کام کی باتوں کے درمیان کچھ بیکار باتیں

سعد اللہ جان برق  پير 12 جنوری 2015
barq@email.com

[email protected]

آج ہمارا من بس یونہی ادھر ادھر کی باتیں کرنے کو کر رہا ہے۔ دراصل ہم ’’کام‘‘ کی باتوں سے اتنے زیادہ تنگ آچکے ہیں کہ کسی کام کے نہیں رہے۔ دراصل ’’کام کی باتوں‘‘ پر اس سے پہلے بھی ہم نے کچھ ہرزہ سرائی کی تھی جس پڑھنے والوں کی طرف سے بڑا زبردست رسپانس ملا تھا کہ کام کی باتیں ہوں تو ایسی ہوں، ایک دانا قسم کے قاری نے تو ایک لطیفہ بی بھیجا تھا جسے اگر ہم آپ کے ساتھ شیئر نہ کریں تو شیئر مارکیٹ کے بیٹھ جانے کا خطرہ ہے۔

ہمارے کام کی باتوں پر اس قاری نے یہ کام کا لطیفہ سنایا تھا کہ ایک لڑکی بیاہ کر سسرال آئی تو وہ بولتی نہیں تھی، سارے گھر والوں نے جتن کیے لیکن بہو نے بول کر نہ دیا، آخر اس کے سسر نے بیڑا اٹھایا کہ میں بہو کو بلوا کر ہی رہوں گا۔ ایک دن اس نے دھوپ میں بیٹ کر بہو سے کہا بیٹی آ ، ذرا میرے سر میں جوئیں تو چن۔ بہو نے کام شروع کیا ۔ آخر ایک ’’جوں‘‘ پکڑنے میں کامیاب ہوئی تو چلائی ’’جوں جوں جوں‘‘ سسر نے اپنی کام یابی پر پھولا نہ سماتے ہوئے پوچھا، اچھا بیٹا ذرا یہ تو بتا کہ یہ جوں کیسی ہے۔

بہو بولی، بالکل تمہاری ماں لگتی ہے۔ اس پر سسر نے سر پیٹتے ہوئے کہا، اس سے تو تمہارا چپ رہنا ہی بہتر تھا، لیکن اپنے کام کی باتوں پر قاری کا یہ تبصرہ سن کر ہم بے مزہ نہ ہوئے کیوں کہ اصل میں تو ہم کالم اللہ خان ہیں ہی نہیں، اس لیے اس لطیفے کا رخ بھی اگر کسی کی طرف ہے تو وہ روسیاہ کوئی کالم اللہ خان ہی ہو گا جو کام کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ہم تو بے کار قسم کے لوگ ہیں، اس لیے بے کار ہی کی باتیں کر سکتے ہیں اور ایک دنیا جانتی ہے کہ بے کار کی باتیں شاعری کیسوا اور کیا ہو سکتی ہیں چنانچہ سارے کالم اللہ خانوں کو کام کی باتیں کرنے دیجیے، چلیے ہم کچھ شاعری کی بے کار باتیں کرتے ہیں اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ رات کو ہم نے ’’چترا جگجیت سنگھ‘‘ سے بہت ساری بے کار کی باتیں سنی ہیں۔ چلیے آپ کو بھی سناتے ہیں ۔ نمبر ایک

اب کے ’’برسات‘‘ کی رات اور بھی بھڑکیلی ہے
جسم سے آگ نکلتی ہے ’’قبا‘‘ گیلی ہے

کیا خیال ہے اب کے جو برسات کی ’’رت‘‘ آئی ہے یہ ہو بہو وہی نہیں ہے جو اس شعر میں بیان ہوئی ہے البتہ ہم یہ نہیں بتا پائیں گے کہ جسم سے آگ کن کن کی نکل رہی ہیں اور قبائیں کس کس کی گیلی ہیں کیوں کہ ہم آگ دینے والے جسموں کے بارے میں تو جانتے ہیں کیوں کہ ان میں اتفاق سے ایک جسم ہمارا بھی ہے لیکن گیلی قباؤں کے بارے میں ہماری معلومات بالکل بھی صفر ہیں کیوں کہ قبائیں گیلی کرنے کے لیے مگر مچھ کے آنسو درکار ہوتے ہیں، چلیے دوسرا شعر سنتے ہیں

سوچتا ہوں کہ اب انجام سفر کیا ہو گا
لوگ بھی ’’کانچ‘‘ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے

یہاں پھر ہماری معلومات کا ادھورا پن آڑے آجاتا ہے کیوں کہ پتھریلی راہوں کے بارے میں تو ہم جانتے ہیں کیوں کہ عمر بھر ان ہی پتھروں پہ چل کر آئے گئے ہیں لیکن ’’کانچ کے لوگوں‘‘ سے کوئی شناسائی نہیں ہے کہ وہ صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں، اب دیکھنے کو جن کو آنکھیں ترستیاں ہیں، پہلے کبھی کبھی دور سے درشن ہو جاتے ہیں لیکن اب درمیان میں سیمنٹ کے اتنے سلیب گوشت کے اتنے پہاڑ اور خار دار تاروں کے اتنے باڑ حائل ہیں کہ صرف خوابوں یعنی ٹی وی کے پردے پر ہی درشن نصیب ہوتے ہیں، چلیے کانچ کے لوگوں کو پتھر مارتے ہوئے آگے بڑتے ہیں،

پہلے رگ رگ میں مری خون نچوڑا اس نے
اب یہ کہتے ہیں کہ رنگت تری کیوں ’’پیلی‘‘ ہے

اس کے بارے میں کچھ کہنا تو ویسے بھی مشکل ہے کیوں کہ اپنی رنگت کا اندازہ کسی کو خود کیا ہو سکتا ہے۔ یہ فیصلہ تو سامنے والا ہی کر سکتا ہے کہ کس کی رنگت کیسی ہے البتہ اپنی رگوں سے ہم خوب واقف ہیں کہ اب ان میں خون کی بوند بھی اگر جمع ہوتی ہے تو بوتل پہلے ہی سے اس لیے دھری ہوتی ہے کہ جیسے ہی ٹپکے، قبضے میں کیا جائے اور مستحقین کی رگوں تک پہنچایا جائے بلکہ اب تو وہ زمانہ بھی نہیں رہا جب پہلو میں دل بہت شور کرتا تھا کیوں کہ ایک قطرہ خون تو اس میں ہوتا تھا، اب تو بے چارے کے اندر پیلا پانی بستا ہے، ایسے میں شور تو کیا دھڑکنے کے بھی لالے پڑے ہوئے ہیں البتہ اگلے شعر میں جن کا ذکر ہے ان کے بارے میں ہم خوب جانتے ہیں بلکہ اگر ذرا ’’کام کی باتیں‘‘ سننے سے فرصت ملے توآپ بھی جان سکتے ہیں، شعر ہے

مجھ کو بے رنگ نہ کر دیں کہیں یہ رنگ اتنے
سبز موسم ہے ہوا سرخ، فضا نیلی ہے

بے چارے شاعر کو ابھی خدشہ ہے کہ کہیں یہ اتنے سارے رنگ اسے بے رنگ نہ کر دیں جب کہ یہاں ہم نہ جانے کب سے بے رنگ ہوئے پڑے ہیں کیونکہ نہ تو ہمارا شمار ’’سبزوں‘‘ میں ہوتا ہے نہ سرخوں اور نہ نیلوں میں، ہمارا معاملہ تو بالکل پانی جیسا ہو چکا ہے کہ پانی رے پانی تیرا رنگ کیسا، جس میں ملا دو گے اس جیسا یا یوں کہیے کہ ہم تو مصور کے اس رنگ دان کی طرح ہو گئے ہیں کہ مصور اپنے موئے قلم کو جس بھی رنگ سے صاف کرنا چاہتا ہے۔

اسی میں رگڑ دیتا ہے چنانچہ ایسا کون سا رنگ ہے جسے ہم پر ملا نہیںگیا ہے جس سے ہمیں لتھڑ کر خود کو صاف نہیں کیا گیا ہے، ایسے میں ہم اگر بے رنگ نہ ہوں تو کیا ہوں بلکہ ہم بیک وقت بیرنگ بھی ہیں ہر رنگ بھی ہیں اور بدرنگ بھی۔ ہمارا خیال ہے کہ آج اتنی ہی ’’بیکار کی باتیں‘‘ کافی ہوں گی کیوں کہ ادھر سیکڑوں اخبار اور درجنوں چینلز بھی اپنی کام کی باتیں لیے آپ کے منتظر ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔