دھوکے سے فلم ’حیدر‘ میں کردار ادا کروانے پر امام مسجد نے ہدایتکار بھردواج کو نوٹس بھجوادیا

ویب ڈیسک  جمعـء 30 جنوری 2015
مجھے دھوکے سے بالی ووڈ فلم کے لئے ایک نکاح کا سین عکس بند کرنے کے لئے لایا گیا، برطرف امام مسجد۔ فوٹو؛ فائل

مجھے دھوکے سے بالی ووڈ فلم کے لئے ایک نکاح کا سین عکس بند کرنے کے لئے لایا گیا، برطرف امام مسجد۔ فوٹو؛ فائل

ممبئی: بالی ووڈ فلم ’حیدر‘ میں امام مسجد کا کردار ادا کرنے والے شخص کو مسجد انتظامیہ نے برطرف کر دیا جس کے جواب میں برطرف امام نے موقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے کسی فلم میں کردار ادا نہیں کیا بلکہ ان سے دھوکے سے کردار ادا کروایا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں عکس بند ہونے والی فلم ’حیدر‘ میں کام کرنے پر مسجد انتظامیہ نے امام کو برطرف کردیا۔ دوسری جانب برطرف کئے جانے والے امام مسجد غلام حسین شاہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان سے دھوکہ دہی کے ذریعے نکاح کا سین عکس بند کروایا گیا، انہیں بتایا گیا تھا کہ نکاح کی فوٹیج تعلیمی مقاصد کے لئے استعمال کی جائے گی، مجھے یہ  نہیں بتایا گیا تھا کہ فوٹیج فلم کے لئے استعمال کی جائے گی۔

مسجد امام کی جانب سے غلط بیانی اور دھوکہ دہی کرنے پر ہدایت کار وشال بھردواج اور پروڈیوسر کو لیگل نوٹس بھجوا یا گیا ہے جس میں ان سے 50 لاکھ روپے ہرجانے اور معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ہدایت کار اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے اخبارات کے ذریعے معافی مانگیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ’حیدر‘ میں شاہد کپور نے مرکزی کردار ادا کیا تھا جب کہ اس فلم میں شردھا کپور اور تبو نے بھی کام کیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔