تلخ خبر !

قادر خان  منگل 27 جنوری 2015
qakhs1@gmail.com

[email protected]

ایک تحقیق کے نتیجے میں ایک دلچسپ تجزیہ سامنے آیا کہ قارئین شاید اچھی خبروں کے عادی نہیں رہے۔ یہ تلخ تجربہ ہے۔ دی سٹی رپورٹر نامی خبروں کی ایک ویب سائٹ نے فیصلہ کیا کہ ایک دن کے لیے صرف اچھی ہی خبریں شایع کریں گے تاہم ایسا کرنے سے یہ ویب سائٹ دو تہائی قارئین سے ہاتھ دھو بیٹھی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہم بھی کسی اچھی خبر کے بجائے تلخ خبروں کو پڑھنے کے عادی ہو چکے ہیں، منفی معلومات کے جال میں پھنسے ہونے کی وجہ سے قارئین کی اکثریت تلخ خبروں سے اچھی خبر دریافت کرنے کی کوشش میں کوشاں رہتی ہے۔

آپ اگر اس کا ذاتی تجربہ کرنا چاہیں تو کسی بھی نیوز بک اسٹال پر صبح سویرے مختلف افراد کو دیکھیں وہ ایسے اخبارات کی خریداری میں دل چسپی رکھتے ہیں جس میں مختلف حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تصاویر ہوں، کسی گینگ وار کی لڑائی کی خبر نمایاں ہو یا پھر ملک میں کسی بھی ہولناک واقعے کی خبر کو لیڈ یا سپر لیڈ بنایا گیا ہو اور ایسے اخبارات ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتے ہیں۔ پشاور سانحے جیسے لاتعداد سانحات میں آپ تجزیہ کریں کہ تلخ واقعات کے تمام تجزیوں میں بیک گرائونڈ میں ماتمی میوزک چل رہا ہوتا ہے جو سامعین  و ناظرین کے دل و دماغ پر اثر پذیر ہوتا ہے اور جہاں واقعات کی شدت ہوتی ہے وہاں اس طرز عمل سے انسانی جذبات مغلوب ہو کر آنسوئوں کی شکل بہہ نکلتے ہیں۔

بڑی مشہور مثال  ہے کہ ’’اگر کسی کتے نے انسان کو کاٹ لیا تو یہ خبر نہیں بنتی بلکہ اگر کسی انسان نے کتے کو کاٹ لیا ہے تو یہ خبر بنتی ہے۔‘‘ ایک ویب سائٹ کی نائب مدیر وکٹوریہ نیکرز سودا نے فیس بک پر لکھا ’’ہم نے خبروں میں مثبت پہلو ڈھونڈنے کی کوشش کی اور میرے خیال میں ہم اس میں کامیاب بھی رہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ کسی کو اچھی خبروں کی ضرورت نہیں، یہ ایک مسئلہ ہے۔‘‘ تھر کے واقعے کی مثال دیکھ لیں کہ حکومت کی توجہ اس علاقے پر نہیں تھی لیکن میڈیا نے تلخ رپورٹنگ کی تو ہر سیاسی جماعت کے مذمتی بیانات شروع ہو گئے، امدادی کیمپ لگنا شروع ہو گئے۔ روزانہ رپورٹ آنے لگی کہ آج اتنے بچے  جاں بحق ہو گئے۔

حکومت کبھی وضاحت دے تو کبھی بوکھلاہٹ میں کیا بیان دے۔ تلخ خبر سے خبر بنتی چلی گئی اور پھر اسی طرح آئی ڈی پیز کے مسائل اہم خبر نہیں بن رہی لیکن جب آئی ڈی پیز نے امدادی سامان میں تاخیر پر احتجاج شروع کیا اور کچھ آئی ڈی پیز زخمی و جاں بحق ہوئے تو تلخ خبر کا توڑ مرکز بنی کہ یہ  صوبائی حکومت کی نااہلی ہے، صوبائی کہنے لگی کہ وفاقی حکومت کی نااہلی ہے۔ روزانہ ٹریفک حادثے ہوتے رہتے ہیں۔ ملکی شاہرائوں کی حالت زار کسی سے چھپی نہیں، لیکن جب کوئی ہولناک حادثہ پیش آ جاتا ہے تو وہی گھسے پٹے بیانات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اس کے بعد پھر خاموشی۔

کراچی میں مخصوص طبقات مخصوص اخبارات اس لیے خریدتے ہیں کیونکہ ان اخبارات میں ان کے مخالف کی تلخ خبریں شایع ہوتی ہیں۔ ان کی ٹیبل اسٹوریوں کی بنا پر ایک مخصوص ماینڈ سیٹ بننا شروع ہو جاتا ہے اور اس اخبار کی ہر خبر کو سچ سمجھ کر دوسرے طبقے کے خلاف من و عن آراء تخلیق کر لی جاتی ہیں۔ تلخ خبروں کے تجربے میں اگر ہم دیکھیں تو قارئین، سامعین یا ناظرین وہ دیکھنا چاہتے ہیں  جس میں کوئی ’مصالحہ‘ ہو۔ لیاری میں اگر کوئی اچھا کام ہو رہا ہو گا تو وہ کوئی نہیں جاننا چاہے گا لیکن سب یہ ضرور جاننا چاہیں گے کہ عزیر بلوچ کی گرفتاری کے بعد اب کیا ہو گا؟ قومی ایکشن پلان میں اچھی خبر ملی کہ تمام جماعتیں یکجا ہوئیں لیکن ابھی خبر کی سیاہی خشک بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ لمبی لمبی پریس کانفرنسیں، بیانات، ریلیاں، جلوس ہونا شروع ہو گئے کہ ہم تو فلاں عمل کے مخالف تھے، تلخ گھونٹ یا زہر پی کر مان رہے ہیں۔

اچھی خبر کے انتظار میں عمران خان دھرنوں کی سیاست سے واپس ہوئے نہیں تھے کہ خبر تلاش کی جانے لگی کہ حکومت سے مذاکرات ناکام ہو گئے تو پھر کیا ہو گا؟۔ پھر تلخ نوائی کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا کہ وزیر اعظم کو دوبارہ تمام سیاسی جماعتوں کی اے پی سی بلانی پڑی کہ ہم دہشت گردی کے خلاف یکسو ہونے جا رہے ہیں۔ نئی آئینی ترمیم کے ذریعے اچھی خبر عوام میں جگہ نہیں بنا سکی کہ آخر 35 سالہ جنگ کا فیصلہ دو سال میں خصوصی عدالتوں کے قیام سے ہو جائے گا؟ کراچی میں دو سال سے آپریشن جاری ہے۔ پہلے یہ اچھی خبر تھی پھر تلخ خبر بن گئی کہ اس آپریشن کو مخصوص حلقوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

کسی جماعت کا اتحاد اچھی خبر تھی لیکن مخالفت تلخ خبر بن جاتی ہے کہ اللہ خیر کرے اب کیا ہو گا؟۔ پٹرولیم میں مسلسل کمی اچھی خبر رہی، لیکن عوام تک اس کا ریلیف نہ پہنچنا ایک تلخ خبر بن گئی کہ ہماری بسیں تو سی این جی پر چل رہی ہیں، ایل پی جی کی نرخ آسمانوں کو چھو رہے ہیں، مہینے میں ایک بار پٹرول کی قیمت بڑھ جانے پر آٹے، گھی، گوشت اور سبزی فروٹ کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں جاتی ہیں کہ ٹرانسپوٹرز نے کرائے بڑھا دیے کیونکہ ڈیزل مہنگا ہو گیا ہے لیکن، تلخ خبر یہ ہے کہ مسلسل پٹرول، ڈیزل کی کمی کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا کہ عوام کو اشیا ء خورونوش کی قیمتوں میں کمی کا ریلیف کیوں نہیں مل رہا۔ افغان مہاجرین کی دوسری نسل سے تیسری نسل پاکستان میں پروان چڑھ رہی ہے، لیکن ان کی واپسی کی اچھی خبر نہیں مل رہی کہ جب نیٹو کا پرچم سرنگوں ہو گیا امریکا واپس ہو رہا ہے تو تلخ خبر آئی کہ امریکا ایک سال اور رہے گا اور افغان مہاجرین پاکستان میں رہیں گے۔ دراصل ہم اچھی خبروں کے عادی نہیں رہے، ہمارے کالم، ہماری شاعری، ہمارے رشتے سب تلخ ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ ہم اچھی خبروں کے عادی نہیں رہے۔ سندھ میں کوئلے کا خزانہ دریافت ہوا اچھی خبر تھی لیکن تلخ بنا دی گئی کہ سیاست کی نذر ہو گئی۔

بلوچستان میں قدرت نے سونے، چاندی کے ذخائر دیے اچھی خبر تھی لیکن تلخ خبر یہ بنی کہ حکومت فائدہ نہیں اٹھا پا رہی۔ ایٹم بم بنانا اچھی خبر بنی لیکن ایٹمی بجلی گھر کی تنصیب پر اسٹے لے لیا، عدلیہ نے اجازت دے دی اچھی خبر بنی لیکن ایٹمی طاقت بجلی کی نعمت سے کب تک محروم رہے گا یہ تلخ  فیصلے ابھی تک سیاست کی بھینٹ ہیں۔ کالا باغ ڈیم بنے گا تو ایسا ہو جائے گا ویسا ہو جائے گا، لیکن تلخ خبر رہی کہ تین صوبے راضی نہیں۔

اچھی خبر کی تلاش میں کہاں جائیں کس سے اچھی خبر ملے۔ تعلیم سب کی ضرورت ہے لیکن سیاست کی نذر ہو جاتی ہے تو جو کام حکومت کا کرنے کا ہوتا ہے وہ ایک بلڈر کرتا ہے کہ دو یونیورسٹی وہ بنائے گا۔ گورنر سندھ نے تین یونیورسٹی بنانے کی اجازت دیدی ایک نواب شاہ، ایک حیدرآباد اور ایک کراچی میں۔ لیکن تلخ خبر یہ ہے کہ بنیادی تعلیم کے ابتدائی اسکول کہاں ہیں جہاں بچے تعلیم حاصل کر کے یونیورسٹیوں میں جا سکیں۔ پرائمری اسکولوں کو اپنی زمینوں پر بنا کر جاگیر دار اور وڈیرے اپنے اوطاق بنا لیتے ہیں، ٹیچرز سیاسی بنیادوں پر بھرتی کر کے الیکشن چوری کر لیتے ہیں لیکن اس پر کسی کی توجہ نہیں کہ پہلے ابتدائی تعلیم کا اہتمام تو کریں۔ جب پس ماندہ علاقوں میں سرکاری اسکول ہی نہیں ہونگے تو بچے مدارس میں ہی جائیں گے جہاں مفت تعلیم ملتی ہے لیکن تلخ خبر یہ بن جاتی ہے کہ مدارس پر شکوک  ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔