فرانسیسی جریدے پر حملہ اسلام کی عظیم شخصیات کی توہین کا بدلہ ہے، القاعدہ کا ویڈیوپیغام

ویب ڈیسک  بدھ 14 جنوری 2015
اگر مغرب  کو اظہار کی آزادی ہے تو ہمارے جوابی اقدام کوبھی قبول کرنا ہوگا، نصرالانسی کا ویڈیو پیغام، فوٹو: اے ایف پی / فائل

اگر مغرب کو اظہار کی آزادی ہے تو ہمارے جوابی اقدام کوبھی قبول کرنا ہوگا، نصرالانسی کا ویڈیو پیغام، فوٹو: اے ایف پی / فائل

دبئی: القاعدہ نے گزشتہ ہفتے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے فرانسیسی جریدے ’’چارلی ہیبڈو‘‘ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ کی جزیرہ نماعرب شاخ کی جانب سے ’’ پیرس کی بابرکت جنگ کے حوالے سے ایک پیغام‘‘ نامی وڈیو جاری کی گئی ہے، وڈیو میں القاعدہ کے رہنما نصرالانسی کو کہتے سنایا گیا ہے کہ فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو پر حملہ توہین آمیز خاکوں کا بدلہ ہے، جسے القاعدہ کے مرکزی سربراہ ایمن الظواہری کے حکم پر انجام دیا گیا۔

ویڈیو میں نصرالانسی کا کہنا تھا کہ پیرس میں کئے گئے اس حملے کے لئے ہدف کے انتخاب سمیت تمام تر منصوبہ بندی اور مالی معاونت القاعدہ کی جزیرہ نما عرب شاخ نے کی اور  ہم نے اس کے لئے جن لوگوں کا انتخاب کیا انہوں نے بھی ہماری آواز پر لبیک کہا۔  اس حملے کے ذریعے ہر اس شخص کے لئے کھلا پیغام دے دیا گیا ہے جو اسلام کی عظیم شخصیات اور تعلیمات کی توہین کرتے ہیں، اگر انہیں اظہار کی آزادی ہے تو ہمارے جوابی اقدام کوبھی قبول کرنا ہوگا۔

دوسری جانب چارلی ہیبڈو ایک مرتبہ پھر آزادی اظہار کے نام پر توہین آمیز خاکوں کا سلسلہ بند کرنے سے باز نہیں آیا ہے، جریدے نے اپنا وہ نیا شمارہ فروخت کے لئے پیش کر دیا ہے جس کے سرورق پر توہین آمیز خاکہ شائع کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ چارلی ہیبڈو نے توہین آمیز خاکے شائع کئے تھے جس پر گزشتہ ہفتے نامعلوم افراد نے اس کے دفتر پر حملہ کرکے 12 افراد کوہلاک کردیا تھا جب کہ پولیس کی کارروائی کے دوران بھی متعدد افراد مارے گئے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔