ایرانی انٹیلی جنس عزیر بلوچ کو دبئی حکام سے حاصل کرنے کیلئے سرگرم

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 3 جنوری 2015
ایرانی انٹیلی جنس افسر لیاری گینگ وارکے سابق سربراہ عبد الرحمٰن بلوچ عرف رحمان ڈکیت کا انتہائی قریبی دوست تھا۔ فوٹو: فائل

ایرانی انٹیلی جنس افسر لیاری گینگ وارکے سابق سربراہ عبد الرحمٰن بلوچ عرف رحمان ڈکیت کا انتہائی قریبی دوست تھا۔ فوٹو: فائل

کراچی: ایرانی انٹیلی جنس کا ایک افسر عزیر بلوچ کو دبئی حکام سے حاصل کرنے کے لئے اپنی حکومت پر زور دے رہا ہے۔

عزیر بلوچ کے انتہائی قریبی ساتھی نے بتایا کہ عزیر بلوچ کا کراچی میں بہت بڑا نیٹ ورک ہے اس کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں یہ لالچ انٹیلی جنس افسر نے اپنی حکومت کو دیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ انٹر پول کے ہاتھوں مسقط ور ایران کی سرحد سے عزیر بلوچ کی گزشتہ اتوار کی صبح گرفتاری کے بعد ایران کے بلوچ علاقوں میں انٹیلی جنس کا کام کرنے والے شعبہ اطلاعات کا ایک افسر ناصراپنی حکومت کے اعلیٰ حکام کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ عزیر بلوچ کو ایران لے آئیں۔

انٹیلی جنس افسر نے اپنے اعلیٰ حکام سے کہا کہ وہ دبئی حکومت سے بات کریں کہ عزیر بلوچ پاکستان سے پہلے ان کا ملزم کیونکہ وہ ایران کے جعلی سفری دستاویزات استعمال کر رہا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ انٹیلی جنس افسر نے اپنے اعلیٰ حکام کو لالچ دی ہے کہ عزیر بلوچ کا کراچی میں بہت بڑا نیٹ ورک پھیلا ہوا ہے اور ایران اس سے اپنے ہر طرح کے مقاصد حاصل کرسکتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ انٹیلی جنس افسر ناصر کا کراچی کے علاقے گلشن اقبال، ڈالمیا، کلفٹن اور بیرون ملک دبئی میں گھر ہے، وہ گینگ وارکے سابق سربراہ عبد الرحمٰن بلوچ عرف رحمان ڈکیت کا انتہائی قریبی دوست تھا اور رحمن کے توسط سے عزیر بلوچ کی اس سے دوستی ہوگئی اور کچھ ہی دنوں میں دونوں کے بہت اچھے مراسم ہوگئے تھے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔