آمدنی اور مہنگائی

سعد اللہ جان برق  جمعـء 2 جنوری 2015
barq@email.com

[email protected]

داڑھی اور مونچھوں کے بارے میں آپ نے بے شمار کہاوتیں، محاورے، روزمرے اور حکایتیں، شکایتیں سنی ہوں گی لیکن آج کل ایک پشتو کہاوت کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جس میں ان مونچھوں کا ذکر ہے جو داڑھی سے بھی زیادہ بڑی ہو جاتی ہیں۔ عام طور پر کسی اصل چیز سے جب اس سے کوئی کم تر چیز زیادہ اہم ہو جاتی ہے تو ایسے موقع پر کہا جاتا ہے کہ مونچھ تو داڑھی سے بھی بڑی ہو گئی، یعنی چھوٹے میاں نے بڑے میاں سے بھی زیادہ کمالات دکھا دیے، مثلاً جب وزیروں سے زیادہ مشیر ہو جاتے ہیں ‘لیڈروں سے زیادہ ان کے چمچے ہو جاتے ہیں‘ افسر سے چپراسی کا نشہ بڑھ جاتا ہے یا اصل زر سے سود بڑھ جاتا ہے ‘مکان کی قیمت سے کرایہ زیادہ ہو جاتا ہے۔

کپڑے سے زیادہ درزی کی فیس ہو جاتی ہے اور گاڑی کی قیمت سے زیادہ مرمت کا بل آ جاتا ہے تو ایسے مواقع پر اس کہاوت سے کام چلایا جاتا ہے کہ اس کی توداڑھی سے مونچھیں زیادہ بڑی ہو گئیں، اس کہاوت کے اندر ہمارے لیے کچھ ’’تحقیق‘‘ کے جراثیم پائے جاتے ہیں یعنی ہم تحقیق کر کے یہ ثابت کر سکتے تھے کہ اس کہاوت کے موجد لوگ بڑی بڑی مونچھیں نہیں رکھتے تھے اور ان کے خیال میں بڑائی صرف داڑھی کو سزا وار تھی ۔۔۔۔ جس سے مزید حقائق یہ سامنے آ جاتے ہیں کہ پرانے زمانوں میں شاید بلکہ یقیناً مونچھیں بڑھانے کے مقابلے نہیں ہوتے جیسے کہ آجکل بین الاقوامی سطح پر باقاعدہ مقابلے ہوتے ہیں اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں فاتح مونچھوں یا چمپئن مونچھوں پر انعامات دیے جاتے ہیں۔

یہ تحقیق کی باتیں تو یونہی درمیان میں آگئیں ورنہ اصل تذکرہ ہم ان ہی مونچھوں کا کرنا چاہتے ہیں جو داڑھی سے کم از کم آٹھ گنا رفتار پر بڑھتی ہیں اور اتنی بڑھتی ہیں کہ بے چاری داڑھی کے وجود تک کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے جیسے مثلاً ہماری … یا ہماری نہ سہی کسی اور کی تنخواہ لے لیجیے… جن میں بڑی منتوں سماجتوں اور مہنگائی کے واسطے دے دے کر کچھ بڑھوتری ہو جاتی ہے لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے کچھ عرصے کے بعد مونچھیں انکم ٹیکس کی صورت میں اس تنخواہ کو کھاتی چلی جاتی ہیں چونکہ خدا کے فضل، امریکا کی دعا، آئی ایم ایف کی نظر عنایت اور حکومتوں کی جدوجہد سے ٹیکس کی بڑھوتری کی رفتار دن دونی رات چوگنی ہوتی ہے اس لیے سال ڈیڑھ سال میں بے چاری تنخواہ پگھلتے پگھلتے یا شرم کے مارے سکڑتے سکڑتے آدھی بلکہ چوتھائی سے بھی کم ہو جاتی ہے اور انکم ٹیکس کی مونچھیں دس پندرہ گنا بڑی ہو چکی ہوتی ہیں۔

ایک ٹوٹکہ یاد آیا کہیں اخبار میں پڑھا تھا کہ اگر آپ کی قینچی کند ہو گئی ہو اور فوری طور پر تیز کرنے کا کوئی بندوبست نہ ہو تو آپ کہیں سے المونیم فوائل حاصل کریں اور قینچی سے کاٹنا شروع کر دیں قینچی تیز ہو جائے گی، قینچی کا تجربہ تو ہم نہیں کر پائے کیوں کہ اس وقت ھمہ اقسام کی قینچیاں حکومت کی تحویل میں ہیں اور حکومت کے پاس وسائل (کم از کم قینچیاں تیز کرنے کے وسائل) کبھی کم نہیں ہوتے، لیکن ہمارے پاس تنخواہ کی صورت میں ’’المونیم فوائل‘‘ ضرور ہے جس سے ٹیکس والے اپنی قینچی تیز کرتے رہتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ مرزا غالبؔ کو بھی کسی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا غالباً کسی کے کہنے یا خود اپنے ارادے سے انھوں نے بہادر شاہ ظفر کی خدمت میں تنخواہ بڑھانے کی درخواست دینا چاہی ہو گی کیوں کہ خود ان کا کہنا ہے کہ

غالبؔ وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا
وہ دن گئے جو کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں

بہادر شاہ ظفر تو ان کی تنخواہ مقرر کر کے بھول گئے ہوں گے کیوں کہ ان کا بھلکڑ پن کچھ زیادہ ہی تھا، بھلکڑ نہ ہوتے تو انگریزوں سے بچنے کے لیے مقبرے میں کیوں پناہ لیتے، خیرغالبؔ کی تنخواہ باندھ کر وہ تو بھول بھال گئے ہوں گے لیکن ’’قینچیاں‘‘ تو کسی بھی دور کی بھلکڑ نہیں ہوتیں چنانچہ غالبؔ کی تنخواہ بھی ان قینچیوں سے گزر کر پہنچتی ہو گی تو آدھی رہ جاتی ہو گی، اپنی ایک خمسہ میں انھوں نے بہادر شاہ ظفر کی ایک غزل پر نصیحتیں بھی باندھی تھی جس میں ’’آدھی رہ گئی‘‘ کا بیان بتکرار ہوا ہے … یعنی

گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی
مر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی
سب ہی پڑھتا کاش! کیوں تکبیر آدھی رہ گئی
کھینچ کے قتل جب تری شمشیر آدھی رہ گئی
غم سے جان عاشق دلگیر آدھی رہ گئی

اس نظم میں بے چارے غالبؔ نے بہت ساری چیزوں کا ذکر کیا ہے جو آدھی رہ گئیں مثلاً تقدیر، تقریر، تدبیر، تحریر، بے پیر، تاثیر وغیرہ آدھی رہ گئی تھی حالانکہ بے چارے صرف اپنے وظیفے کے بارے میں بتانا چاہتے تھے لیکن براہ راست کہہ کر اپنی توقیر آدھی نہیں کرنا چاہتے تھے ویسے بھی شاعر لوگ اشاروں کنایوں میں بات کرنے کے عادی ہوتے ہیں جیسے

مطلب ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کام
چلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر

غالباً انھوں نے وظیفہ بڑھانے کی درخواست بھی تیار کرلی ہو گی جیسا کہ ان کی دیوان کی اکثر اندرونی شہادتوں سے پتہ چلتا ہے لیکن جب درخواست لے کر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ بادشاہ کے اردگرد باقاعدہ قینچیوں کی دیواریں کھڑی ہیں درخواست کیسے پیش کرتے جیب کے اندر ہی چر مر کر کے مسل دیا اور پرزے پرزے کر کے اگالدان میں ڈال دیا،بادشاہ کی نظر پڑی تو پوچھا کیا کر رہے ہو مرزا صاحب… مرزا صاحب کو اور کچھ نہیں سوجھا قینچیوں کی طرف دیکھتے ہوئے صرف شعر پڑھ کر رہ گئے کہ

دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا؟
زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا؟

ادھر کم بخت مہنگائی کی مونچھیں ریکارڈ بڑھوتری کر رہی ہیں اور ایسی کوئی داڑھی نہیں ہے جس کو مونچھوں نے گھیرا نہیں ہو گا ۔۔۔۔ چنانچہ ایک دن ہماری بھی چیخ نکلنے والی ہے۔ مہنگائی کے شکنجے میں پھنسی ہوئی ہماری بے چاری داڑھی آخر کب تک ٹھہر پائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔