ایسے 8 نئے سیارے دریافت ہوئے ہیں جہاں زندگی ممکن ہے، ماہرین فلکیات کا انکشاف

ویب ڈیسک  جمعرات 8 جنوری 2015
ان سیاروں میں زندگی کے آثار ماضی میں دریافت ہونے والے سیاروں سے کہیں زیادہ ہے،ماہرین فلکیات۔ فوٹو فائل

ان سیاروں میں زندگی کے آثار ماضی میں دریافت ہونے والے سیاروں سے کہیں زیادہ ہے،ماہرین فلکیات۔ فوٹو فائل

واشنگٹن: امریکی سائنسدانوں اور ماہرین فلکیات نے انکشاف کیا ہے کہ نظام شمسی میں 8 ایسے نئے سیاروں کی دریافت ہوئی ہے جن پر زندگی ممکن ہےاور ان کی آب و ہوا زمین سے بہت ملتی جلتی ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا اور دیگر ماہرین فلکیات نے کیپلر اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے کائنات کے رازوں سے مزید نئے انکشافات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ 8 ایسے سیاروں کا پتہ چلا ہے جہاں زندگی کو قائم رکھنے والے عناصر موجود ہیں اس طرح حیات کے عناصر رکھنے والے سیاروں کی تعداد 1000 ہوگئی ہے۔ ماہرین فلکیات کا کہنا تھا کہ نئے دریافت ہونے والے سیارے اپنے میزبان ستاروں سے مناسب فاصلے پر ہیں اس لیے امکان ہے کہ وہاں برف یا بھاپ نہیں بلکہ پانی موجود ہوگا جبکہ سورج سے مناسب فاصلے پر ہونے کے باعث زمین کی طرح مناسب روشنی حاصل کرتے ہیں۔

تحقیق کے بانی گوئلیرمو ٹورس کا کہنا تھا کہ اسی طرح ان سیاروں پر زمین کی طرز پر چٹانیں بھی موجود ہیں جب کہ ان کی سطح کی بناوٹ زندگی کے لیے موزوں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل زندگی کے آثار والے سیاروں کو 442 بی گروپ رکھا گیا تھا جب کہ نئے سیاروں کو 438 بی گروپ میں رکھا گیا ہے جب کہ پہلا گروپ ہماری زمین سے 1100 نوری سال کے فاصلے پر اور نیا دریافت ہونے والا گروپ 470 نوری سال پر واقع ہے اس لیے یہاں پہنچنا زیادہ آسان ہے۔

ماہر فلکیات پولیم کا کہنا تھا کہ سائنسدان ایک لاکھ 60 ہزار سیاروں کا 2009 سے کیلپر ٹیلی اسکوپ کی مدد سے مطالعہ کر رہے تھے جس کے نتیجے میں یہ 8 نئے سیارے سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ 438 بی گروپ کے سیاروں کا قطر زمین کے قطر سے 12 فیصد زیادہ ہے جب کہ ان کی 70 فیصد سطح زمین کی طرح چٹانوں سے بھری ہوئی ہے جو اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ان سیاروں میں زندگی کے آثار ماضی میں دریافت ہونے والے سیاروں سے کہیں زیادہ ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔