بلوچستان کانسٹیبلری کے ڈیپو سے اسلحہ غائب کرنے میں پولیس افسران کے ملوث ہونے کا انکشاف

ویب ڈیسک  جمعـء 2 جنوری 2015
 خورد برد چھپانے کے لئے بدر لائن مال خانے میں جان بوجھ کر آگ لگائی گئی، سی سی پی او کوئٹہ۔ فوٹو؛ فائل

خورد برد چھپانے کے لئے بدر لائن مال خانے میں جان بوجھ کر آگ لگائی گئی، سی سی پی او کوئٹہ۔ فوٹو؛ فائل

کوئٹہ: بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں بلوچستان کانسٹیبلری کے مال خانے سے 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا اسلحہ غائب ہوگیا جب کہ اسلحہ کی خورد میں پولیس افسران کے ملوث ہونے کے شواہد بھی مل گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بلوچستان کانسٹیبلری کے کوئٹہ میں موجود بدرلائن مال خانے سے 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا اسلحہ غائب ہوگیا جب کہ اس حوالے سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق مال خانے سے 7 لاکھ سے زائد ایس ایم جیز کے راؤنڈز، متعدد کلاشنکوفیں، رائفلیں اور دیگر جدید اسلحہ شامل ہے۔ سی سی پی او کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ بی سی کے مال خانے سے غائب ہونے والے اسلحہ میں 4 اسلحہ ڈیلرز اور پولیس افسر کے ملوث ہونے کے شواہد مل گئے ہیں جن کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کانسٹیبلری کے مال خانے میں خورد برد کا سلسلہ 2011 سے جاری ہے جب کہ خورد برد چھپانے کے لئے بدر لائن مال خانے میں جان بوجھ کر آگ بھی لگائی گئی۔

دوسری جانب بلوچستان کانسٹیبلری کا اسلحہ غائب ہونے کا مقدمہ تھانہ کینٹ میں درج کیا گیا ہے جس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسلحہ کی خورد برد میں پولیس افسران ملوث ہیں جبکہ ابتدائی طور پرمال خانے کے انچارج سمیت 6 اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔