معاشرے اور قوم کا تحفظ

اکرام سہگل  جمعرات 8 جنوری 2015

آئینی ترمیم سے قطع نظر معاشرے کو اپنے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے۔ بلیک کی قانونی ڈکشنری میں خود حفاظتی کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے ’’اپنی‘ فیملی اور اپنی جائیداد کی کسی حملے کی صورت میں حفاظت کے لیے طاقت کا استعمال‘‘ نظریہ ضرورت کی بنیاد پر ’’خود حفاظتی‘‘ کا اختیار ہر مذہب اور قانون میں موجود ہے حتٰی کہ یہ اختیار ایک اجنبی کو بھی حاصل ہوتا ہے جب وہ کسی اور شخص یا اس کی جائیداد کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کے سیکشن 100 میں اس حق کا ذکر تصریحاً موجود ہے۔

افراد کو تو خود حفاظتی کے حقوق فطری طور پر حاصل ہیں لیکن پورے معاشرے کو بچانے کے حقوق کے حوالے سے بھی بحث مباحثہ ہوتا ہے بالخصوص دہشت گردی سے بچاؤ کے لیے ہمیں چاہیے کہ دہشت گردوں کو ان کے ٹھکانوں پر جا کر ان سے نمٹیں نہ کہ خوفزدہ ہو کر بیٹھے رہیں تاآنکہ وہ خود ہم پر حملہ نہ کر دیں۔ سوات اور فاٹا میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کے بعد پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے آپریشن شروع کر رکھا ہے اس حوالے سے مختلف حلقوں میں کچھ اضطراب موجود ہے جن کا کہنا ہے کہ بہت سے دہشتگرد شہری علاقوں میں آزادانہ نقل و حرکت کر رہے ہیں ۔

تاہم شہری علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے بارے میں جو منقسم سوچ موجود تھی وہ پشاور کے ہولناک واقعہ کے بعد یکجا ہو گئی ہے اور جس کے لیے ملکی آئین میں 21 ویں ترمیم کر لی گئی ہے جس کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں متفقہ طور پر منظوری بھی مل گئی ہے۔ دو مذہبی جماعتوں نے منفی ووٹ ڈالنے کے بجائے اپنے اختلاف کا اظہار غیر حاضر رہ کر کیا۔ خود حفاظتی کے جذبے کی مزید صراحت کے لیے آرمی کے یونٹ/ ذیلی یونٹ میں ’’ایڈ ٹو سول پاور‘‘ یعنی سول حکومت کی مدد کی شق موجود ہے۔ کسی بلوے یا فساد کی صورت میں پاکستان ملٹری لاء کی کتاب میں لکھا ہے کہ ڈیوٹی مجسٹریٹ بے قابو صورت حال کا کنٹرول آرمی کمانڈر کے سپرد کر سکتا ہے تا کہ شہریوں کی جان و مال کی بہتر طور پر حفاظت کی جا سکے۔

حتٰی کہ اگر ڈیوٹی مجسٹریٹ موقع پر موجود نہ بھی ہو تب بھی یہ فوج کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرے۔ فوجیوں کو ’’گولی مار کر ہلاک کرنے‘‘ کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے کیونکہ فسادیوں اور بلوایوں کو محض زخمی کر دینا ان کے تشدد میں مزید اضافے کا موجب بن سکتا ہے جس سے کہ صورت حال اور زیادہ خراب ہو سکتی ہے۔ اس میں منطق یہ ہے کہ دھچکا پہنچانے والی حکمت عملی کے نتیجے میں بے قابو مجمع مشتعل بھی ہو سکتا ہے۔

بے قابو ہجوم میں ان کے رنگ لیڈرز کو ہدف بنایا جانا چاہیے۔ بدقسمتی سے نشانہ وہ لوگ بن جاتے ہیں جو زیادہ قصور وار نہیں ہوتے اور جس کو بعد میں ’’کولیٹرل ڈیمج‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ ہر کمیونٹی کو خود حفاظتی کا حق حاصل ہے۔ اس قسم کے کولیٹرل ڈیمج کو اس صورت میں قبول کر لیا جاتا ہے جب کہ بے قابو مجمع میں شامل افراد خود ہی جج جیوری اور سزا دینے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں تو ایسی صورت میں فوجی عدالتوں کے ذریعے انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں کیا قباحت ہے۔

آصف علی زرداری نے فوج کو لیگل فریم ورک کے تحت خیبر پختونخوا میں کارروائی کرنے کی جو اجازت دی تھی شاید وہ اسے بھول چکے ہیں۔ آخر قابل عزت آئینی ماہرین جیسے کہ رضا ربانی اور اعتزاز احسن ہیں، انھوں نے اس ترمیم کی مخالفت کیوں کی ہے۔ یاد رہے صدر زرداری نے کہا تھا کہ تشدد پسند عناصر پاکستان کے خلاف جنگ کر رہے ہیں اور ہمارے انفراسٹرکچر کو تباہ کر رہے ہیں مزید برآں انھوں نے غیر قانونی نجی فوجیں بنا رکھی ہیں اور وہ پاکستان کے علاقوں پر اپنا قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس موقع پر مسلح افواج کو سول انتظامیہ کو مدد فراہم کرنے کے لیے نقل و حرکت کی اجازت دے دی گئی۔ جن کے انخلا کا اختیار بھی حکومت کے پاس ہوتا ہے۔

1984ء کے قانون شہادت کی خامیاں دور کرنے کے لیے (جو کہ 1872ء کے قانون شہادت سے اخذ کیا گیا تھا) اس میں مسلح افواج کے کسی بھی رکن کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ موجودہ حقائق کی بنا پر کسی ملزم کو سزا دے سکے۔ اگر 2011ء کا یہ قانون ’’اے اے سی پی آر‘‘ فاٹا اور سوات میں مقیم لوگوں کے لیے نافذ کیا جا سکتا ہے تو پاکستان کے دیگر شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کی کیا وجہ ہے۔ آخر آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمن اور رضا ربانی کی شکایت دور کرنے کے لیے کیا کیا ہے؟

باضمیر افراد کی سب عزت کرتے ہیں لیکن جب 2011ء میں اے اے سی پی آر نافذ کیا گیا تھا تو وہ کیوں چپ رہے، آصف زرداری کی مدد کے لیے یوٹرن لینے پر سینیٹر رضا ربانی اب آنسو بہا سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت وہیں رہتی ہے کہ آخر مذکورہ مسودہ قانون کے حق میں ووٹ دیتے وقت ان کے ضمیر نے کیوں انھیں نہیں روکا۔ جہاں تک مولانا فضل الرحمن کا تعلق ہے تو ان کو پتہ ہے کہ کہاں پر اور کس موقع سے کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے لیکن جماعت اسلامی کے مولانا سراج الحق یہ اصولی بات کر رہے تھے کہ اگر ہم نے دہشت گردوں میں امتیاز برتنا شروع کر دیا تو ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائیں گے۔ دہشت گردی کو من جملہ ہدف بنایا جانا چاہیے اور یہ کارروائی صرف مذہب یا فرقے کی بنیاد پر ہرگز نہیں کی جانی چاہیے۔

21 ویں ترمیم تو ایک آغاز ہے اس کو مزید بہتر بنانا چاہیے لیکن اس دوران ملک کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ ہمیں اکثریت کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ کو لفظی اور معنوی اعتبار سے نافذ العمل کر دینا چاہیے۔ یہ سچ کا لمحہ ہے معاشرے اور قوم کا تحفظ باقی ساری چیزوں پر مقدم ہونا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔