تہذیبوں کا ٹکراؤ؟

مقتدا منصور  جمعرات 15 جنوری 2015
muqtidakhan@hotmail.com

[email protected]

اتوار کو دنیا بھر کے چالیس سے زائد سربراہان مملکت اور تقریباً14لاکھ شہریوں نے  ہفت روزہ چارلی ایبڈو پر دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہونے والے 17 افرادکے لواحقین سے اظہار یکجہتی اور دہشت گردی کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار کے لیے پیرس کی سڑکوں پر امن مارچ کیا۔ ریلی میں شریک مظاہرین نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ تحریروتقریر اورمذہب کی آزادی کے ساتھ عوام کی سلامتی کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں گے۔

یاد رہے کہ یمن سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گردوں نے گزشتہ جمعرات کو فرانسیسی ہفت روزہ جریدے چارلی ایبڈومیں گھس کر گستاخانہ خاکے بنانے والے کارٹونسٹوںاور دو سپاہیوں سمیت عملہ کے17افراد کو ہلاک کردیاتھا۔گوکہ پولیس مقابلے میں تینوں دہشت گرد مارے گئے ، مگر مسلمانوں کے دامن پر دہشت گردی کے لگے داغ کو مزید گہرا کر گئے۔

دہشت گردی کے مظہر(Phenomenon) اور اس کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے۔ معروف تاریخ دان، مورخ اور سماجی دانشور ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق دہشت گردی،خود کش حملے اورٹارگٹ کلنگ کوئی نیا مظہر نہیں ہیں۔ بلکہ تاریخ کے مختلف ادوار میں ان مظاہر کے شواہد ملتے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ ماضی بعید میںدہشت گردی کا مقصد مفتوح اقوام، مزارعوں، غلاموں اور اقلیتوں کو تابع لانا ہوا کرتا تھا ۔

جب کہ بیشتر ریڈیکل اور انقلابی عناصرآج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے ذریعے ریاست کے اعلیٰ عہدیداروں کو قتل کرنے سے ریاستی ڈھانچہ میں مطلوبہ تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح مختلف مذاہب میں جنم لینے والا Puritan طبقہ بھی اصلاح احوال کے لیے قتال پر یقین رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ نسلی، لسانی اور قومیتی گروہ بھی معاشرے پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے دہشت گردی کی راہ اپناتے ہیں۔ جرائم پیشہ افراد کے مختلف گروہ بھی اپنی طاقت میں اضافہ اور جرم کی دنیا میں اپنی حاکمیت قائم کرنے کے لیے دیگر جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف دہشت گردی کا سہارا لیتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ تیسری صدی قبل مسیح میں جب ڈورین قوم نے اسپارٹا پر قبضہ کیا تو قدیمی ہیلوٹ قوم کو دہشت گردی کے ذریعے شہر چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ 11ویں صدی میں حسن بن صباح کے مریدین  نے جو فدائین کہلاتے تھے، اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے وزراء، عمائدین ریاست اور اعلیٰ عہدیداروں کو ٹارگٹ کلنگ اور خود کش حملوں کے ذریعہ قتل کر کے شمالی ایران میں دہشت کی نئی فضاء قائم کی تھی۔ اسی طرح12ویں صدی میں روس میں بعض ریڈیکل گروپ منظم ہونا شروع ہوئے اور انھوں نے زار روس کے اہم ذمے داروں کو قتل کر کے ریاست کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لانے کی کوشش کی۔

جب کہ جدید دنیا میں برطانیہ میں آئرش ری پبلکن آرمی اور سری لنکا میں تامل ٹائیگرز نے آزادی حاصل کرنے کے لیے بالترتیب عقیدے اورقومیت کی بنیاد پر دہشت گردی کی نئی داستانیں رقم کیں۔ 1990ء کے عشرے میں سابقہ یوگوسلاویہ میں سرب قوم پرستوں  نے بوسنیائی عوام  کی منظم نسل کشی کرنے کی کوشش کی ۔ مگر امریکا سمیت کئی ممالک نے اقوام متحدہ کے ذریعہ سرب شدت پسندوں پر جنگی جرائم کے مقدمات قائم کیے اور بوسنیاکی ریاست قائم کرا کے اس مسئلے کو تقریباً حل کردیا۔

یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ ماضی بعید سے جدید دور تک متعلقہ حکومتوں نے شدت پسند عناصر کے ساتھ مذاکرات یا بات چیت کرنے کے بجائے ان کی پوری قوت کے ساتھ سرکوبی کرنے کو ترجیح دی۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ دنیا کی معلوم تاریخ میں دہشت گرد گروہوں نے عوام اور ریاست کو جان ومال کا نقصان تو بہت پہنچایا، مگر انھیں اپنے مقاصد میں کبھی مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

چاہے فدائین ہوں یا روسی ریڈیکل گروپس یا پھر دور جدید میں آئرش ری پبلکن آرمی (IRA) ہو یا تامل ٹائیگرز،کوئی بھی دہشت گردی کے ذریعے اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکا۔جس طرح ماضی میں زار روس نے ریڈیکل عناصر کو پوری قوت سے کچل دیا تھا ۔ اسی طرح برطانوی اور سری لنکن حکومتوں نے اپنے سیاسی عزم و حوصلہ اوردہشت گردی کے خلاف بے لچک حکمت عملیوں کے ذریعہ شدت پسند عناصر کو نشان عبرت بنا دیا۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جدید مسلم مذہبی شدت پسندی کا مظہر30برس قبل1980 کے عشرے میں اس وقت ابھرکر سامنے آیا، جب عالمی سطح پر دو اہم واقعات رونماء ہوئے۔ اول، ایران میں شہنشاہیت کے خلاف انقلاب،جس کے نتیجے میں مذہبی قوتوں کو بلاشرکت غیرے اقتدار میں آنے کا موقع ملا۔ دوئم، افغانستان میں روسی فوجوں کی آمد اور اس کے نتیجے میں دو عالمی قوتوں کے درمیان شروع ہونے والی پراکسی جنگ۔ افغانستان میں لڑی جانے والی گوریلا جنگ کو جہاد کا نام دے کر دنیا بھر سے  جنگجو جتھوں کولا کراس میں جھونکا گیا۔

اس نئی صورت حال نے ایک طرف مختلف فقہوں اور مسالک سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں اور جماعتوں کو اقتدار میں آنے کا حوصلہ بخشا۔ جب کہ دوسری طرف سیاست اور اقتدار کی کشمکش نے مسلم دنیا میں فقہی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا۔ یوں مسلم معاشروں میں افقی اور عمودی تقسیم گہری ہوگئی۔

اس وقت صورتحال کچھ اس طرح ترتیب پا چکی ہے کہ ایک طرف سوویت یونین کو شکست و ریخت سے دوچار کرنے کے زعم میں مبتلا بعض عسکریت پسند گروہ پوری دنیا میں اسلحے کے زور پر اسلام کے نفاذ کے لیے سرگرم ہیں۔ ساتھ ہی وہ امریکا اور مغربی ممالک کو مسلمانوں کی پسماندگی کا ذمے دار سمجھتے ہیں، جو غلط بھی نہیں ہے ۔ مگر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے وہ حسن بن صباح کے فدائین والا طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اپنی کارروائیاں کرتے ہوئے وہ یہ فراموش کربیٹھے ہیں کہ 9 صدی پہلے اختیار کی گئی حکمت عملیاں آج کے دور میں قابل عمل نہیں رہی ہیں۔ جب کہ دوسری طرف فقہی آویزش بھی متشدد شکل اختیار کرتی جارہی ہے ۔

دو دوست مسلم ممالک کے درمیان ہونے والی پراکسی جنگ خلیج کے علاقے سے نکل کر پاکستان تک پہنچ چکی ہے۔یوںپوری دنیا میں مسلم معاشرے اور ان کی قوت بری طرح منقسم ہوچکی ہے۔ یہ دوسروں کے بجائے آپس میں زیادہ دست وگریباں ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے ذریعے مغربی دنیا کو شکست دینا یا اس سے اپنے مطالبات منوانا ممکن نظر نہیں آرہا۔ بلکہ اس عمل کے نتیجے میں خود مسلمانوں کے لیے عالمی سطح پر نئے مسائل پیدا ہونے کے خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مغربی ممالک کے دانشوراور قلمکار دانستہ طورپر مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے لیے آزادی اظہار کے نام  پر وقتاً فوقتاً گستاخانہ مواد شایع یا نشر کرتے ہوں۔

لیکن اس صورتحال کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ سمیت مختلف انبیاء  پر فلمیں بنانا مغربی دنیا میںمعیوب نہیں سمجھا جاتا بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس میں انبیا جیسی مقدس ہستیوں کے بارے میں تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ بلکہ وہ اس عمل کو آزادی اظہار کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے کسی گستاخانہ عمل پر ردعمل دینے سے قبل اس پہلو کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ جس کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں ۔ ایک اہم اور واضح مثال معروف فلسفی لارڈ برٹرینڈرسل کی1929ء میں شایع ہونے والی کتابWhy I am not a Christian ہے، جس میں حضرت عیسیٰ سمیت سینٹ جون اور سینٹ پال جیسی عیسائیت کی برگذیدہ ہستیوں کی ذات پر رکیک حملے کیے گئے تھے۔ چند برطانوی شہریوں نے جذبات سے ملغوب ہوکر رسل کے خلاف مقدمہ قائم کیا۔ جج نے مقدمہ خارج کرتے ہوئے مدعین کو حکم دیا کہ وہ اس کتاب کے جواب میں مدلل کتاب تحریر کریں، تاکہ قارئین کو دوسرا نقطہ نظر بھی معلوم ہوسکے۔

یہ واقعہ85 برس پہلے کا ہے۔اب دنیا خاصی آگے جا چکی ہے۔ اس لیے ان رویوں سے نمٹنے کا جو طریقہ جذبات سے مغلوب مسلمان اختیار کر رہے ہیں، وہ درست نہیں ہے۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں دنیا کے مختلف ممالک میں آباد مسلمانوں کے لیے نئے سیاسی وسماجی اور معاشی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا ،تو خطرہ  ہے کہ کہیں مسلمان عالمی سطح پر ناقابل قبول مخلوق نہ بنا دیے جائیں۔ جس کی وجہ سے پہلے سے سیاسی،سماجی اور فکری پسماندگی میں مبتلا مسلم معاشرے مزید ابتری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ اب امریکا یا مغربی دنیا خلیج کے قدرتی وسائل کی محتاج نہیں رہی ہے۔ اس لیے کوئی انتہا پسندانہ فیصلہ کرتے ہوئے اس کے مستقبل پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھنا بھی نہایت ضروری ہوگیا ہے۔

لہٰذا اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم دانشور سرجوڑ کر بیٹھیں اور پروفیسر ہنٹنگٹن کے تہذیبوں کے ٹکراؤ کے نظریہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان فکری اختلافات پر غور کریں جو ترقی یافتہ صنعتی معاشروں اور مسلم معاشروں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ دراصل انفارمیشن اور سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی نے اس کرہ ارض کے باسیوںکو ویسے تو ایک دوسرے کے قریب کردیا ہے، مگر تہذیبی، ثقافتی اور فکری فرق آج بھی برقرار ہے۔

جس کی وجہ سے مختلف معاشروں میں شناخت کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیے جب تک ایک دوسرے کے رویوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی اور اخلاقی اقدار کے معیارات کا تعین نہیں کیاجاتا،  معاملات کو سدھارنا ممکن نہیں ہے۔ بلکہ حالات سنگین سے سنگین تر ہوجانے کے خطرات اپنی جگہ موجود رہیں گے۔ لہٰذا  مغرب اور مشرق بالخصوص مغرب اور مسلم معاشروں کے درمیان دلیل کی بنیاد پر مکالمہ اشد ضروری ہوگیا ہے، تاکہ تہذیبوں کے ٹکراؤ سے بچا جا سکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔