محکمہ صحت اور وزارت داخلہ میں تنازع، شہر میں ڈی این اے لیبارٹری قائم نہ کی جاسکی

اسٹاف رپورٹر  پير 12 جنوری 2015
 حکومتی عدم دلچسپی کے سبب ماضی میں لیبارٹری کے قیام کیلیے آنیوالی آسٹریلین فیڈرل پولیس و اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیمیں بھی واپس جاچکی ہیں۔ فوٹو: فائل

حکومتی عدم دلچسپی کے سبب ماضی میں لیبارٹری کے قیام کیلیے آنیوالی آسٹریلین فیڈرل پولیس و اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیمیں بھی واپس جاچکی ہیں۔ فوٹو: فائل

کراچی: صوبائی محکمہ صحت اور وزارت داخلہ کے مابین تنازع کے سبب شہر میں بننے والی واحد جدید ترین فارنزک اور ڈی این اے لیبارٹری قائم نہیں کی جاسکی۔

صوبائی حکومتی عدم دلچسپی کے سبب ماضی میں لیبارٹری کے قیام کے لیے آنے والی آسٹریلین فیڈرل پولیس اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیمیں بھی واپس جاچکی ہیں، ماہرین کے مطابق ڈی این اے لیبارٹری محض 10 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ شروع کی جا سکتی ہے، 6 کروڑ آبادی کے حامل صوبہ سندھ میں ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں ہے، صوبائی محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق صوبائی محکمہ صحت اور صوبائی وزارت داخلہ کے مابین ڈی این اے لیبارٹری کے قیام کے قیام کے حوالے سے تنازع جاری ہے۔

صوبائی محکمہ صحت ڈی این اے لیبارٹری بنانے میں دلچسپی ظاہر کر چکا ہے جبکہ دوسری جانب وزارت داخلہ پہلے ہی لیبارٹری بنانے کے لیے کوششیں کر رہا ہے تاہم دونوں محکموں کے درمیان لیبارٹری کے قیام کے معاملے پر تنازع شروع ہو گیا جس کی وجہ سے لیبارٹری کے قیام کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کراچی میں لیبارٹری کے قیام کے لیے آسٹریلین فیڈرل پولیس، اسکاٹ لینڈ یارڈ اور برطانوی ماہرین پر مشتمل ٹیموں نے 4 برس قبل سندھ میں فرانزک اور ڈی این اے لیبارٹری کے قیام کے منصوبوں پرکام کیا تھا اور مذکورہ ٹیمیں متعدد بار کراچی آئی تھی اور مجوزہ مقام کا دورہ بھی کیا تھا، تاہم اسکاٹ لینڈ یارڈ اور برطانوی ماہرین پر مشتمل ٹیموں نے لیبارٹری کے قیام کے منصوبے کو شروع ہی میں چھوڑدیا تھا جس کے بعد آسٹریلین فیڈرل پولیس لیبارٹری کے قیام کے منصوبے کو آگے بڑھایا اور سندھ پولیس کے افسران کو بیرون ملک تربیت بھی دی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق آسٹریلین فیڈرل پولیس ڈی این اے لیبارٹری کے قیام  کے لیے سنجیدہ تھی تاہم صوبائی حکومت سندھ کی غیر سنجیدگی اور عدم دلچسپی کے سبب آسٹریلین فیڈرل پولیس نے معاملے کو ادھورا چھوڑ دیا، واضح رہے کہ پنجاب میں ڈی این اے لیبارٹری کے قیام کے لیے آسٹریلین فیڈرل پولیس نے تعاون کیا ہے۔

دوسری جانب محکمہ صحت کے اعلیٰ ترین افسر نے نام ظاہر نہ کرنے پر ایکسپریس کوبتایا کہ شہر میں 11 ستمبر 2012 کوسانحہ بلدیہ میں جھلسنے والے 39 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ کئی ماہ لگ گئے تھے اور اس کے باوجود چند لاشوں کی رپورٹ نہیں آسکی اور انہیں بغیر شناخت کے دفن کیا گیا، ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب سانحہ لنک روڈ میں جھلس کر جاں بحق ہونے والوں کی شناخت کے لیے لاشوں کے نمونے اسلام آباد لیبارٹری بھیجے جائیں گے۔

ماہرین کا کہناہے کہ ان کی رپورٹ میں بھی تاخیر کا خدشہ ہے،نجی اسپتال میں ڈی این اے تجزیے کے 250 سے 300 ڈالر وصول کیے جاتے ہیں اور 7 سے 10 دن میں رپورٹ جاری کردی جاتی ہے ،فرانزک انالائز لیب میں بھی ڈی این اے ٹیسٹ ہوسکتا ہے تاہم اس کے لیے عملے کا تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے جو ایک معمولی بات ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔