موسمیاتی تبدیلیاں اور ایٹمی ہتھیار دنیا کو قیامت کے قریب لا رہے ہیں

این این آئی  پير 26 جنوری 2015

واشنگٹن: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور ایٹمی ہتھیا دنیا کو قیامت کے قریب لارہے ہیں۔

بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹس نامی گروپ نے قیامت کی گھڑی کو 2 منٹ آگے بڑھادیا ہے جس کے بعد یہ آدھی رات سے صرف 3 منٹ دور رہ گئی ہے، قیامت کی گھڑی 1947 میں بنائی گئی تھی، اسے 18 مرتبہ تبدیلی کیا جاچکا ہے۔ 1953 میں یہ گھڑی آدھی رات سے 2منٹ دوری پر تھی جبکہ 1991 میں یہ 17 منٹ دور کردی گئی تھی، یہ گھڑی 2012 سے آدھی رات سے 5 منٹ کے فاصلے پر تھی تاہم اب اسے2 منٹ آگے کردیا گیا ہے اور اب یہ 3 منٹ کی دوری پر رہ گئی ہے، آخری مرتبہ یہ 1983 میں اس پوزیشن پر آئی تھی جب امریکا اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ چل رہی تھی۔

گروپ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کینٹ بینیڈکٹ کا کہنا ہے موسمیاتی تبدیلی اور نیوکلیئر ہتھیاروں کی دوڑ اور بڑی تعداد میں موجود ان کے اثاثوں کی وجہ سے انسانی تہذیب کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایسے اقدامات کرنے ہونگے جن سے گرین ہاؤس گیسز کا اخراج محدود بنایا جاسکے تاکہ درجہ حرارت تیزی سے نہ بڑھے، گروپ کے ایک اور رکن رچرڈ سومرویل نے بتایا کہ 2014 اب تک کے ریکارڈ کے مطابق گرم ترین سال تھا۔

سائنسدانوں نے نیوکلیئر ہتھیاروں پر خرچ کی جانے والی رقم میں ڈرامائی کمی کا بھی مطالبہ کیا۔بینیڈکٹ نے کہا کہ دنیا میں اس وقت 16300 نیوکلیئر ہتھیار موجود ہیں جو ان کے مطابق بہت زیادہ ہیں۔ روس اور امریکا کے پاس سرد جنگ کے مقابلے میں اب کافی کم نیوکلیئر ہتھیار ہیں تاہم انہیں ختم کرنے کا عمل تقریباً رک چکا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔