرورت کے پیش نظر سیاست کے سنٹر فارورڈ کھلاڑی آصف علی زرداری نے سابق صدر پرویز مشرف پر نشانہ مارنے کی کوشش کی ہے۔

تقریر میں تو خیر حسب روایت بے باکی کرتے ہوئے، بلے کے لقب سے یاد کیا لیکن دوسرے ہی دن باقاعدہ چارج شیٹ جاری کردی کہ حکومت سندھ کو غیر مستحکم کرنے کا کردار بھی پرویز مشرف انجام دے رہے ہیں، لہٰذا وفاق کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ سیاست میں کچھ اچھا ہوتا ہے نہ کچھ برا۔ مقصد کے حصول کے لیے جو چال (Move) چلی جائے۔ اس کے نتیجے پر ہی قدروقیمت بنتی ہے۔ بڑی دانائی کے ساتھ پرویز مشرف کو مخالفت کا ہدف بناکر مہم شروع کردی گئی۔گویا اپوزیشن کا کردار شروع ہوگیا۔ ایک تو داخلی طور پر سندھ کے لیے یہ بات پرکشش ہے۔ پھر اس کے عقب میں بغیر نام لیے ایم کیو ایم کو بھی لپیٹا جاسکتا ہے۔

سندھ کی پی پی پی قوم پرست سندھیوں کی بھی ہمدردیاں حاصل کرسکتی ہے۔ یوں گرتی ہوئی (بعض لوگوں کا خیال ہے معدوم ہوتی ہوئی) پی پی پی کو بے ساکھی تو مل ہی گئی کہ سندھ حکومت کی بہترین کارکردگی پرویز مشرف کے ’’سازشی کردار‘‘ کی وجہ سے سامنے نہیں آرہی جیساکہ ماضی میں سابق صدر زرداری کی حکومت کے لیے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری رکاوٹ بنے رہے۔ یہ جمہوریت کی روایت ہے کہ مقتدر یا طاقت سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اگر ملک اور عوام کے مفاد کسی نکتے پر متصادم ہوجائیں تو عوام کا ساتھ دینا چاہیے جیساکہ ہم نے تحریک پاکستان میں دیکھا اور آخر کار پاکستان بن گیا۔

زرداری صاحب نے اس اقدام سے پی پی پی کا وہ سیاسی کردار منتخب کرنے کی کوشش کی ہے جس سے اسٹیبلشمنٹ کو جمہوری حکومت کے تابع رکھنے کا فلسفہ کام کرتا ہے۔ بلے بلے ایک رہنما نے تو کھل کر اظہار کردیا جب کہ یہی بات نواز شریف دل میں رکھتے ہوئے زبان پر نہیں لاتے۔ بہرحال جو مرتبہ نواز شریف کو حاصل ہوچکا اس پر تو زرداری صاحب کا پہنچنا مشکل ہی ہے۔ کیونکہ وقت ساتھ نہیں دے رہا۔ ولن پرویز مشرف اور ہیرو نواز شریف ہی سمجھے جائیں گے۔ مگر زرداری صاحب کے لیے حیرت زدہ کردینے اور توجہ حاصل کرنے کا موقع ضرور نکل سکتا ہے۔

آگے کسی مناسب ماحول میں اس موقف سے گریز کرکے مفاد اٹھایا جاسکتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو زرداری صاحب کی یہ بات بے وقت کی راگنی معلوم ہو رہی ہوگی۔ لیکن یہ بلا جواز نہیں پیر صاحب پگاڑا اور امین فہیم کی پرویز مشرف سے حالیہ ملاقات نے اس مسئلے میں بنت کا کام کیا ہے۔ رہا نیا کردار اختیار کرنے کا معاملہ تو کھوئی ہوئی ہمدردیاں حاصل ہونے کا تھوڑا بہت موقع ہے۔ یہ تو زرداری صاحب کے پہلو سے بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن فریق ثانی یعنی پرویز مشرف پر اس کے اثرات کا جائزہ لینے کا بھی موقع ہے کہ اس طرح زرداری صاحب نے بغیر کسی شہادت یا حقیقت کے پرویز مشرف کو فوج کا نمایندہ قرار دے دیا۔

یوں پرویز مشرف کی ساکھ فوج سے ہمدردی رکھنے والوں کی نظر میں بڑھ گئی جس میں ایم کیو ایم، پاکستان عوامی تحریک اور کسی حد تک پاکستان تحریک انصاف شامل ہیں۔ انھیں زرداری صاحب نے پرویز مشرف کی طرف دھکیل دیا۔سندھ کی حد تک ایک مضبوط اپوزیشن کا تصور بھی ابھرا جس کی ضرورت سندھ اسمبلی کی حزب اختلاف موثر طریقے پر انجام نہیں دے پا رہی تھی۔ بظاہر یہ چال تو سادہ سی نظر آتی ہے لیکن اس کے عواقب میں جو بکھیڑا کھڑا ہوتا نظر آرہا ہے۔ وہ سیاست کے طلبا کے لیے دلچسپی سے خالی نہ ہوگا ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔