(بات کچھ اِدھر اُدھر کی) - الوادع 2015

ندیم جاوید عثمانی  جمعـء 2 جنوری 2015
سمجھ نہیں آتا کہ نئے سال کا آغاز یوں گولیوں کی بوچھاڑ سے کرنے والے سال کے باقی دنوں میں ہونے والی فائرنگ پرکیوں شکوہ کرتے ہیں؟ اندھی گولیوں اور دہشت گردی کے ہاتھوں مرنے والوں پر نام نہاد سوگ کیوں مناتے ہیں؟ فوٹو: ایکسپریس

سمجھ نہیں آتا کہ نئے سال کا آغاز یوں گولیوں کی بوچھاڑ سے کرنے والے سال کے باقی دنوں میں ہونے والی فائرنگ پرکیوں شکوہ کرتے ہیں؟ اندھی گولیوں اور دہشت گردی کے ہاتھوں مرنے والوں پر نام نہاد سوگ کیوں مناتے ہیں؟ فوٹو: ایکسپریس

12 بجتے ہی پہلے فائر کی آواز آنے کی دیر تھی کہ اُس کے بعد تو جیسے فائرنگ کی برسات شروع ہوگئی۔ میرے تصور میں نئے سال کو سلامی دینے کی نیت سے یوں فائرنگ کرنے والے لوگوں کے چہروں کے نقش بن اور مٹ رہے تھے جن میں مجھے ایک جوش ایک خوشی بغیر اُنھیں دیکھے بھی نظر آرہی تھی۔ 

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اپنے نئے سال کے پہلے دن کا آغاز یوں گولیوں کی بوچھاڑ سے کرنے والے سال کے باقی دنوں میں ہونے والی فائرنگ پرکیوں شکوہ کرتے ہیں؟ اندھی گولیوں اور دہشت گردی کے ہاتھوں مرنے والوں پر نام نہاد سوگ کیوں مناتے ہیں؟

کیا انھیں اس بات کا یقین ہے کہ یوں ہزاروں کی تعداد میں فائرنگ کی صورت چھوڑی ہوئی گولیوں میں سے کوئی اندھی گولی کسی کو نہیں لگی ہوگی؟

نہ مجھے نئے سال کی خوشی منانے پر اعتراض ہے نہ اس کے منانے سے اختلاف مگر خوشی کا یہ اظہار سمجھ سے بالاتر ہے، آخر اِس طرح خوشی منانے کا کیا حاصل جو کسی دوسرے کے غم کا سبب بن جائے؟

اپنے نئے سال کے پہلے دن کی بنیاد تو فائرنگ کی پہلی گولی کی صورت آپ نے خود کی ہے تو باقی دن تو دہشت گرد اس حالت کو مستقل رکھتے ہیں ( شاید اس سوچ کے تحت کہ ہمیں ان کو گولیوں کی آواز سننا ہی پسند ہے)۔

ابھی 16 دسمبر کو پندرہ دن ہی گذرے تھے تو کیا ہمارے ذہن سے اس سانحہ کا غم محو ہوگیا تھا۔ جس پرلوگ خبروں میں، سوشیل میڈیا پر انہی گولیوں پر یہ کہتے ہوئے رورہے تھے اور تنقید کررہے تھے کہ ہائے کیسے اُن بچوں کے نازک سینوں نے اُن گولیوں کو جھیلا ہوگا۔ پھر چار دن بعد اُسے بھول کران کی توپوں کا رُخ تھر میں بھوک سے مرتے ہوئے بچوں کی طرف ہوگیا کہ حکومت کی بے حسی کی گولیاں ان معصوموں کو نگل رہی ہیں۔

اور سال گذشتہ کی آخری رات انہی گولیوں کے ساتھ فائرنگ کی صورت خود اپنی خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ چند دن قبل ہی جوچیز وجہ غم بنی تھی آخر اُس میں یہ لوگ خوشی کیسے ڈھونڈ لیتے ہیں؟ یعنی ان کے لئے وجہ گفتگو ہونی چاہئیے پھر وہ خواہ کسی غم سے جڑی ہو۔

ہوسکتا ہے مندرجہ بالا عنوان دیکھ کر پڑھنے والے اس کو میرے سنکی پن سے تعبیر کریں جو سال کے پہلے دن ہی سال کو الوادع بول رہا ہے بعض لوگ میرا کچھ لکھا پڑھنے کے بعد مجھے ایک مایوس انسان بولتے ہیں اور میں اُن کی اس رائے کا بھی خیر مقدم کرتا ہوں۔ اگر وہ میری کسی تحریر سے متاثر نہیں ہوتے، اگر اُس تحریر میں انھیں مایوسی کے بادل برستے نظرآتے ہیں تواُنھیں اختلاف کا پورا حق ہے اور واقعی مجھے سمجھ بھی نہیں آتا کہ یہاں رونما ہوتے حالات و واقعات، لمحہ لمحہ بدلتے مناظر میں سے میں کن حالات، کن واقعات اور کس منظر سے اپنے لئے اُمید کی کرن نکالوں؟

میری طرح یہاں سوچ رکھنے والے یقیناً ہزاروں ہونگے جن کی سوچ کے باعث اُن پر مایوس انسان ہونے کی مہر ثبت کرکے اُن کی حقیقت پسندی کو مسترد کردیا جاتا ہوگا۔

اُمید درحقیقت یقین سے جڑی ایک کڑی ہے جو آپ کو یہ احساس دلاتی ہے کہ یہ ہوگا، ایسا ہوجائیگا۔ اب اگر کسی بہتری کے حوالے سے میں خود کو کسی بہتری کا یقین دلانے میں ناکام رہتا ہوں تو میں کیا کروں؟ خوش گمانیوں کی جنت میں رہنے والے کسی بھائی کے پاس اس کا حل ہو تو مجھے ضرور بتا دے۔ حالانکہ میں بھی چاہتا ہوں کہ ہر چیز بھول کر ایک عام آدمی کی طرح زندگی گذاروں جو کسی حادثے یا سانحے سے جڑی خبر پر دو چار دن واویلا کرتے ہیں اور پھر سے سب بھول کر زندگی کے رونق میلوں کی جانب لوٹ آتے ہیں۔

مگریہ دہشت گردی کے باعث مرنے والے، معاشی حالات کے باعث غربت کی چکی میں پسنے والے، حکومتی رویوں کے باعث روتے ہوئے یہ چہرے اور بھوک کے ہاتھوں مرتے ہوئے بچے اگر مجھے کسی خوش فمہی میں مبتلا نہیں کرپاتے تو میں کیا کروں؟ ایسی صورت میں شاید میرا ان ہوشمندوں کی حالت سے بہتر ہے میں اپنے سنکی پن کے ساتھ ہی خوش رہوں !

2013 میں ہونے والے حادثات و دہشت گردی کے واقعات 355 تھے اور اگر 2014 کا جائزہ لیا جائے تو اس کے حوالے سے ہونے والے دہشت گردی سے جڑے واقعات کی تعداد 391 ہے یعنی اس کی نسبت سال کے 365 دن کے ساتھ نکالی جائے تو بھی ان کی تعداد سال کے دنوں سے تجاوز کرجاتی ہے ۔ اب ایسے میں کیا کسی خوش اُمیدی کا دامن تھاموں ؟۔

جیسے کہتے ہیں کہ زندگی کے ہر لمحے کو آخری لمحہ اور ہر دن کو آخری دن سمجھ کر گذارنا چاہئے تو میں بھی بس سال کے پہلے دن کے بخیریت گذرنے پر الوادع 2015 کہہ رہا ہوں!

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔