سندھ کے 5 ہاکی اسٹیڈیمز میں آسٹروٹرف نصب کردی گئی

پروفیشنل افراد کی کمی اور تکنیکی خامیوں کی موجودگی میں ملکی سرمایہ ضائع ہونے کا خدشہ۔ فوٹو: فائل

پروفیشنل افراد کی کمی اور تکنیکی خامیوں کی موجودگی میں ملکی سرمایہ ضائع ہونے کا خدشہ۔ فوٹو: فائل

لاہور: پی ایچ ایف حکام کی مشاورت کے بغیر سندھ کے5 ہاکی اسٹیڈیمز میں آسٹروٹرف نصب کردی گئی، پنجاب کے متعدد شہروں میں بھی ٹرف بچھانے کا کام جاری ہے، منصوبوں میں پروفیشنل لوگوں کی کمی اور بعض تکنیکی خامیوں کی موجودگی میں ملکی سرمائے کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق ماضی میں یورپی ٹیموں نے اپنے ملکوں کے موسمی حالات کو دیکھتے ہوئے گھاس کی بجائے آسٹروٹرف پر ہاکی کھیلنے کا آغاز کیا، بعد ازاں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایف آئی ایچ کی طرف سے انٹرنیشنل مقابلوں کو آسٹروٹرف پر کروانا لازمی قرار دے دیا گیا۔آسٹروٹرف خاصی مہنگی ہونے کی وجہ سے ایشیائی ٹیمیں ہاکی کے کھیل میں پیچھے رہ گئیں۔

خطے کے دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی آسٹروٹرف کو خاص اہمیت نہ دی گئی اور کئی سال گزرنے کے بعد کراچی اورلاہورمیں تنصیب ہوئی، اب حکومت پاکستان نے ماڈرن ہاکی کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ملک بھر میں آسٹروٹرف بچھانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت ملک کے متعدد شہروں میں تنصیب کردی گئی ہے جبکہ بعض مقامات پرکام جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق اس وقت لاڑکانہ، کراچی، میر پور خاص، نواب شاہ اور خیرپورکے ہاکی اسٹیڈیمز میں آسٹروٹرف نصب ہوچکی ہے تاہم حیران کن طور پر اس حوالے سے پی ایچ ایف حکام یا سابق کھلاڑیوں سے کسی قسم کی مشاورت کرنا تک گوارا نہیں کیا گیا۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی جانب سے گوجرہ، شیخوپورہ، فیصل آباد اور راولپنڈی میں بھی ٹرف لگانے جاری ہے لیکن ان منصوبوں میں بھی ہاکی سے وابستہ لوگوں کو شامل نہیں کیا گیا۔

ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بعض تکنیکی مسائل کو حل کیے بغیر آسٹروٹرف کی تنصیب زیادہ سود مند ثابت نہیں ہوتی، ٹرف جگہ جگہ سے اکھڑنے لگتی ہے اور مقابلوں کے دوران کھلاڑیوں کے گر کر زخمی ہونے کے واقعات معمول بن جاتے ہیں جو کھیل کیلیے اچھا شگون نہیں ہوگا اور اس سے ملکی سرمایہ ضائع ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔