مسجد صرف مسلمانوں کے لیے کیوں؟

فضل ہادی حسن  پير 26 جنوری 2015
آج بدقسمتی سے ہم اسلام اورمسلمان کے دعویدار تو ہیں لیکن قول وفعل کی تضاد کے وجہ سے اسلام اورمسلمانون کیلئے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

آج بدقسمتی سے ہم اسلام اورمسلمان کے دعویدار تو ہیں لیکن قول وفعل کی تضاد کے وجہ سے اسلام اورمسلمانون کیلئے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

گزشتہ روز ناروے کی دارالحکومت ’’اوسلو‘‘ کے دل میں واقع مسجد ’’اسلامک کلچرل سنٹر‘‘ میں غیر مسلموں کے لیے ’’اوپن مسجد open mosque day ‘‘ کے نام سے خصوصی دن کااہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں غیر مسلموں اور بالخصوص مسجد کے پڑوس میں رہنے والوں کو دعوت دی گئی تھی کہ ’’آیئے ہماری مسجد میں ہماری سرگرمیوں کو دیکھیے‘‘۔

یہ پروگرام  فرانس واقعہ سے ہٹ کر ہر سال کی باقاعدہ سرگرمیوں کا حصہ ہے جو اسلامک کلچرل سنٹر کی حسین روایت ہے۔ اس پروگرام کا مقصد غیر مسلموں کو مسجد کا وزٹ کرانا، وضو سے لیکر نماز و تلاوت کے بارے میں آگاہ کرنا، ’’امام سے سوال‘‘ اسلام کے بارے میں ’’معلوماتی ڈسک‘‘ اور خصوصی ’’ڈاکو منٹری‘‘ (رسول اللہ ﷺ کی زندگی پر) دیکھائی جاتی ہے۔

ناروے میں مسلمانوں کی سب سے پہلی تنظیم اور مسجد ’’اسلامک کلچرل سنٹر ناروے‘‘ نے حسب روایت منفرد نوعیت کا یہ پروگرام منعقد کیا جو اس معاشرے میں ایک بہترین مثبت سرگرمی ہے۔ اسلامک کلچرل سینٹر کی تین منزلہ عمارت میں تین ہال نماز کے لیے ہیں جبکہ کلاسز رومز، میٹنگ روم اور ایک کانفرنس ہال سمیت بزرگوں کے لیے کامن روم (common room)  پر مشتمل خوبصورت  بلڈنگ یقیناً غیرمسلموں کے لیےدلچسپی  کا باعث بنتا ہے۔

عبادت گاہیں جس طرح دیگر مذاہب کیلئے ایک ثقافتی ورثہ اور پہچان بن گئے تھے اسی طر ح مسجد اسلامی تہذیب وتمدن اور ثقافت کا آئینہ دار ثابت ہوئی، اگرچہ اسلامی ثقافت اور تہذیب وتمدن کا آغاز مسجد ہی سے ہوا ہے لیکن  میرے خیال میں مسجد خود اسلامی ثقافت کا دوسرانام اور پہچان ہے۔ پاکستان میں مذہب کے حوالے عمومی تاثر میں علاقائی، معاشرتی رویوں کا عمل دخل اتنا بڑھ گیا ہے کہ ایک طرف عدم برداشت پروان چڑھ گیا تو دوسری طرف  لاعلمی کی وجہ سے عام مسلمانوں کے ہاں اسلام کی صحیح روح بھی متاثر ہوئی ہے۔

اگر ہمارے ہاں مسجدوں میں کوئی غیر مسلم داخل ہوجائے تو اللہ کی پناہ! کیا کہرام مچتا ہے اور اس میں علمی ومذہبی لوگوں کے بجائے عام لوگ سختی سے پیش آتے ہیں، حالانکہ مسجد میں غیر مسلموں کا آنا جانا اسلام اور فقہاء کے ہاں اتنا پیچدہ مسئلہ نہیں رہا ہے(سوائے حدودحرم کے)۔ خود رسول ﷺ کی زندگی سے کئی مثالیں موجود ہیں۔ ضمام بن ثعلبہ ایک مشرک شخص کا مسجد نبوی میں آکر پوچھنا کہ ’’تم میں سے محمد(ﷺ) کون ہے؟‘‘ اور مختلف سوالات کرنے کا ذکر ہے۔ حبشہ کے عیسائیوں کا وفد مسجد نبوی میں ٹھہرا تو آپ ﷺ نے خود ان کی ضیافت کی، نجران کے عیسائی بھی مسجد نبوی میں میں صرف ٹھہرے نہیں بلکہ انہوں نے مسجد نبوی کے ایک کونے میں مشرق کی طرف منہ کرکے اپنی عبادت بھی کی۔

مقام افسوس ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ عمل کہ غیروں کو بھی مسجد نبوی ﷺمیں نماز کی اجازت  تک دی اور وہ اپنے طریقے پر( برخلاف طریقہ اسلام) نماز پڑھیں مگر ہم نے اسلام کے اردگرد ایک دائرہ کھینچ لیا ہے جہاں ہم نے گنجائش مقید کردیا ہے۔ اس رویہ اور مزاج کی وجہ سے ہمارے ہاں تقریبا ً تمام مساجد صرف عبادت تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ اس کی بہ نسبت دیارغیرمیں مساجد عبادت کیساتھ ساتھ اسلامی ثقافتی مراکز بن گئیں، جہاں اسلام اور اسلامی ثقافت اورتہذیب وتمدن کے بارے میں غیر مسلموں کوآگاہی کے انتظامات بھی موجود ہوتے ہیں۔

اسی طرح کے  پروگرامات اور سرگرمیاں بہت مفید اورغیرمسلموں کے لیے غیر معمولی نوعیت  کی حامل ہیں اوربالخصوص موجودہ حالات میں جب ہمارے ناکردہ گناہوں کی وجہ سے اسلام کا اصل چہرہ مسخ ہوگیا ہے تو دوسری طرف لوگوں میں اسلام کو پڑھنے اور سمجھنے کی دلچسپی بھی بڑھ گئی ہے۔

’’اوپن مسجد ڈے‘‘ کے نام سے سال میں ایک یا دو با ر یہ پروگرام  جہاں اسلام کے بارے میں غیر مسلموں  کے شکوک وشبہات دور کرنے میں ممدومعاون ہوتا ہے وہاں ان کی بڑھتی ہوئے دلچسپی کے لیے معلومات، تفصیلات اور تحقیق کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

غیرمسلموں کی مسجد میں آنے کے اور ان سے تبادلہ خیال کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ اسی نوعیت کا پروگرام  پاکستان کی بڑی مسجدوں میں بالعموم اور یورپ و مغرب کے ہر بڑے شہر کی مساجد میں بالخصوص منعقد ہونا چاہیے۔

اسلام میں اخلاق، کردار اورعمل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، خود رسول اللہ ﷺ کی سیرت اور صحابہ کی زندگی عملی ثبوت ہے۔ اچھے اخلاق، کرداراور پریکٹیکل مسلمان اس وقت میرا موضوع نہیں ہے لیکن کسی بھی مسلمان اور معاشرے کیلئے یہ تین چیزیں بنیاد، اہمیت اور اصل پہچان (True identity & face) ضرور ہے۔

آج بدقسمتی سے ہم اسلام اورمسلمان کے دعویدار تو ہیں لیکن قول وفعل کی تضاد کے وجہ سے اسلام اورمسلمانون کیلئے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ ہمارے پاس کتابوں اور تاریخ میں بہت کچھ ہے لیکن وہ الفاظ تک محدود ہےعملی نہیں ہے۔ اس وقت پریشانی اورلاجواب ہونا پڑتا ہے جب کوئی نو مسلم پریکٹکل اسلام اور مسلمان کا پوچھے تو اُس وقت ہم خود کو عملی مسلمان کے طور پر پیش کرنے کے بھی اہل نہیں ہوتے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔