کھل پر5فیصد سیلز ٹیکس ختم کرنے کا اصولی فیصلہ

ارشاد انصاری  بدھ 7 جنوری 2015
کھل پر عائد 5فیصد سیلز ٹیکس کا بوجھ عام کسانوں پر پڑتا ہے جبکہ کپاس و چاول کی قیمتوں میں کمی کے باعث کسان پہلے ہی بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔  فوٹو: اے ایف پی/فائل

کھل پر عائد 5فیصد سیلز ٹیکس کا بوجھ عام کسانوں پر پڑتا ہے جبکہ کپاس و چاول کی قیمتوں میں کمی کے باعث کسان پہلے ہی بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے جانوروں کے چارے کے طور پر استعمال ہونے والی کھل (آئل سیڈ کیک)کو 5 فیصد سیلز ٹیکس سے چھوٹ اور بنولے (کاٹن سیڈ آئل) پر 6روپے فی من سیلزٹیکس کاٹن جنرز پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم حتمی منظوری کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی دے گی۔ ’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے جانوروں کے چارے کے لیے استعمال ہونے والے کھل کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے اور بنولہ پر عائد ٹیکس کاٹن جنرز کو منتقل کرنے کی سمری تیار کرکے وزارت خزانہ کو بھجوا دی ہے، وزارت خزانہ کی منظوری کی صورت میں وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے ذریعے یہ سمری کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ دستاویز میں بتایا گیاکہ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی جانب سے کھل کو 5 فیصد سیلز ٹیکس سے چھوٹ دینے پر زوردیا جارہا ہے، وزارت کا کہنا ہے کہ کھل پر عائد 5فیصد سیلز ٹیکس کا بوجھ عام کسانوں پر پڑتا ہے جبکہ کپاس و چاول کی قیمتوں میں کمی کے باعث کسان پہلے ہی بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔

دستاویز کے مطابق کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی تجویز موصول ہوئی ہے کہ جانوروں کے چارے کے طور پر استعمال ہونے والی کھل کو 5 فیصد سیلز ٹیکس سے چھوٹ دی جائے اور اس سے ریونیو کی مد میں ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے بنولہ پر عائد سیلز ٹیکس کو ہلوں (تیل نکالنے والے یونٹس)کے بجائے ان کاٹن جننگ یونٹس پر منتقل کردیا جائے جو تیل نکالنے والے یونٹس کو بنولہ سپلائی کرتے ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیاکہ بنولے کی ساڑھے 3 ہزار روپے فی 40کلو گرام کی مقررہ ویلیو پر 2 فیصد سیلز ٹیکس کی مد میں 70 روپے فی من فکس ٹیکس بنتا ہے ۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کپاس کی پیداوار کا تخمینہ 1کروڑ 40 لاکھ گانٹھیں لگایا گیا ہے اور 8 من فی گانٹھ پیداوار کے حساب سے مذکورہ کپاس سے 11 کروڑ 20لاکھ من بنولے کی پیداوار حاصل ہوگی ۔

جس میں سے 1 کروڑ 68 لاکھ من (15 فیصد) بوائی اور چارے کی مد میں نکل جائے گا اور 9 کروڑ 52 لاکھ من بنولہ کرشنگ کے لیے دستیاب ہوگا جس پر 6روپے فی من کے حساب سے مجموعی طور پر 57 کروڑ 12 لاکھ روپے سیلز ٹیکس کی مد میں ریونیو حاصل ہوگا۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ کسانوں کے لیے جانوروں کے چارے کھل کو5فیصد سیلز ٹیکس میں چھوٹ دینے سے ہونے والے ریونیو کے نقصان کو مذکورہ بالا تجویز کو لاگو کرکے پورا کیا جائے گا۔ دستاویز میں وزارت خزانہ کو تجویز دی گئی ہے کہ کسانوں کے لیے جانوروں کے چارے کھل کو 5فیصد سیلز ٹیکس میں چھوٹ دینے کی منظوری دی جائے لیکن اس کے ساتھ ہی کاٹن جنرز پر بنولہ سے تیل نکالنے کے لیے ان ہاؤس استعمال ہونے والے بنولے اور تیل نکالنے والے یونٹس کوبنولے کی سپلائی پر 6روپے فی 40کلو گرام کے حساب سے ٹیکس عائد کر دیا جائے۔ دستاویز میں سفارش کی گئی ہے کہ مذکورہ تجاویز کو رواں مالی سال کے لیے لاگو کرنے کی منظوری دی جائے جبکہ اس کے ساتھ معمول کی ٹیکس ریکوری کو بہتر بنانے کے لیے انفورسمنٹ کی صلاحیتوں کو بھی بڑھایا جائے گا۔

دستاویز میں کہا گیاکہ وزارت خزانہ کی جانب سے مذکورہ سمری کی منظوری کی صورت میں وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی سے کہا جائے گا کہ جانوروں کے چارے کھل کو 5فیصد سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی سمری تیار کرکے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)کو بھجوائی جائے اور اس بارے میں حتمی فیصلہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری سے کیا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔