کرائے کا ڈھول!

ندیم جاوید عثمانی  بدھ 14 جنوری 2015
اپنے گھر کی طرف چلتے ہوئے میں دُعا کررہی تھی کہ اللہ کرے عورتوں کے حقوق کے لئے یہ ریلیاں روز نکلیں کم از کم مجھے اپنے بچوں کے کھانے کے بندوبست کے لئے یوں روز تو فکرنہیں کرنا پڑے گی۔ فوٹو: فائل

اپنے گھر کی طرف چلتے ہوئے میں دُعا کررہی تھی کہ اللہ کرے عورتوں کے حقوق کے لئے یہ ریلیاں روز نکلیں کم از کم مجھے اپنے بچوں کے کھانے کے بندوبست کے لئے یوں روز تو فکرنہیں کرنا پڑے گی۔ فوٹو: فائل

آپ نے دیکھا ہوگا کہ کیسے شادی بیاہ یا کسی دیگر خوشی کے موقعوں پر کرائے کا ڈھول منگواکرلڑکیاں اپنی سکھیوں کے ساتھ مل کر خوشی کے اظہار کے لئے کسطرح اُس ڈھول کو پیٹ پیٹ کر اپنی خوشی کا اظہار کرتی ہیں اور تھاپ کی صورت پڑنے والی ہر چوٹ کے باعث ڈھول کی آواز پہلے سے مزید بلند ہوجاتی ہے تو سب کے چہرے خوشی کے گیت گاتے ہوئے چمکنے لگتے ہیں۔ ڈھول کو دی جانے والی یہی تکلیف دوسروں کی خوشی کا باعث بنتی ہے اور یہاں خوشی کی گھڑیاں رخصت ہوئیں نہیں کہ اس ڈھول کو بھی گھر سے رخصت کردیا جاتا ہے!

میں پچھلے ایک گھنٹے سے جس سگنل پرکھڑی تھی یہ شہر کا ایک مصروف ترین سگنل تھا جو گذشتہ پانچ سالوں سے میرے کھڑے ہونے کا ٹھکانہ بنا ہوا تھا۔ یہاں میرے علاوہ کافی فقیر بھی کھڑے ہوتے تھے کچھ کو تو میں گذشتہ پانچ سالوں سے مستقل دیکھ رہی تھی۔ ان کے ساتھ کھڑے رہ رہ کرمجھے بھی اپنا وجود کسی بھکارن کی طرح لگنے لگا تھا، بس فرق صرف اتنا تھا کہ ملنے والی بھیک کے عوض مجھے دعاؤں کی جگہ اپنا آپ دینا پڑتا تھا۔ سگنل پر کھڑے رہ کر میری نظریں آتے ہوئے مردوں اور جاتی ہوئی گاڑیوں پراس خیال سے ٹکی رہتی تھیں کہ دیکھو کب کوئی مرد رُکے یا کب کوئی ہارن بجےاورسگنل کی لال بتی کا اشارہ ہوتے ہی میرے وجود کی پیلی بتی پوری آب و تاب سے روشن ہوکر کسی ہرے اشارے کی منتظر ہوجاتی تھی!

میں نے جب سے یہاں پرکھڑا ہونا شروع کیا تھا تب سے آج تک نجانے یہاں ہوئے کتنے تماشے دیکھ چکی تھی۔ اس راہ سے کبھی جلوس گزرتے تھے تو کبھی ریلیاں لیکن ان میں میری دلچسپی کبھی نہیں رہی بلکہ میری توجہ کا مرکز تو صرف وہ ریلیاں رہتی تھیں جو کبھی کبھار یہاں سے عورت کے حقوق اور اُس کی عزت کے تحفظ کی خاطرنکلتی تھیں اور ان ریلیوں سے بلند ہوتے عورت کی عزت اور احترام کے لئے لگائے جانے والے نعروں کا شور جب کسی پھٹے ہوئے ڈھول کی مانند میری سماعت پر ہتوڑے برسانے لگتا تو اس شور کے ناقابل برداشت ہونے کی صورت میں کچھ دیر کے لئے میں اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتی تھی۔

اُس دن بھی میں شام کو اپنے وقت مقررہ پر اپنے مخصوص سگنل کے نیچے آکر کھڑی ہوگئی تھی۔ کل یہاں تین گھنٹے مسلسل کھڑے رہنے کے باوجود بھی کوئی ہرا اشارہ نہ مل سکا تھا جس کے باعث مجھے خالی ہاتھ گھر لوٹنا پڑا اور میرے تینوں بچوں کو روکھی سوکھی کھا کر سونا پڑا تھا۔ آج دوپہر سے وہ بھوکے تھے اور مجھے یہ سوچ مارے ڈال رہی تھی کہ اگر میں آج بھی خالی ہاتھ گھر واپس لوٹی تو میرے بچوں کو آج بھی بھوکا ہی سونا پڑے گا۔ اس خیال کے آتے ہی جہاں میری روح فناء ہونے لگتی وہیں میری نظروں میں آتے ہوئے مردوں اور جاتی ہوئی گاڑیوں کو دیکھنے میں شدت آگئی۔

گزرے ہوئے پانچ سالوں کے ہردن نے میرے وجود کے ڈھول پر پڑنے والے ہاتھوں کی تھاپ کہ اتنے نشان چھوڑے تھے جنہوں نے میرا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا تھا اب میری حالت پاس کے اُس ڈھول کی سی ہوچکی تھی جس کے پاس ہونے کے باوجود بھی بجانے والوں کواس سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ یہی وجہ تھی کہ اب میری توجہ کا مرکز بھرے ہوئے پیٹ والوں کی جگہ خالی پیٹ والے اُن بھوکوں پر ہوتی تھی جن کو شدید بھوک کے باعث دال بھی مرغی کا مزہ دینے لگتی ہے۔ یہ بھوک بھی کتنی عجیب ہوتی ہے نا؟ ایک بھوکے کی بھوک دوسرے کتنے بھوکوں کا پیٹ بھرنے کا باعث بن جاتی ہے!

ابھی نجانے میں اور کتنی دیر اپنے ان خیالوں میں گم رہتی کہ اچانک میری ان سوچوں کا سلسلہ کہیں قریب سے بُلند ہوتے ہوئے شورکے باعث ٹوٹ گیا۔ میں نے نظریں گھما کر دیکھا تو پیچھے کافی بڑی تعداد میں عورتوں اور چند مردوں پر مشتمل ہاتھوں میں خواتین کے حقوق کے لیے پلے کارڈ اُٹھائے عورت کے ہوتے استحصال کے خلاف نعرے بلند کرتی ہوئی ایک ریلی چلی آرہی تھی ۔

جب یہ ریلی میرے قریب سے گذری تو اُس ریلی میں شامل ایک مرد کے چلتے قدم مجھے یوں کھڑا دیکھ کر ایک لمحے کو ٹھٹک کر رُکے اور اُس نے مجھے بھرپور نظروں سے گھو رکر دیکھا گو میں اُس کی آنکھوں کی طلب سمجھ چکی تھی مگرشاید عورتوں کے حقوق کے لئے آوازیں بُلند کرتے ہوئے ابھی اس ریلی کومزید کہیں دور جانا تھا۔ اس لیے وہ چاہ کر بھی نہیں رُک سکا اور میں مایوس ہوکر ایک بار پھر واپس آتی اور جاتی ہوئی گاڑیوں کو دیکھنے میں مشغول ہوگئی ۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ میں نے دیکھا کہ وہی آدمی ریلی چھوڑ کر پلٹ کر آرہا تھا اور اُس کے یوں واپس آنے پر میرے مُنہ سے یہ سوچ کر اطمینان کا سانس خارج ہو ا کہ چلو آج کے دن کے لئے تو کوئی بھوکا ملا۔ وہ میرے قریب آکررُکااُس کی آنکھوں کے سوال کے جواب میں، میں اُس کے پیچھے خاموشی سے چلدی۔

اور جب دوگھنٹے بعد میں اُس کے گھر سے نکل رہی تھی تو اُس نے چپ چاپ میری مطلوبہ رقم میرے ہاتھ میں تھمادی میں نے نوٹ گنے تو اُن میں ایک سلوٹ زدہ بری طرح مُڑا تُڑا سو کا نوٹ زیادہ تھا۔ میں نے مُسکراتے ہوئے نوٹ اُس کی جانب واپس بڑھاتے ہوئے بولا یہ ایک نوٹ غلطی سے زیادہ آگیا ہے؟ میری بات پر وہ کھسیانی سی ہنسی ہنستے ہوئے بولا نہیں یہ تو میں نے ہی خلوص کے طور پر زائد رکھا ہے میری طرف سے اس نوٹ سے دودھ پی لینا۔ اگلے ہفتے ہمارا پھر ایک ریلی نکالنے کا ارادہ ہے موقع ملا تو پھر ملاقات ہوگی!

اور اب اپنے گھر کی طرف چلتے ہوئے میں دُعا کررہی تھی کہ اللہ کرے عورتوں کے حقوق کے لئے یہ ریلیاں روز نکلیں کم از کم مجھے اپنے بچوں کے کھانے کے بندوبست کے لئے یوں روز تو فکرنہیں کرنا پڑے گی ۔ اسی خیال کے ساتھ ہی میری گرفت اُس سو کے نوٹ پر اور بھی شدید ہوگئی اور مجھے یقین تھا کہ میرے یوں نوٹ کو دبانے سے اُسکی سلوٹیں بھی مزید بڑھ گئی ہوں گی!

نوٹ: ایکسپریس نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔