عوامی رائے کی اصل حیثیت

شیخ جابر  جمعرات 15 جنوری 2015
shaikhjabir@gmail.com

[email protected]

پاکستان اور دنیا بھر میں، پولیس میں، ایک سپاہی یا اے ایس آئی کی بھی بھرتی ہوتی ہے تو پہلے اس کا امتحان ہوتا ہے۔ پھر جسمانی امتحان، پھر انٹر ویو، پھر پولیس ٹریننگ سینٹر میں دو سال کی تربیت۔ فوج میں ’’سیکنڈ لیفٹیننٹ‘‘ کی بھرتی کے لیے پہلے ’’آئی ایس ایس بی‘‘ کا امتحان ہوتا ہے، پھر سخت جسمانی امتحان، پھر انٹرویو میں سخت ذہنی فکری نفسیاتی امتحان پھر دو سال پاکستان ملٹری اکیڈیمی کا کول میں نہایت سخت تربیت، تعلیم تب کہیں جا کر ایک عام آدمی فوجی افسر بنتا ہے۔

آرمی میں میجر سے اوپر ترقی ہوتی ہے تو سلیکشن بورڈ ہوتا ہے، اسٹاف کالج کوئٹہ سے کورسز کرنے ہوتے ہیں۔ عدلیہ میں کسی کی تقرری ہونی ہے تو اُسے عدلیہ کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنی ہوتی ہے، پھر جوڈیشل اکیڈیمی میں تربیت۔ اِسی طرح بیوروکریسی میں بھرتی ہوتی ہے تو ’’سی ایس ایس‘‘ کا سخت امتحان، انٹرویو، سول سروس اکیڈیمی میں سخت تربیت وغیرہ۔ ان مراحل سے گزرے بغیر ہماری عدلیہ، فوج، بیوروکریسی ملک چلانے کے قابل نہیں ہوتی۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ملک چلانے کے لیے اہلیت، قابلیت اور  اعلیٰ استعداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

لہٰذا ان تمام اداروں میں داخلہ/ بھرتی خالص قابلیت کی بنیاد پر ہوتی ہے لیکن ان تمام اِداروں کے سربراہوں کا تقرر کرنے والے صدر یا وزیر اعظم کے لیے کسی قسم کی کوئی قابلیت ضروری نہیں ہے۔ وزیر اعظم چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر کرتا ہے، جو بہت پڑھا لکھا  اعلیٰ دماغ رکھنے والا آدمی ہے لیکن اس کی تقرری کرنے والا وزیر اعظم بالکل جاہل یا زیادہ سے زیادہ بی اے پاس ہو سکتا ہے۔ اگر اُسے اسٹاف کالج کوئٹہ کے کسی چھوٹے سے کورس میں بھیج دیا جائے تو ساری زندگی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ لیکن یہ جاہلِ مطلق عدلیہ، انتظامیہ، فوج، بیوروکریسی ، ٹیکنو کریسی میں تقرریاں بھی کرتا ہے اور عالمی اداروں سے بات چیت کر کے ملک کی قسمت کے فیصلے بھی کرتا ہے۔

اگر جہالت یا کم علمی اعلیٰ سطح کے فیصلوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے تو پھر تمام شعبوں میں وہی طریقہ کیوں اختیار نہ کیا جائے جو پارلیمنٹ میں داخل ہونے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے؟ یعنی الیکشن کے ذریعے عوام کی رائے پوچھ لی جائے کہ حضرات آپ بتائیں چیف جسٹس، کمانڈر انچیف، پبلک سروس کمیشن کا سربراہ، ایف آئی اے،آئی بی یا ایم آئی وغیرہ کا سربراہ کون ہو؟ ہر محکمے میں بھرتیوں کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے کہ عوام کس کو ملازمت دینا چاہتے ہیں اگر عوام بہت عقل مند ہیں بڑے ذہین، عبقری عالم فاضل ہیں کہ وہ صدر اور وزیر اعظم منتخب کر سکتے ہیں، جو اپنے سے زیادہ پڑھے لکھے لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کر سکتا ہے تو عوام کو ہی تمام تقرریوں کے اختیارات کیوں نہ دے دیے جائیں کہ آپ ہی ریفرنڈم سے افسران کا انتخاب کر لیں؟ مگر ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ ہے اِس کا کوئی جواب؟ عوام ہی شور مچاتے ہیں کہ دھاندلی ہو رہی ہے، رشوت عام ہے، میرٹ کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔

توآخر عوام یہ شور کیوں نہیں مچاتے کہ ایم این اے، ایم پی اے، کونسلر وغیرہ کو بھی میرٹ پر بھرتی ہونا چاہیے؟ ان کا بھی کوئی معیار ہونا چاہیے؟ اگر ملک و قوم کے بڑے بڑے معاملات کا فیصلہ عوام کر سکتے ہیں،کیوںکہ عوام سب سے زیادہ با شعور ہوتے ہیں نیز یہ کہ عوام کا کوئی فیصلہ غلط نہیں ہوتا۔ زبان خلق کو نقارۂ خدا کہیے، تو اس اصول کے تحت اِن ذہین، دانش مند، عقل مند، عوام کو آئی جی، وائس چانسلر، بیوروکریٹ، جج منتخب کرنے کی بھی آزادی دی جائے۔

اگر یہ آزادی سلب کر کے سلیکشن بورڈ کو دی جا رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام میں اتنی اہلیت بھی نہیں ہے کہ وہ ایک صحیح آئی جی، صحیح ایس ایچ او، صحیح آرمی کیڈٹ کا انتخاب کر سکیں؟ عوام پر اس سلسلے میں اعتماد نہیں کیا جا سکتا؟ سوال یہ ہے کہ اگر عوام اتنے نا اہل اور جاہل ہیںتو ان کا انتخاب درست کیسے ہو سکتا ہے؟ اِن کے منتخب کردہ نمایندوں کو چیف جسٹس کمانڈر اِن چیف اور عالمی معاہدوں کو طے کرنے کا اختیار دینا کونسی عقل مندی ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی کوئی حیثیت نہیں یہ جاہل ہیں یہ جاہلوں کو ہی منتخب کرتے ہیں ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا لہٰذا اہم قومی اداروں میں سربراہوں افسروں کی تقرری کا کام ان جہلاء کو نہیں دیا جا سکتا ان جاہلوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہی عدلیہ، بیوروکریسی ، ٹیکنو کریسی، فوج، وغیرہ کو اہلیت کی بنیاد پر بھرتی کیا جاتا ہے تا کہ وہ جاہلوں کے نمایندوں کی جاہلیت سے ملک و قوم کی تقدیر کو محفوظ رکھیں۔

فیڈرلسٹ پیپرز جمہوری حکومت کے عناصر میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کا طریقہ بتاتے ہیں۔ جمہوریت میں اصل فیصلے، معاہدے تو بیوروکریسی، عدلیہ، ٹیکنو کریسی، فوج، سرمایہ دارانہ اقلیت عالمی اداروں اور ایجنسیوں کے ذریعے ہوتے ہیں یہ تمام کے تمام غیر منتخب ہوتے ہیں۔ اِن غیر منتخب عقل مند لوگوں، ادار وں کے فیصلوں پر ان جاہلوں کے ٹھپے لگا کر دستخط کرا کے عوام کو یہ التباس دیا جاتا ہے کہ یہ سب فیصلے آپ کے ہیں۔ کیوں کہ یہ آپ کے نمایندے ہیں۔ وہ نمایندے جو بجٹ پڑھ تک نہیں سکتے وہ بجٹ کی تعریف میں زبردست تقریریں کرتے ہیں۔ یعنی کھلم کھلا جھوٹ بولتے ہیں۔ مگر عوام اس جھوٹ سے خوش ہوتے ہیں۔ بے چاروں میں اتنی اہلیت نہیں ہے کہ وہ اس جھوٹ کو سمجھ سکیں یا جھوٹ کو پکڑ سکیں۔ عوام تو کیا یہاں تو بڑے بڑے جغادری نہیں سمجھ پاتے کہ جمہوریت میں اصل اقتدار عوام کے پاس ہوتا ہی نہیں ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ایک جھوٹ، دھوکے اور التباس کے علاوہ کچھ نہیں۔

جمہوریت میں طاقت کا اصل سرچشمہ صرف اور صرف سرمایہ دارانہ اقلیت ہوتی ہے۔ جس طرح کسی ’’پزل‘‘ پر غور کر کے اُس میں چھپی اصل تصویر دیکھی جا سکتی ہے، اِسی طرح دنیا بھر کی جمہوریاؤں کی تاریخ، ترکیب، ہئیت، کام کے طریقے، مابعدالطبیعات، جمہوریت کی حمایت کنندگان اور جمہوریت سے سب سے زیادہ فائدہ کون سا طبقہ اُٹھاتا ہے؟ اِن اُمور پر غور کر کے اصل حقیقت تک رسائی ممکن ہے۔ یہ کوئی مشکل، مبہم یا گنجلک معاملہ بھی نہیں ہے، نہ ہی یہ کسی کے خلاف کسی کی کوئی سازش ہے۔

جمہوری لبرل سرمایہ دارانہ نظام، آزادی، مساوات، ترقی، موجودہ معیار زندگی میں مسلسل اضافہ، سرمایہ داری  کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ لوگ سرمایہ دار بننا چاہتے ہیں سرمایہ داری پسند کرتے ہیں سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی عیش و عشرت عیاشی، اے سی، شان دار گھر، شان دار کاریں، نئے نئے موبائل، گیجٹس کیا مولوی کیا پنڈت، کیا ملحد کیا کافر سب ہی ان سب چیزوں کو پسند کرتے ہیں۔ انھیں استعمال کرتے ہیں یا استعمال کی حسرت لیے جیتے ہیں۔ سائنس اور سائنسی ایجادات کی مدح سرائی میں رطب اللسان نظر آتے ہیں۔ مغربی جدیدیت نے لوگوں کے ذہنوں کو اس پسند پر آمادہ کر لیا ہے ان کا سوچنے کا طریقہ اور فکر بدل دی ہے۔ لہٰذا دنیا کے تمام ادارے، یہاں تک کہ عدلیہ، فوج، انتظامیہ، عالمی ادارے، ٹیکنو کریسی وغیرہ عوام کی ان سرمایہ دارانہ خواہشات کو ممکن بنانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہ ہر شخص کو سرمایہ دار بننے، سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی اختیار کرنے کے خواب دیکھنے کے راستے مہیا کرتی ہے۔

’’جون رالز‘‘ کی کتاب ’تھیوری آف جسٹس‘ کے مطابق جمہوری لبرل سرمایہ داری کا کام چار بنیادی امورِ خیر مہیا کرنا ہے آمدنی، دولت، طاقت، اختیار۔ ان کے حصول کے نتیجے میں انسان کو ذاتی تکریم حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا ایک جمہوری حکومت کا مقصد ِمحض آمدنی، دولت، طاقت اور اختیار میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ اضافہ جاہل لوگ نہیںکر سکتے۔ لہٰذا جُہلاء صرف انگوٹھے لگاتے ہیں۔ پارلیمنٹ سرمایہ دارانہ نظام کی ربڑ اسٹیمپ ہوتی ہے۔ جمہوری ریاست حرص اور شہوت کو فروغ دیتی ہے جس کے نتیجے میں لوگ اچھے سرمایہ دار بن جاتے ہیں۔ ان ’’خصائل حسنہ‘‘ سے محروم لوگ سرمایہ داری کے لیے بے کار کارندے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اِس سب میں عوامی رائے کی اصل حیثیت کیا رہ جاتی ہے اور ۔ ۔۔ اور یہ کہ نتیجے کے طور پر عوام کے ہاتھ مشقت کی چکی میں دِن رات پِسنے اور حسرت کے علاوہ بھی کچھ آتا ہے؟ کیا آج عوامی رائے کے نتیجے میں دنیا کی دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو کر نہیں رہ گئی؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔