24 گھنٹے میں پنجاب کے 2 چیف سیکریٹریز کا تقرر غلط فہمی کا نتیجہ

عامر الیاس رانا  پير 12 جنوری 2015
سیکریٹری سروسز نے وزیراعظم آفس، قائم مقام چیف سیکریٹری نے سی ایم آفس سے فون کا کہا۔ فوٹو: فائل

سیکریٹری سروسز نے وزیراعظم آفس، قائم مقام چیف سیکریٹری نے سی ایم آفس سے فون کا کہا۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: پنجاب میں 24 گھنٹے میں دوچیف سیکریٹریوں کی تقرری اور سیکرٹری سروسز محی الدین احمد وانی کا او ایس ڈی بنایاجانا محض ایک غلط فہمی کا نتیجہ نکلا ہے جبکہ بہت سے عناصر اس معاملے کو وفاقی اور پنجاب کی بیوروکریسی میں کشیدگی بتارہے ہیں حالانکہ دونوں اطراف کے افسران میں کوئی لڑائی نہیں بلکہ اتفاق رائے سے سارے معاملات طے کئے جا رہے ہیں.

وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اپنی روایتی تیزی کے نتیجے میں افسروں کو اوایس ڈی بناتے اور معطل کرتے ہیں جبکہ مرکز میں وزیراعظم محمد نوازشریف یہی معاملات معاملہ فہمی اور تدبرسے طے کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کے سیکرٹری سروسز محی الدین وانی کو 6 جنوری کو وزیراعظم کے سیکرٹری جاوید اسلم نے فون کرکے کہا کہ آپ حکومت پنجاب سے چیک کرلیں کہ مرکزی حکومت سیکرٹری کابینہ بابر یعقوب فتح محمد کو چیف سیکرٹری لگاناچاہتی ہے.

اس پر قواعد کے مطابق سیکرٹری سروسز نے قائم مقام چیف سیکرٹری مبشررضا کو بتایا کہ وزیراعظم آفس سے سیکرٹری برائے وزیراعظم کا فون آیا ہے اور انہوں نے بابر یعقوب کو چیف سیکرٹری لگانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور پنجاب حکومت کی رضامندی کا پوچھا ہے جس پر فوراً ہی مبشر رضا نے کہاکہ آپ پنجاب حکومت کی رضامندی سے مرکزی حکومت کو آگاہ کردیں، اس پر سیکرٹری سروسزنے وزیراعظم آفس کو بابریعقوب پر حکومت پنجاب کی رضامندی سے آگاہ کردیا اور فوری طور پر بابریعقوب کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کو جب بابریعقوب کی تقرری کا علم ہواتووہ سیخ پا ہوئے اور پوچھا کہ ان سے پوچھے بغیرکس طرح یہ احکامات جاری کردیئے گئے ہیں، وزیراعلیٰ کے سٹاف نے قائمقام چیف سیکرٹری سے دریافت کیاکہ یہ حکم کیسے ہوا تو انہوں نے کہاکہ سیکرٹری سروسز نے انہیں فون کیا کہ سی ایم آفس سے کہاگیاہے تو میں نے بھی گرین سگنل دے دیا (ساری غلط فہمی یہاں سے شروع ہوئی۔ حالانکہ سیکرٹری سروسزنے وزیراعظم آفس سے فون آنے کا کہا تھا) بس اس پر وزیراعلیٰ پنجاب روایتی انداز میں چڑھ دوڑے اور حکم دیا کہ مبشر رضا اورمحی الدین وانی دونوں کو فوراً اوایس ڈی کردیاجائے.

ساتھ ہی انہوں نے اپنے سٹاف سے کہاکہ آپ وزیراعظم آفس سے بات کریں اور خضرحیات گوندل کو بطورچیف سیکرٹری تقرری کے احکامات جاری کرائے جائیں، جب یہ بات ہوئی تو ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے سیکرٹری جاوید اسلم بھی پریشان ہوئے کہ ان کے فون کی بنیاد پر ہی تو بابریعقوب کی بطور چیف سیکرٹری تقرری کی گئی تھی چنانچہ ایک کہانی بنائی گئی اور بابریعقوب کو خفت سے بچانے کیلئے اگلی صبح وزیراعظم کی بحرین روانگی سے قبل بابریعقوب کی ملاقات بھی کرائی گئی اور پھر شام کو بابریعقوب کا نوٹیفکیشن منسوخ کیاگیا اورسیکرٹری پورٹس اینڈشپنگ خضرحیات گوندل کی بطور چیف سیکرٹری پنجاب تقرری کے احکامات جاری کردیئے گئے.

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب نے بعد میں قائمقام چیف سیکرٹری مبشررضا کو تو جلد ہی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے چھوڑ دیا اور اوایس ڈی نہیں بنایا لیکن ایک انتہائی سلجھے ہوئے اور حکومت کیلئے ہر طرح سے ساڑھے چھ سال سے کام کرنیوالے محی الدین وانی اس تیزی کی بھینٹ چڑھ گئے جس پر اپنے اور پرائے بھی حیران وپریشان ہیں۔ وزیراعظم خود اس معاملے پر تحفظات کا شکارہیں کہ آخر ایسا کیونکر ہوا، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے درمیان کوئی غلط فہمی ہے اورنہ ہی انہیں کوئی ایساکرنے پر مجبور کررہا ہے۔

وزیراعظم کیساتھ سیکرٹری جاوید اسلم ہرطرح کے تقرروتبادلے میں ہوتے ہیں جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری فوادحسن فواد کا ان امورسے دورتک کوئی تعلق نہیں، البتہ جس معاملے پر ان سے رائے لی جاتی ہے تو وہ کھل کرمافی الضمیر بیان کر دیتے ہیں جس پر اکثر ان کے دوست اور مخالف بھی پریشان رہتے ہیں کہ وہ بے لاگ بات کرتے اور لکھتے ہیں، ذرائع کے مطابق اب غلط فہمی کو بنیاد بناکر چند عناصر اپنے مذموم مقاصدکیلئے ہرایک پر کیچڑاچھال رہے ہیں حالانکہ اب تمام ترصورتحال وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے علم میں آچکی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔