بچوں کو جنسی زیادتی سے کیسے بچایا جاسکتا ہے؟

ضمیر آفاقی  پير 12 جنوری 2015
بچہ چاہے امیروں کا ہو یا متوسط طبقے کا ہو والدین کی ذرا سی غفلت سے وہ بھی جنسی تشدد کا شکارہوسکتا ہے۔ فوٹو رائٹرز

بچہ چاہے امیروں کا ہو یا متوسط طبقے کا ہو والدین کی ذرا سی غفلت سے وہ بھی جنسی تشدد کا شکارہوسکتا ہے۔ فوٹو رائٹرز

گزشتہ دنوں لاہور کے علاقے گرین ٹاون کے رہائشی محمد یٰسین کے بیٹے معین کے ساتھ مسجد کے موذن طارق کی جانب سے مسجد کے اندر کی جانے والی زیادتی اور بعد ازاں راز فاش ہونے کے ڈر سے اس معصوم بچے کے سفاکانہ قتل کے اس اندوہناک واقعے نے ہر صاحب اولاد کے دل پر چھریاں چلا دیں اور پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ واقعہ کی شدت اور نوعیت ہی کچھ ایسی تھی جس سے والدین کا پریشان ہونا فطری امر ہے۔ معین کے معصوم خواب تھے، جو ابھی کھلونوں سے کھیلنے کی عمر کو پہنچا تھا، جس کے والدین کی حسرتیں امیدیں تھیں اور نہ جانے اس بچے کے حوالے سے انہوں نے کیا کچھ سوچ رکھا تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ آخرانہیں اب تسلی کون دے گا؟ تاہم طارق اب پولیس کی تحویل میں ہے، اس نے اپنا جرم قبول کرلیا ہے، اور خواہش تو یہی ہے کہ مجرم کو جرم کی نوعیت کے مطابق اسے عبرتناک سزا ملنی چاہئے ۔

کسی بھی مہذب ملک یا معاشرے میں اس طرح کی درندگی کا کوئی واقعہ رونما ہی نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ بچے ریاست والدین اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہیں جہاں والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت اور ان کا خیال رکھیں وہاں ریاست کی بھی یہ ذمہ داری ہے وہ ایسا محفوظ ماحول فراہم کرے جہاں ہر بچہ امن اور سکون کے ساتھ زندگی بسر کرسکے، جبکہ معاشرے کا فرض ہے کہ وہ ہر بچے کو اپنا بچہ سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ مشفقانہ برتاو کرے۔ والدین کی انفرادی تعیلم و تربیت اس وقت اپنا اثر کھو بیٹھتی ہے جب بچہ باہر نکلتا ہے تو اسے محفوظ ماحول نہیں ملتا۔ پاکستان میں بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات نہ صرف لمحہ فکریہ ہیں بلکہ حکومت اور معاشرے کو یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتے ہیں کہ پاکستان کے مستقبل کو درندہ صفت حیوانوں سے کیسے بچایا جائے؟

بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے حوالے سے ساحل نامی تنظیم کی تازہ ترین رپورٹ یہ کہتی ہے کہ سال2014 جنوری سے جون کے اعداد و شمار کے مطابق 1786 جنسی تشدد اور استحصال سے متاثر ہونے والے بچوں میں سے 66 فیصد بچیاں ہیں۔ روزانہ اوسطاً 9 سے 10 بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات پیش آتے ہیں۔ گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال بچوں کے خلاف جنسی استحصال اور تشدد کے واقعات میں 48 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات کا افسوس ناک پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ جرم زیادہ تر وہ افراد کرتے ہیں جن کی متاثرہ بچوں کے ساتھ جان پہچان ہوتی ہے، جیسے کہ قریبی رشتہ دار، استاد یا ہمسائے۔ بچوں کے لئے مسجد، مدرسہ، اسکول اور کبھی کبھار اپنا گھر بھی محفوظ نہیں ہوتا۔ بچے کو اگر اپنی مدد آپ کے تحت اپنے آپ کو بچانے کے طریقے بتائے جائیں تو وہ کچھ حد تک اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں گے۔

بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے کیس منظرِ عام پر تو آ رہے ہیں لیکن سزاؤں کی شرح اب بھی بہت کم ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس ’’پاک باز اور نیک‘‘ معاشرے میں گذشتہ پانچ برسوں میں ایسے واقعات میں تقریباً 100 فیصد اضافہ ہوا جن میں خونی اور قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ جڑے نفسیاتی اثرات کی وجہ سے اس طرح کے بچوں کی مدد کرنا اور بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ اس طرح کے کیسز میں مشکل یہ ہوتی ہے کہ بچہ یا والدین نہیں بلکہ خاندان والے رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ ایسے واقعات میں پولیس کا کردار اس وقت تک سوالیہ نشان بنا رہے گا جب تک ان کی ذہنی تربیت میں انسانیت کے احترام کے جراثیم اور نصاب میں انسانی حقوق کا باب شامل نہیں ہوتا۔

بچوں کے ساتھ ہونے والے واقعات کے حوالے سے کی گئی مختلف ریسرچ بتاتی ہے کہ پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ 18سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے جنسی تشدد کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ والدین اپنے بچوں کو آگاہی سے محروم رکھتے ہیں اور یہی خاموشی اس جرم کو مزید پھیلا رہی ہے۔ جنسی تشدد کی وجہ سے ہونیوالا جذباتی اور نفسیاتی نقصان آگے چل کر بچے کے لئے بہت نقصان دہ ہوتا ہے بلکہ ایسے بچے جن کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے یا خواہ مخواہ مارپیٹ روا رکھی جاتی ہے انہیں کئی طرح کے جسمانی و نفسیاتی عوارض لاحق ہو سکتے ہیں۔

بچے پر جنسی تشدد کہیں بھی ہو سکتا ہے اس لئے والدین کو چاہیے کہ بچوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ استوار کریں انہیں اعتماد میں لیں اور ان سے ہر وہ بات شیئر کریں جس سے ان کی ذہنی اور شعوری نشو نما ہونے کے ساتھ انہیں اچھے یا برے کی تمیز ملتی ہو۔ بچوں کو یہ بتانا چاہئے کہ اگر کوئی آپ کے جسم کو ہاتھ لگانے کی کوشش کرے یا آپ کے ساتھ ایسا کام کرے جو آپ کو عجیب لگے تو اس شخص کو سختی سے منع کردیں اور اُن کو (والدین) کو آکر بتائیں۔ بچوں کو سکھانے سے بڑوں یا بزرگوں کی عزت کرنے کا مطلب ان کی اندھی فرماں برداری نہیں ہے، جبکہ اسکولوں میں جنسی تشدد سے بچاؤ کے پروگراموں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

بچے جنسی زیادتی کا شکار صرف گھر سے باہر نہیں گھر میں بھی ہوسکتے ہیں۔ ان کو آگاہی دینا ضروری ہے کہ وہ کسی بھی ملازم یا رشتہ دار کے کمرے میں اکیلےجانے سے گریز کریں۔ والدین دیگر لوگوں کو منع کریں کہ وہ ان کے بچوں کو بلاوجہ گود میں نا لیں اور پیار نا کریں، بچوں کو یہ بتایا جائے اگر انہیں کوئی ہاتھ لگائے، ڈرائے دھمکائے تو خوف زدہ نہ ہوں بلکہ فوراً والدین کو اس بات سے آگاہ کریں۔ والدین اور اساتذہ کوبچوں کو بہت پیار سے اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ ان کو یہ بات بہت پیار سے باور کرائی جائے کہ کسی سے کوئی چیز لے کر نہیں کھانی ہے کیونکہ بہت سے واقعات کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے جب کوئی ملازم، رشتہ دار یا خوانچہ فروش بچے کو مفت میں کوئی چیز دے کر بچے کا اعتماد حاصل کرتا ہے اور بعد میں انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بناتا ہیں۔ اس لیے بچے کو یہ بات بتائی جائے کہ گھر کے افراد اور اساتذہ کے علاوہ کسی سے کوئی چیز نا لیں۔

ٹیوشن کے وقت بھی اپنے بچوں کو ایسے کمرے میں اساتذہ کے ساتھ بٹھائیں جہاں سے آپ ان پر نظر رکھ سکیں، بچوں کو ہرگز بھی کمرے میں اکیلا نا چھوڑیں۔ ساتھ ہی اساتذہ کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ بچوں کے کیا مسائل ہیں کہیں کوئی وین والا، مالی، چوکیدار، پی ٹی ماسڑ بچوں کو تنگ تو نہیں کر رہا ۔ فارغ اوقات میں گپ شپ کرتے ہوئے اساتذہ بچوں سے ان کے مسائل اور اس کے حل پر ضرور بات کریں۔ بچوں کو اکیلا گھر سے نا نکلنے دیں۔ کھیل کا میدان ہو یا ٹیوشن سینٹر خود ہی لے کر آئیں اور چھوڑنے بھی خود جائیں۔ جہاں تک کوشش ہو ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھیں اور گلیوں میں بے جا پھرنے پر پابندی لگائیں۔ بہت سے ماں باپ لاپرواہی برتتے ہیں، خود ٹی وی لگا کر اپنی جان چھڑانے کے لئے بچوں کو گلی میں نکال دیتے ہیں۔ایسا بالکل مت کریں بہت سے خوانچہ فروش،چرسی اور جرائم پیشہ افراد صرف اسی تاک میں ہوتے ہیں کہ بچہ تھوڑآگے سناٹے کی طرف جائے اور پھر یہ اس کو بہلا پھسلا کر اپنے ٹھکانے پر لے جائیں۔

جنسی تشدد صرف غریبوں کا مسئلہ نہیں ہے،  بچہ چاہے امیروں کا ہو یا متوسط طبقے کا ہو والدین کی غفلت سے وہ بھی تشدد کا شکارہوسکتا ہے۔ جنسی تشدد کا شکار صرف لڑکیاں ہی نہیں لڑکے بھی ہوتے ہیں اس لئے والدین کو چاہئے کہ دونوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔ یہ کام صرف ماں کا نہیں ہے بلکہ والد اور خاندان کے لوگ مل کر ہی ایسا کرسکتے ہیں اور بچوں کی حفاظت ممکن بنا سکتے ہیں۔ معاشرہ فرد سے بنتا ہے اور یہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر بچے کا اسی طرح خیال رکھے جیسے وہ اپنے بچوں کا رکھتا ہےکہ یہی وہ طریقہ کار ہے جس سے ہم اپنے بچوں اور خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔