سچ یا سستی شہرت

وقار احمد شیخ  جمعرات 8 جنوری 2015
بگ باس کے گزشتہ سیزن میں ونر کا ٹائٹل جیتنے والی گوہر خان کوایسے کسی پبلسٹی اسسٹنٹ کی ضرورت نہیں۔ فوٹو گوہر خان فیس بک پیج

بگ باس کے گزشتہ سیزن میں ونر کا ٹائٹل جیتنے والی گوہر خان کوایسے کسی پبلسٹی اسسٹنٹ کی ضرورت نہیں۔ فوٹو گوہر خان فیس بک پیج

گزشتہ دنوں بھارتی اداکارہ گوہر خان کو اسٹیج پر ایک ’’مسلمان‘‘ فین کی جانب سے تھپڑ رسید کئے جانے کے واقعے نے کافی شہرت پائی۔ تھپڑ مارنے والے محمد عقیل ملک کا کہنا تھا کہ چونکہ گوہر خان مسلمان ہیں، اور یہ مسلمان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ڈانس یا کسی اور پرفارمنس کے لیے اس قدر نامناسب چھوٹے کپڑے زیب تن کرے۔

اس بات سے قطع نظر کہ کیا صحیح ہے کیا غلط، ملک صاحب یہ بھول گئے کہ اپنی غلطی یا شاید ’’سستی شہرت‘‘ حاصل کرنے کے لئے اسلام کا نام لینا بہت سے لوگوں کو ناگوار گزر سکتا ہے۔ اس واقعے کے بعد سوشل نیٹ ورکس اور مختلف فورمز پر عقیل ملک کے طرز عمل کو نامناسب قرار دیا گیا اور اس بات کی سخت مذمت کی گئی کہ عقیل ملک کو اپنے اعتراض میں ’’مذہب اسلام‘‘ اور ’’مسلمان‘‘ کو استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ بھارتی میڈیا ان واقعات کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنا بخوبی جانتا ہے۔ لوگوں کی آرا یہ بھی تھی کہ جب عقیل ملک خود کو اتنا ہی مسلمان سمجھتے ہیں تو انہیں اس طرح کے ڈانس شوز دیکھنے جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ شاید حد سے زیادہ مخالفت نے عقیل ملک کو بدحواس کردیا ہے یا شاید یہ بھی ’’سستی شہرت‘‘ حاصل کرنے کا ان کا کوئی نیا پینترا ہو کہ اب موصوف نے اداکارہ گوہر خان پر الزام عائد کیا ہے کہ اسٹیج پر تھپڑ مارنے کے لیے انہیں اداکارہ کی جانب سے رقم دی گئی تھی، نیز انہیں سلمان خان کی ’’دبنگ تھری‘‘ میں ایک رول دلانے کا بھی لالچ دیا گیا تھا۔

یا تو ملک صاحب بہت نادان اور نابالغ ذہن کے مالک ہیں یا پھر ہوسکتا ہے گوہر خان کی جانب سے دائر کئے گئے کیس کی سزا سے بچنے کے لیے ’’جوابی الزام‘‘ کا سہارا لے رہے ہوں۔ یہ بات ہضم کرنا مشکل ہے کہ انہیں’’دبنگ تھری‘‘ میں رول دلانے کی آفر کی گئی تھی اور انہوں نے اس پر یقین کرکے یہ اقدام اٹھایا ہو، کیونکہ بھارتی فلموں میں رول حاصل کرنا اس قدر ’’سہل‘‘ ہوتا تو ’’ممبئی نگریا ‘‘ جاکر بسنے کی خواہش میں بھارت کے ہزاروں نوجوان اور لڑکیاں اپنی جوانی اور عزتیں برباد نہ کرتے۔ نیزگوہر خان جیسی مشہور اداکارہ کو  پیسے دے کر یہ کام کروانے کی کیا ضرورت پڑسکتی ہے؟ جیسا کہ عقیل کا کہنا ہے کہ یہ گوہر خان کی جانب سے ’’مشہوری‘‘ کا طریقہ تھا۔


گوہر خان آدھا درجن کے قریب فلموں میں کام کرچکی ہیں اور 2009 میں ریلیز ہونے والی راکٹ سنگھ میں مرکزی کردار بھی نبھا چکی ہیں، نیز ’’بگ باس 7‘‘ نے ان کی شہرت کو اس قدر مہمیز دی کہ آج پاکستان میں بھی بگ باس دیکھنے والے شائقین ان کے نام سے واقف اور ان کے فین ہیں۔ بگ باس کے گزشتہ سیزن میں ونر کا ٹائٹل جیتنے والی گوہر خان کو تو شاید ایسے کسی پبلسٹی اسسٹنٹ کی ضرورت نہ ہو لیکن میڈیا کی چکاچوند اور لمحوں میں خبروں کا مرکز بننے کی خواہش عام آدمی کے دل میں لازمی کروٹ لیتی ہے، ہوسکتا ہے یہ واقعہ ایسی ہی کسی تشنہ خواہش کا شاخسانہ ہو۔

عقیل ملک بے شک اس واقعے سے اس قدر مشہور نہیں ہوئے لیکن اب ایک اداکارہ کو اسٹیج پر تھپڑ مارنے کا جرم ان پر عائد ہے اور بھارت ایسے ’’سیکولر‘‘ ملک میں کچھ بعید نہیں کہ انہیں محض ایک ’’تھپڑ‘‘ کے جرم میں سخت سزا سنائی جائے، کیونکہ بھارت کی یہ انصاف پسندی عالمی میڈیا پر چھانے کے لئے صرف ایسے ہی ’’چھوٹے موٹے‘‘ واقعات میں نظر آتی ہے ورنہ دہشت گردی، متشددانہ نظریات و واقعات اور قتل و غارت گری جیسے کتنے ہی بڑے واقعات کی فائل گرد تلے دب کر نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ سزا سے بچنے کے لئے اداکارہ پر الزام لگانا ایک اور قابل مذمت فعل ہے۔ گوہر خان نے بھی اپنے ٹوئیٹ میں یہ واضح کیا ہے کہ ان پر پیسے دینے کا الزام ملک عقیل کا سزا سے بچنے کا ایک طریقہ کار ہے اور کچھ نہیں، ورنہ وہ اس شخص سے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں ملیں اور پہلی مرتبہ ان کا سامنا وقوعے کے روز ’’انڈین را اسٹار‘‘ کے فائنل میں ہی ہوا تھا۔

سستی شہرت حاصل کرنے کے ایسے الزامات دیگر اداکاراؤں پر بھی لگتے رہے ہیں، ہماری پاکستانی ایکٹریس ’’میرا‘‘ تو اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی بدنام ہیں کہ کبھی ان کا بھری تقریب میں پرس ’’چوری‘‘ ہوجاتا ہے، تو کبھی ان کے گھر پر فائرنگ، یا پھر ڈکیتی اور ذاتی لیپ ٹاپ چوری ہونے کے بعد خالص ’’نجی‘‘ ویڈیوز انٹرنیٹ پر گردش کرنے لگتی ہیں۔ ناقدین ان واقعات کو بھی سستی شہرت کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ عقیل ملک نے اداکارہ گوہر خان پر جو الزام عائد کیا ہے وہ محض الزام ہے یا واقعی سستی شہرت حاصل کرنے کا فارمولا یہ تو تحقیقات کے بعد سامنے آہی جائے گا، فی الحال تو ہم سستی شہرت کے خواہشمند دیگر نوجوانوں کو یہی مشورہ دینا چاہیں گے کہ پیسوں یا فلم میں کام کرنے کا لالچ کہیں نہیں بھی ایسی مصیبت سے دوچار نہ کردے اس لیے ہوشمندی سے کام لیں، نہ تو ’’دبنگ تھری‘‘ میں کاسٹ ہونا اتنا آسان ہے کہ ایک اداکارہ فیلڈ سے باہر کسی شخص کی سفارش کرسکے ، نہ ہی پیسے لے کر کسی کو تھپڑ مارنے سے آپ قانون سے بچ سکیں گے۔


نوٹ: ایکسپریس نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

وقار احمد شیخ

وقار احمد شیخ

بلاگر جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز ہیں اور گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ موصوف اپنے حقیقی نام کے علاوہ ’’شایان تمثیل‘‘ کے قلمی نام سے نفسیات وما بعدالنفسیات کے موضوعات پر ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ کالم نگاری کے علاوہ کہانیوں کی صنف میں بھی طبع آزمائی کرتے رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔