افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے اہم فیصلے

ایڈیٹوریل  جمعرات 8 جنوری 2015
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اور خیبرپختو نخوا حکومت کے مابین افغان پناہ گزینوں کو خیبر پختونخوا سے نکالنے کے معاملے پر اختلاف رائے میں خاصی شدت پائی جاتی ہے۔ فوٹو :فائل

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اور خیبرپختو نخوا حکومت کے مابین افغان پناہ گزینوں کو خیبر پختونخوا سے نکالنے کے معاملے پر اختلاف رائے میں خاصی شدت پائی جاتی ہے۔ فوٹو :فائل

ملکی سیاست اور اس کے بے شمار سماجی اور معاشی مسائل میں افغان پناہ گزین گزشتہ چار دہائیوں سے ایک اہم عنصر رہے ہیں، ایک طرف ان پناہ گزینوں کی افغانستان میں جزوی امن و استحکام کے بعد واپسی اسٹیبلشمنٹ کے لیے  مخمصہ اور قوت فیصلہ کے فقدان کا باعث رہی تو دوسری جانب ہر آنے والی حکومت کو بھی افغان مہاجرین کے حوالہ سے ملک بھر میں سماجی جرائم اور معاشی دباؤ سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا تاہم اگلے روز وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا کہ افغان مہاجرین کو31دسمبر 2015ء کے بعد پاکستان میں قیام میں توسیع نہیں دی جائے گی جب کہ شہری علاقوں میں قیام پذیرافغان مہاجرین کو افغان کیمپوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ خوش آئند فیصلہ اور ایک باوقار سٹریٹجی ہے ۔

جس کے تحت مہاجرین کو جلد سے جلد وطن واپس بجھوانے کے لیے  یو این ایچ سی آر سے معاملات طے کیے جا رہے ہیں۔ ادھر خیبر پختونخوا حکومت کے حکام نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کا بہت زیادہ بوجھ ہے اسلیے وفاقی حکومت افغان مہاجرین کا بوجھ چاروں صوبوں میں برابری کی سطح پر تقسیم کرے ۔ اس میں شک نہیں کہ ان اقدامات سے افغان مہاجرین خوش نہیں ہوں گے اور مہاجر کیمپوں اور افغان اکثریتی علاقوں میں  پولیس کے کریک ڈاؤن پر افغان حکومت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اور خیبرپختو نخوا حکومت کے مابین افغان پناہ گزینوں کو خیبر پختونخوا سے نکالنے کے معاملے پر اختلاف رائے میں خاصی شدت پائی جاتی ہے، صوبائی حکومت افغان پناہ گزینوں کی مزید مہمان داری سے انکاری ہے جب کہ وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ افغان پناہ گزین سہہ فریقی معاہدے کے تحت رہ رہے ہیں ۔

ایسی صورت میں وفاق کو اپنی رٹ قائم کرنے اور فیصلہ پر عمل کرنے میں کسی قسم کی پس وپیش نہیں کرنی چاہیے بلکہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں پناہ گزینوں کے فنڈ سے منسلک مفادات کی خاطر ان کی وطن واپسی موخر کرنے کی کوئی کوشش تو نہیں ہورہی۔ افغان حکام نے خیبرپختونخوا میں مقیم افغانوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے جس میں صوبے میں مقیم افغان شہریوں کو درپیش مشکلات پر تبادلہ خیال ہوگا اور تحریک انصاف کے سربراہ کو بریفنگ دی جائے گی اور ان کو قائل کیا جائے گا کہ قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو بے جا تنگ نہ کیا جائے۔ ادھرصدر بیرونی اور ٹیکسلا کے علاقے میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے سرچ آپریشن کے دوران 2افغان باشندوں سمیت 8 مشکوک افراد کو حراست لے لیا ،افغان باشندوں سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے، مذکورہ افراد پاکستان میں رہائش کا ثبوت پیش نہ کرسکے ۔

ارباب اختیار ادراک کریں کہ ملک کا مفاد ہر شے پر مقدم ہے، اہل وطن نے بدترین بدامنی اور پر آشوب ادوار میں اپنے افغان بھائیوںٕ کی مہمان داری اور خیر سگالی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی مگر اب جب کہ صدر اشرف غنی اور افغان انتظامیہ کے مثبت اقدامات کے باعث امن و استحکام کا دور آرہا ہے تو افغان پناہ گزینون کو رخت سفر باندھ لینا چاہیے۔ پاکستان کو اپنے آئی ڈی پیز کی بحالی اور واپسی کا مشن مکمل کرنا بھی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔