ٹمبر مارکیٹ کا سانحہ اور بلدیاتی نظام

ڈاکٹر توصیف احمد خان  جمعـء 2 جنوری 2015
tauceeph@gmail.com

[email protected]

ملک کی قدیم ٹمبر مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے آگ بھڑک اٹھی۔ فائر اسٹیشن ٹمبر مارکیٹ سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ہے، مگر فائر بریگیڈ کی گاڑیاں 5 گھنٹے بعد پہنچیں، پھر گاڑیوں میں ڈیزل ختم ہو گیا، علاقے کے لوگوں نے ڈیزل فراہم کیا، پھر گاڑیوں میں پانی ختم ہو گیا۔ رینجرز اور پولیس حکام کی مداخلت پر اس علاقے سے تقریباً 4 کلومیٹر دور گارڈن کے پمپنگ اسٹیشن سے پانی فراہم کیا گیا، اس طرح 400 دکانیں، فلیٹ اور گودام تباہ ہو گئے۔ آگ کی شدت سے 3 منزلہ عمارت راکھ میں تبدیل ہو گئی۔

بہت سے لوگ اپنی جمع پونجی سے محروم ہو گئے۔ ایک باپ کے سامنے اس کی بیٹی کا جہیز جل گیا۔ ہزاروں لوگ اچانک سڑک پر آ گئے۔ اس آتشزدگی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ چند سال قبل کراچی کے ایک اور علاقے بلدیہ ٹاؤن کی گارمنٹ فیکٹری میں ایسی ہی خوفناک آگ لگی تھی، اس آگ میں 350 افراد جل کر مر گئے تھے۔ اس وقت بھی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں دیر سے پہنچی تھیں اور گاڑیوں کا پانی ختم ہو گیا تھا۔ اس آتشزدگی کے ساتھ ہی متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کی حکومت میں میڈیا وار شروع ہو گئی۔

روزنامہ ایکسپریس کے رپورٹر اشرف علی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ حکام کی غفلت کے باعث اربن سرچ اینڈ ریسکیو اکیڈمی 6 ماہ سے بند ہے۔ یہ اکیڈمی امریکا کے مشہور شہر ہوسٹن کی انتظامیہ کی مدد سے قائم ہوئی تھی۔ ہوسٹن کی انتظامیہ نے کروڑوں روپے کے جدید آلات فراہم کیے تھے اور 84 ملازمین کو تربیت دی گئی تھی۔ یہ آلات گودام میں بند ہیں اور ملازمین غیر فعال ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹمبر مارکیٹ کے ریسکیو آپریشن میں اس اکیڈمی کے صرف 20 ملازمین نے حصہ لیا تھا۔ خبروں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کراچی ڈسٹرکٹ کی ساؤتھ پولیس نے آتشزدگی کی وجوہات کا پتہ چلانے کے لیے خصوصی کمیٹی بنا دی ہے۔

اگرچہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے اور اس کا شمار دنیا کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے مگر کراچی اپنے انفرا اسٹرکچر اور جدید سہولتوں کے حوالے سے پسماندگی کا شکار ہے۔ برطانوی دور میں شہر میں کئی فائر اسٹیشن قائم تھے، ان میں سے ایک اسٹیشن ٹمبر مارکیٹ کے قریب قائم تھا۔ پاکستان بننے کے بعد چند اور فائر اسٹیشن بھی قائم ہوئے، البتہ انھیں جدید بنانے پر توجہ نہیں دی گئی۔ کراچی میں منتخب بلدیاتی اداروں کا نظام ایوب خان کے دور حکومت میں قائم ہوا مگر اس وقت کی بلدیاتی قیادت نے مستقبل کی ضروریات کا اندازہ نہیں لگایا۔

یہی صورتحال 2000ء تک رہی، اس عرصے میں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے قائدین شہر کے میئر رہے، صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی اداروں کی نگرانی کی، مگر شہر کی اس بنیادی ضرورت کو محسوس نہیں کیا گیا۔ پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں نچلی سطح کا بلدیاتی نظام قائم ہوا۔ پہلے نعمت اﷲ خان ایڈووکیٹ اور پھر مصطفیٰ کمال ناظم اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ ان رہنماؤں کے ادوار میں فائر بریگیڈ اسٹیشن اور ریسکیو سروس کے لیے خاطرخواہ رقم مختص ہوئی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں فائر اسٹیشن قائم کیے گئے۔ کسی دانا فرد کے مشورے پر اوورہیڈ برجز اور پلوں کے نیچے کی جگہیں فائر بریگیڈ کے محکمے کو دی گئیں، مگر اس عرصے میں بہت سے ایسے افراد بھرتی ہوئے جو سیاسی جماعتوں کے کارکن تھے۔

جب کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن ہوا تو پولیس حکام نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ فائر بریگیڈ کا مواصلاتی نظام دہشت گرد استعمال کر سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اقتدار میں آئی اور منتخب بلدیاتی ادارے اپنی قانونی عمر پوری کر کے ختم ہو گئے۔ پیپلز پارٹی نے بیوروکریسی کے ذریعے بلدیاتی اداروں کا نظام چلانا شروع کیا۔ بلدیاتی ادارے شدید مالیاتی بحران کا شکار ہوئے۔ یہ بحران گزشتہ 6 برسوں سے جاری ہے۔ یہ بھی الزام لگایا گیا کہ منتخب نمایندوں کے دور میں ملازمین کا پنشن فنڈ ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہوا مگر پیپلز پارٹی کی حکومت بلدیاتی اداروں کو فعال کرنے میں ناکام رہی۔ یہی وجہ ہے کہ فنڈز کی کمی کی بنا پر ریسکیو آپریشن بری طرح متاثر ہوا۔

اس صورتحال کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آگ لگی، یہ آگ 48 گھنٹے سے زیادہ عرصہ تک نہیں بجھ سکی۔ بلدیہ کا فائر کا محکمہ آگ بجھانے کے کیمیکل استعمال نہیں کر سکا۔ اسی طرح گاڑیاں راستوں میں بند ہوئیں، پانی ختم ہونے کی بنا پر ریسکیو آپریشن متاثر ہوا۔ ریسکیو کا عملہ جدید ترین سہولتوں سے لیس نہیں تھا۔ ان کے پاس دیواروں کو توڑنے اور اوپر کی منزلوں میں بیٹھے ہوئے افراد کو نکالنے کے جدید آلات نہیں تھے۔ اس وقت کئی لوگ دوسری منزل کی کھڑکیوں سے کود کر جاں بحق ہوئے تھے اور بہت سے زخمی بھی ہوئے تھے مگر ان افراد کو بچانے کے لیے کوئی جدید حکمت عملی استعمال نہیں کی گئی۔

ٹمبر مارکیٹ ایک گنجان آباد علاقہ ہے۔ اس کی گلیوں میں بڑی گاڑیاں داخل نہیں ہو سکتیں۔ کئی کئی منزلہ عمارتوں میں گودام اور دکانیں بھی ہیں اور فلیٹ بھی ہیں۔ پھر ان عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات میسر نہیں ہیں۔ اگر بلدیہ کراچی سول ڈیفنس کا محکمہ، لیبر ڈپارٹمنٹ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا عملہ اس علاقے کا باقاعدہ معائنہ کرتا اور جن دکانوں اور گوداموں میں آنے جانے کے راستے تنگ ہیں اور آگ بجھانے کے آلات نہیں ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہوتی۔

اس کے علاوہ علاقے کا نقشہ متعلقہ اداروں کے پاس ہوتا تو ریسکیو آپریشن زیادہ موثر ثابت ہوتا۔ علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ بلدیہ کراچی اور دیگر محکموں نے قانون پر عملدرآمد پر توجہ نہیں دی مگر لیاری گینگ وار میں ملوث گروہوں کو اس علاقے سے بھتہ وصول کرنے میں کوئی رکاوٹیں نہیں ڈالیں۔ یوں یہ سانحہ ظہور پذیر ہوا۔ مزدوروں کے مقدمات کی پیروی کرنے والے سینئر وکیل شاہد علی کا کہنا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری کی آگ حکومت سندھ کے لیے ایک الٹی میٹم تھا۔ اگر حکومت اس آگ کی وجوہات پر توجہ دیتی اور بلدیاتی اداروں کو فعال کرتی تو یہ سانحہ ظہور پذیر نہیں ہوتا۔ اگرچہ پولیس نے اس آتشزدگی کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اگر اس امکان پر بھی یقین کر لیا جائے کہ یہ تخریبی کارروائی ہے پھر بھی اگر ریسکیو آپریشن جدید خطوط پر استوار ہوتا تو نقصان بہت کم ہو سکتا تھا۔

شہریوں کی ترقی کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ نچلی سطح کا بلدیاتی نظام ہی شہروں کو ترقی دے سکتا ہے اور ریسکیو سروس کو جدید خطوط پر استوار کر سکتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے منشور میں جدید بلدیاتی نظام کا تصور ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کے دوران لندن میں ہونے والے میثاقِ جمہوریت کے معاہدے میں بلدیاتی اداروں کے قیام پر اتفاقِ رائے تو ہوا تھا مگر پیپلز پارٹی بلدیاتی نظام قائم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کراچی شہر میں مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کم ہو گئی ہے۔ عام آدمی چنگ چی جیسی سامان اٹھانے والی سواریوں پر سفر کرنے پر مجبور ہے۔ شہر میں پانی کی قلت ہے۔ بلدیہ کا عملہ تنخواہیں نہ ملنے کی بنا پر صفائی کا کام نہیں کرتا۔ یہ بیچارے مزدور ہر مہینے دو مہینے بعد کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کرتے ہیں۔ فائر بریگیڈ کا عملہ بھی تنخواہیں نہ ملنے کی بنا پر مایوسی کا شکار ہے۔ مشکل صورتحال میں ان کی کارکردگی ناقص ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی حقائق کا ادراک کرے اور نچلی سطح کا بلدیاتی نظام قائم کیا جائے جو انتظامی اور مالیاتی طور پر خودمختار نظام ہو، کونسلر کی سطح سے لے کر ناظمِ اعلیٰ کی سطح تک عوام کی نمایندگی ہو اور عوامی نمایندے ایسے سانحات کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کریں، اسی طرح کراچی کو آفات سے بچایا جا سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔