ایسی ماں؟

اسعد الدین  جمعـء 9 جنوری 2015
کھلے گلاب جیسی اماں یا تو اخبار یا پھر 
ٹی وی میں ہی دکھائی دیتی ہے۔
 جو کچن میں ہانڈی بھونتے ہوئے ہشاش بشاش، کپڑے دھلائی کرتے ہوئے خوش باش، گھر آئے مہما نوں کی میزبانی کرتے ہوئے باغ و بہار اور دفتر میں کا م کرتے ہوئے مسکان انداز میں نظر آتی ہے۔ فوٹو: فائل

کھلے گلاب جیسی اماں یا تو اخبار یا پھر ٹی وی میں ہی دکھائی دیتی ہے۔ جو کچن میں ہانڈی بھونتے ہوئے ہشاش بشاش، کپڑے دھلائی کرتے ہوئے خوش باش، گھر آئے مہما نوں کی میزبانی کرتے ہوئے باغ و بہار اور دفتر میں کا م کرتے ہوئے مسکان انداز میں نظر آتی ہے۔ فوٹو: فائل

سوال کچھ ایسا تھا کہ کوئی جواب سمجھ نہیں آیا، بہت سوچا خاصا دماغ لڑایا پھر بھی بات عقل میں نہیں آئی کہ دھلی دھلا ئی، نکھری نکھری نئی نکور ایک دم تازہ دم، نئے کپڑوں اور میک اپ سے سجی ہوئی ہر وقت ہنستی مسکراتی ماں کہاں ہوتی ہے؟؟ کہاں پائی جاتی ہے؟؟

یہ جو صبح صبح بچوں کو نیند سے جگانے، منت سماجت کرکے ان کا منھ دھلوانے، ہزار ہزارجتن کرکے انہیں ناشتہ کروانے،  نوالے بنا بنا کر ان کے منھ میں ڈالنے، اسکول کے بھاری بستے اپنے کاندھے پر لادکر اسکول تک پہنچانے یا اسکول کی وین کا انتظار کرکے انہیں روانہ کرنے کے بعد گھر آکر شوہر کو نا شتہ دینے، باورچی خانے کو سمیٹنے، اس کے بعد کمرے کی صفائی اور پھر شام تک ایسے ہی بیسیوں کاموں کے بعد کون سی اماں اتنی فریش رہتی ہے؟؟

خاصا سر کھپانے کے بعد پتا چلا۔۔۔ اوہ ہو۔۔۔ یہ تو ’ٹی وی والی اماں‘ ہے جو ہروقت اسٹینڈ بائی رہتی ہے اب تک تو سارا فوکس اشتہار پر رہتا تھا اس لئے اندازہ نہیں ہوا کہ کھلے گلا ب جیسی اماں یا تو اخبار یا پھر ٹی وی کے اشتہار میں ہی دکھا ئی دیتی ہے جو اسکول سے بچوں کی واپسی پر استقبال کرتے ہوئے تازہ، کچن میں ہانڈی بھوننتے ہوئے ہشاش بشاش، کپڑے دھلائی کرتے ہوئے خوش باش، گھر آئے مہما نوں کی میزبانی کرتے ہوئے باغ و بہار، دفتر میں کا م کرتے ہوئے مسکان انداز، ٹھیلے سے آلو پیاز خریدتے ہوئے چاق و چو بند، شاپنگ سینٹر میں پھر تیلا انداز، حتٰی کہ رات میں بچے کی بے وقت طبیعت خراب ہونے پر ڈاکٹر کے پاس بھی اتنے کیو ٹ گیٹ اپ میں کہ بس ۔۔۔۔۔

اب تک تو یہی دیکھتے آئے تھے کہ گھرداری، بچوں کی دیکھ بھال، تعلیم و تربیت میں غرق ہونے کے بعد یہ خیال رہتا ہے نہ وقت کہ اخبار اور ٹی وی اشتہار میں دکھائی دینے والی اماں کی طرح اپنے آپ کو تازہ ہوا کا جھونکا بنا سکے۔ یہاں پہنچ کر خیال آیا کہ ہو سکتا ہے کہ زمانے نے ترقی کرلی ہو اور پرانے زمانے کی اماں کی جگہ نئی اماں نے لے لی ہو اتنے میں ایک دوست نے با ت سنی اور دھیرے سے کا ن میں کہا  کنفرم کرو۔ کہیں نئے پاکستان کی طرح یہ’ نئی اماں‘ تو متعارف نہیں کرا ئی جا رہی؟؟؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

اسعد الدین

اسعد الدین

محمد اسعد الدین۔۔۔کریٹو رائٹر۔ریسرچر اینڈ فیملی ڈیولپمنٹ کا ؤنسلر

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔