بچے کا منفرد نام تلاش کرنے کی زحمت۔۔۔۔۔اب نہیں!

ع۔ر  منگل 27 جنوری 2015
ایشیا کی طرح مغرب میں بھی والدین کے لیے بچے کا نام رکھنا آسان نہیں رہا، ۔ فوٹو: فائل

ایشیا کی طرح مغرب میں بھی والدین کے لیے بچے کا نام رکھنا آسان نہیں رہا، ۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں نومولود بچوں کے منفرد نام رکھنے کا رجحان زور پکڑ گیا ہے۔ ایسے ایسے نام سماعت سے ٹکراتے ہیں کہ سُن کر حیرت ہوتی ہے۔ تاہم بہت سے نام کانوں کو بھلے بھی لگتے ہیں۔

ایک شناسا نے بھی اپنے بچے کا منفرد سا نام رکھا تھا۔ پہلی بار سنا تو ان سے استفسار کیا کہ حضرت بچے کا نام کس نے رکھا؟ انھوں نے جواباً کہا،’’ نام تو میں نے ہی رکھا ہے مگر یہ نام ڈھونڈنے میں دو ہفتے لگے۔‘‘ ان کا جواب سُن کر ہم حیران رہ گئے۔ بعدازاں موصوف نے نام کی تلاش کا قصہ سنایا کہ بیٹے کی پیدائش سے پہلے ہی یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ بچے یا بچی کے لیے ایسا نام منتخب کیا جائے گا جو کسی کا بھی نہ ہوگا یا بہت ہی کم سننے میں آیا ہوگا۔ چناں چہ بیٹے کی پیدائش کے بعد انھوں نے نام کی تلاش شروع کردی۔

انھوں نے مسلمان بچوں کے ناموں کی کئی کتابیں خرید ڈالیں مگر ان میں سے کوئی نام انھیں، ان کی اہلیہ اور اہل خانہ کو نہیں بھایا۔ چناں چہ انٹرنیٹ پر نام کی تلاش کا آغاز کیا گیا۔ اتفاق سے گھر پر انٹرنیٹ کی سہولت نہیں تھی۔ چناں چہ وہ دفتر میں وقت نکال کر نومولود کے لیے نام تلاش کرنے میں جُتے رہتے۔ انھوں نے دو بار ناموں کی فہرست ترتیب دی۔ تاہم ہر بار فہرست مسترد ہوگئی۔ انھیں کوئی نام پسند آتا تواہلیہ مسترد کردیتیں، یا پھر نومولود کے دادا دادی کو اچھا نہیں لگتا۔ بالآخر بڑی مشکلوں سے سب لوگ ایک نام پر متفق ہوئے۔ مگر اس دوران نومولود دو ہفتے کا ہوچکا تھا! یہ داستان سُن کر ہمیں اندازہ ہوا کہ بچے کا نام رکھنا بھی کتنا کٹھن ہوگیا ہے۔

مغرب میں بھی والدین کے لیے بچے کا نام رکھنا آسان نہیں رہا، کیوں کہ وہاں بھی بچوں کے منفرد نام رکھنے کا رجحان زور پکڑ گیا ہے۔ والدین کی اس مشکل کو آسان کرنے کا بیڑا سوئٹزرلینڈکی ایک کمپنی نے اٹھالیا ہے۔ اگرآپ چاہیں تو اس کمپنی کی خدمات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ بس اس کے لیے آپ کو 32000 امریکی ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔ اس رقم کی ادائیگی کے بعد کمپنی کے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور چند دنوں کی محنت شاقہ کے بعد آپ کے بچے کے لیے وہ نام تجویز کریں گے جو دنیا میں کسی کا بھی نہیں ہوگا۔

Erflogswelle نامی یہ کمپنی دراصل مختلف اداروں کے لیے ان کی مصنوعات کے نام تجویز کرتی ہے۔ حال ہی میں اس نے اپنے کاروبار کو وسعت دیتے ہوئے بچوں کے نام بھی تجویز کرنے شروع کردیے ہیں۔ کمپنی کے ڈائریکٹر مارک ہائوسر کو اس سروس کے آغاز کا خیال کچھ عرصے قبل اس وقت آیا جب اس نے اپنے دوست کے بچے کا نام رکھنے میں اس کی مدد کی۔ مارک کا کہنا ہے،’’ دونوں میاں بیوی کے درمیان بچے کے نام پر اتفاق نہیں ہوپا رہا تھا۔ پھر جب اسی وجہ سے ان کے درمیان تلخ کلامی ہونے لگی تو میں نے سوچا کہ اس معاملے میں ان کی مدد کرسکتا ہوں۔‘‘ مارک کا تجویز کردہ نام دونوں کو پسند آیا تھا۔

یہی وہ لمحہ تھا جب اسے خیال آیا کہ کیوں نہ بچوں کے نام تجویز کرنے کی سروس شروع کردی جائے۔ چناں چہ اس نے اپنے قابل ترین ملازمین پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی اور انھیں بچوںکے منفرد اور انوکھے نام تلاش کرنے پر لگادیا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے کئی تیکنیکیں وضع کررکھی ہیں۔ اس کے علاوہ رہنما ہدایات بھی تشکیل دے رکھی ہیں جن سے انھیں منفرد نام تلاش اور وضع کرنے میں مدد ملتی ہے۔

کمپنی کو والدین کی جانب سے کوئی آرڈر موصول ہوتا ہے تو ٹیم کے اراکین اپنے کام میں جُت جاتے ہیں۔ وہ ایسا نام تلاش کرتے ہیں جو بہ آسانی اد اکیا جاسکتا ہو اور جس کے کم از کم بارہ زبانوں میں معانی بُرے نہ ہوں۔ نام کی تلاش کے دوران کمپنی کے ماہرین نومولود کے خاندانی، تاریخی اور ثقافتی پس منظر کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔

ماہرین زیادہ سے زیادہ پانچ ہفتے کے بعد والدین کو چند نام پیش کرتے ہیں جن میں سے وہ کوئی ایک نام منتخب کرلیتے ہیں۔ کمپنی اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ یہ نام دنیا میں کسی اور فرد کا نہیں ہوگا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔