نئے سال میں نوجوانوں سے وابستہ توقعات

صفورا نثار  اتوار 11 جنوری 2015
ہمارے نوجوانان اپنے گزشتہ سال پر نظر ڈال کر اپنی کوتاہیوں سے عبرت حاصل کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔  فوٹو : فائل

ہمارے نوجوانان اپنے گزشتہ سال پر نظر ڈال کر اپنی کوتاہیوں سے عبرت حاصل کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ فوٹو : فائل

وقت ہاتھوں سے ریت کی مانند پھسلتا جا رہا ہے۔ دن تسبیح کے دانوں کی طرح ایک کے بعد ایک آتے اور ماہ و سال میں متغیر ہوتے جارہے ہیں۔

وقت اپنی ایک ہی رفتار سے رواں دواں ہے، کبھی راتیں طویل اور دن مختصر اور کبھی دن طویل اور راتیں مختصر، مگر آج کل شب و روز کی طوالت اور اختصار کسی پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی ہماری ایک سہیلی کہنے لگی راتیں کچھ لمبی نہیں ہو گئیں؟ اس کے جواب میں دوسری سہیلی نے کہا ہمارے دن رات توہمیشہ ایک ہی جیسے گزرتے ہیں۔ رات دن کا گھٹنا بڑھنا ان لوگوں پر اثر انداز ہوتا ہے، جو سورج کے حساب سے چلتے ہیں مگر ہم تو گھڑی کے حساب سے چلتے ہیں وہ ہی صبح سویرے چھ بجے اٹھنا اور تمام دن مصروف رہنے کے بعد رات دس، گیارہ بجے سونا۔

آج کے اس افراتفری کے دور میں زندگی مصروفیات سے بھر پوراسی انداز سے گزر رہی ہے کوئی چند لمحوں میں زندگی جی لیتا ہے اور کوئی زندگی جینے کے لیے ایک لمحے کی تلاش میں رہتا ہے۔ ہم سال کے ختم ہونے پر خوشیوں کے دیپ جلا لیتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ ہماری زندگی سے ایک سال اور کم ہو گیا۔ اچھی بات ہے جو گزر گیا اس پر غم کرنے کے بجائے جو آ رہا ہے اس کی خوشیاں منائیں مگر اس کے ساتھ ہی جو کام ادھورے رہ گئے تھے، جو وعدے وفا کرنے ضروری تھے، جو خدمت گزاری، جو عبادات کل پر ٹال رکھیں تھیں انہیں پورا کریں۔

خوشی کے لمحات اگرچہ کتنے ہی طویل کیوں نہ ہوں، ہمیں وہ صرف چند لمحے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر خدانخواستہ ہمیں کوئی دکھ ملے تو ایک ایک لمحہ بھی صدیوں برابر لگتا ہے، مگر سچ تو یہ ہے کہ وقت اپنی ایک ہی مخصوص رفتار سے چلتا ہے تاہم ہمارے احساسات، کیفیات اسے طویل کر دیتے ہیں تو کبھی مختصر۔ ہمیں غم کے لمحات میں بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ ظلمت کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو سحر ضرور ہوتی ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ یہ نیا سال کسی کے لیے بھی کوئی رنج و الم کا لمحہ نہ لائے جس کا ایک پل صدیوں کے برابر لگنے لگے۔ دکھ ہر کسی کا ایک ہوتا ہے اور خوشیاں ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے مناتا ہے مگر ہماری نوجوان نسل کی سال ختم ہونے سے پہلے ہی خوشی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اور ان کا نئے سال کی خوشیاں منانے کا ایک الگ ہی جان جوکھم میں ڈالنے والا طریقہ ہوتا ہے اور انداز بھی ایسا جس سے عقل دنگ رہ جاتی ہے، رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

رات بارہ بجتے ہی نئے سال کی خوشی میں ہلا گلا، موج مستی اور جشن شروع ہو جاتا ہے۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہماری ذرا سی لاپرواہی وبالِ جان بن سکتی ہے اور ساتھ عمر بھر کا روگ بھی۔ نئے سال کی خوشی اپنی جگہ مگر اس کے ساتھ احتیاط بھی لازم ہے کیوں کہ ہماری ذرا سی غلطی ہمارے ساتھ ان لوگوں کے لیے جو ہمیں چاہتے ہیں جن کی زندگیاں ہم سے وابستہ ہیں پچھتاوا بن سکتی ہے۔

ہمارے نوجوانان اپنے گزشتہ سال پر نظر ڈال کر اپنی کوتاہیوں سے عبرت حاصل کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے، اگر وہ یہ زحمت گوارا کر لیں تو بہت سے ممکنہ انتشارات سے بچ سکتے ہیں۔ نہ صرف خود خوش رہیں بلکہ دوسروں میںبھی خوشیاں بانٹیں۔ آئیں سب مل کہ اس نئے سال کے آغاز پر اللہ سے یہ دعا کریں کہ اللہ ہمارے ملک کو اس کے ہر شہری کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور پھر سے کوئی سانحہ پشاور نہ ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔