ورکنگ باؤنڈر ی پر جارحیت اوربھارت کا کشتی ڈراما

ایڈیٹوریل  منگل 6 جنوری 2015
دہشت گردی کی جس جنگ نے خطے کو جکڑ لیا ہے اس کا ادراک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فوٹو : فائل

دہشت گردی کی جس جنگ نے خطے کو جکڑ لیا ہے اس کا ادراک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فوٹو : فائل

بھارتی فورسز کی جانب سے ظفر وال اور شکرگڑھ سیکٹرز پر شہری آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں خاتون سمیت 5 شہری شہید جب کہ رینجرز اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے، فائرنگ سے متعدد مکانات کو بھی نقصان پہنچا جب کہ درجنوں مویشی بھی ہلاک ہوگئے، عسکری ذرایع کے مطابق پاک فوج کی بھر پورجوابی کارروائی  5 فوجی مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ماضی میں ورکنگ باؤنڈری پر دو طرفہ سیز فائر اور عدم جارحیت پر بھارتی دعوؤں کے باوجود ایک بار پھر مسلسل جارحیت خالی از علت نہیں ہے ۔

اگر بھارتی حکمراں پاکستان کے داخلی معاملات کے تناظر میں کسی بڑی ریشہ دوانی یا تزویراتی غلط فہمی کا شکار ہیں تو انھیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے اور پاک بھارت سرحد پر ہر قسم کی اشتعال انگیزی ترک کر کے امن پسندی کا ثبوت دینا چاہیے ۔ مگر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز نے پیر کو اچانک نارووال کی تحصیل شکرگڑھ اور ظفروال سیکٹرز کی دیہی آبادیوں پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری شروع کردی، بھارتی فوج نے مارٹر گولے بھی داغے جس کے باعث متعدد دیہات شدید متاثر ہوئے، ایسی صورتحال میں پاکستان کی طرف سے جوابی کارروائی ہوئی اور چناب رینجرز دشمن کو منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔ بھارت کی ملحقہ علاقوں پر بلا اشتعال فائرنگ ، گولہ باری اور سیالکوٹ  کے سرحدی علاقوں کو نشانہ بنانا شر انگیزی ہے۔

ادھر بھارتی وزیردفاع منوہر پاریکر نے کہا ہے کہ واقعاتی ثبوتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیو ایئر نائٹ پر پور بند کی ساحل کے قریب بھارتی کوسٹ گارڈز کی جانب سے روکنے کے بعد دھماکوں سے تباہ ہوکر سمندر میں غرق ہونے والی پاکستانی کشتی کی کڑیاں دہشت گردی کے کسی منصوبے سے ملتی ہیں ۔ بھارتی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ تباہ ہونے والی کشتی کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والے یعقوب ملاح کی ہے جب کہ دیگر دو افراد میں یاسین ابراہیم اور دھوبی شامل ہیں ۔تاہم دلچسپ تضاد یہ ہے کہ اس فرضی بھارتی افسانے کو کانگریس کی قیادت نے رد کردیا ہے ، اور کشتی کہانی کو ڈراما قرار دیا ہے۔ بھارتی اپوزیشن کانگریس کے مطابق بھارتی حکومت پاکستان پر ایسے الزامات لگا کر بے جا توجہ حاصل کرنا چاہتی ہے، علاوہ ازیں مودی حکومت نے ٹھوس ثبوت بھی نہیں دیے جس سے ثابت ہو کہ بڑا حملہ ہونا والا تھا ۔

اب اس ضمن میں کسی اور کو کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ خود ملک کی حزب اختلاف کانگریس تک اسے جھوٹ قرار دیتی ہے۔ اسی ناانصافی اور جبر وستم کا مظاہرہ مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے ۔ ادھر سانحہ سوپور کے 22سال مکمل ہونے پر منگل کو قصبے میں ہڑتال ہوئی، تمام کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے ۔ ادھر پاک نیوی کے اہلکاروں نے بین الاقوامی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے پر دو بھارتی کشتیاں قبضے میں لے لیں،پکڑی جانے والی کشتیاں بھارتی صوبہ گجرات کے ساحلی علاقے سے پاکستانی حدود میں داخل ہوئیں ۔ان ماہی گیروں سے باز پرس جاری ہے ۔ بھارتی اخبار ’’انڈین ایکسپریس‘‘ نے اسے پاکستان کی انتقامی کارروائی کہا ہے ، بہر کیف بھارتی حکام کسی نہ کسی بہانے سے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی روش ترک کریں ، دہشت گردی کی جس جنگ نے خطے کو جکڑ لیا ہے اس کا ادراک وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔