کراچی : بدامنی کا علاج صرف انصاف

ایڈیٹوریل  جمعـء 30 جنوری 2015
جمہوریت دشمن اور غارت گر ان امن قوتوں  کا ہی ہے جو کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے عسکری ونگز میں چھپے ہوتے ہیں مگر کوئی سیاسی جماعت ان سے اپنا تعلق ظاہر نہیں کرتی، فوٹو : فائل

جمہوریت دشمن اور غارت گر ان امن قوتوں کا ہی ہے جو کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے عسکری ونگز میں چھپے ہوتے ہیں مگر کوئی سیاسی جماعت ان سے اپنا تعلق ظاہر نہیں کرتی، فوٹو : فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ کراچی میں دہشت گردی کرنے والے ملک دشمن ہیں اور شہر سے ان کا صفایا کردیا جائے گا، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوئی معاشرہ انصاف کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا، اس لیے انصاف ہونا چاہیے۔ انھوں نے ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج سہیل احمد کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک ہفتہ کے اندر عدالتی کمیشن کی تشکیل کی ہدایت کی اور یقین دلایا کہ کمیشن کی تحقیقات منصفانہ اور فیئر ہوںگی۔

وزیراعظم نے یہ اجلاس کراچی میں قتل وغارت ، جرائم کے پھیلاؤ، بدامنی کے نہ ختم ہونے والے گھناؤنے سلسلے کے تدارک اور سیاسی کشیدگی کے حوالے سے صورتحال کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لینے کے لیے طلب کیا جس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سمیت وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار ، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، کور کمانڈر کراچی ، ڈی جی رینجرز ،آئی جی سندھ اور دیگر سیکیورٹی حکام نے شرکت کی۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم اس ہنگامی اجلاس کے لیے اپنی وفاقی دارالحکومت میں ایک دن کی مصروفیات ترک کرکے منی پاکستان  آئے تاکہ کراچی میں دیرپا امن و بھائی چارگی کے مقاصد کے حصول کے لیے پی پی اور ایم کیو ایم کے درمیان اختلافات اور کشیدگی کو دور کریں ۔اطلاع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ کراچی کے معاملات ہم آہنگی سے صوبائی سطح پر حل کریں۔ تاہم زمینی حقائق اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ،گینگ وار، اسٹریٹ کرائم ، لینڈ مافیا ، کالعدم تنظیموں اور طالبان فیکٹر ایک گمبھیر صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں اور شہر کے برس ہا برس کے سماجی ، معاشی اور سیاسی تضادات آج اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ کراچی کو عالمی میڈیا آتش فشاں اور دنیا کے انتہائی خطرناک ملکوں میں شمار کرنے لگا ہے۔

بادی النظرمیں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے مابین  سرد جنگ اب واقعی ایک مکمل شو ڈاؤن کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے جس میں جمعرات کی پہیہ جام ہڑتال کے دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی قیادت سے دستبردار ہونے کا اعلان ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ہمدردوں کے لیے کسی صدمہ سے کم نہ تھا، دوسری طرف صوبہ کی مجموعی سیاسی اور سماجی صورتحال کسی طور قابل رشک نہیں کہی جا سکتی۔شکارپور میں امام بارگاہ پر دہشت گردی کی ہولناک ترین واردات انسانیت سوز کہی جاسکتی ہے،جس میں متعدد افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے۔ وزیراعظم کی صوبہ میں موجودگی کے دوران اس قسم کی انتہا پسندانہ اور لرزہ خیز واردات میں ملوث عناصر کو جتنی جلد کچلا جائے اتنا ہی ملک کے لیے بہتر ہے۔

اسی طرح کراچی میں ایک سیاسی کارکن کا بہیمانہ قتل اور لاپتا کیے جانے والے 36 کارکنوں کی بازیابی انصاف کی یقین دہانی سے زیادہ عملی کمٹمنٹ سے جڑی ہوئی ہے، المیہ یہ ہے کہ انصاف کا ذکر تو ہوتا ہے انصاف ہوتا نہیں۔ اس لیے انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ ہلاکتوں کا تناظر بھی نظروں  سے اوجھل نہ ہو۔ اس شہر میں سیکڑوں بیگناہ ہلاک ہوتے رہے ہیں مگر ان کے بے بس لواحقین میڈیا تک رسائی نہیں رکھتے، ان کا خون رزق خاک نہیں ہونا چاہیے، یہ وہ کشتہ جورو جفا ہیں جن کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق ثابت نہیں کیا گیا۔ یہ معصوم لوگ تھے جو تاریک راہوں میں مارے گئے جو پاکستان کے شہری تھے ۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14نکات پر عملدرآمد کے لیے حکمت عملی تیار کی گئی ہے، جب کہ اس حوالہ سے 4 کمیٹیاں بنا کر اس پر کام شروع کردیا گیا ہے اور دس روز میں دہشت گردی کے مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیجے جائیں گے۔ اجلاس کی اہم بات یہ تھی کہ وزیراعظم نے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن کی ہلاکت کو سنگین معاملہ قرار دیا، اور کہا سیاسی جماعتیں جرائم پیشہ عناصر سے لاتعلقی کا اظہار کریں اور سیاسی چھتری لینے والے دہشت گردوں کو سامنے لایا جائے۔مگر دیکھاجائے تو اصل مسئلہ جمہوریت دشمن اور غارت گر ان امن قوتوں  کا ہی ہے جو کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے عسکری ونگز میں چھپے ہوتے ہیں مگر کوئی سیاسی جماعت ان سے اپنا تعلق ظاہر نہیں کرتی ۔ اسی افسوس ناک’’ پاک دامنی ‘‘ نے کراچی کو خون میں نہلا دیا ہے۔

سب پوتر ہیں تو قتل کون کررہا ہے ، اگر صرف طالبان اور کالعدم تنظیمیں ہی یہ سب کچھ کررہی ہیں تو سیاسی جماعتیں سر پٹھول ترک کر کے عظیم تر اشتراک عمل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دوش بدوش چلنے سے گریزاں نہ ہوں ۔ کراچی آپریشن شروع کیے جانے سے قبل وفاقی حکومت نے تمام سیاسی جماعتون کو اعتماد میں لیا تھا ، اب اگر اس کی سمت درست کرنی ہے تو بھی سندھ حکومت ،پیپلز پارٹی ،ایم کیوایم اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں قومی ایکشن پلان کی نتیجہ خیزی کے لیے دست تعاون دراز کریں ، افہام وتفہیم سے کراچی کو امن دلائیں ۔

کراچی کی بدامنی کے ملکی اثرات و منفی نتائج و مضمرات اب کسی تفصیل و تجزیے کے محتاج نہیں، ملک کا معاشی ہب ہونے کے باعث ملکی سلامتی اور اقتصادی ترقی میں کراچی کا امن بنیادی شرط ہے اس لیے یہاں دہشت گردی اور قتل و غارت گری کا تسلسل قومی یکجہتی کے خلاف دشمنوں کی سوچی سمجھی سازش ہے، جس کی طرف وزیراعظم نے اشارہ کیا ہے۔ صوبہ میں انتہا پسندی کے خطرات اور فرقہ واریت و مسلکی سرگرمیوں سے پیدا شدہ سیاسی کلچر رواداری ، تحمل و برداشت اور جمہوری انداز فکر و استدلال پر شاید تین حرف بھیج چکا ، چنانچہ ایک خاموش انارکی پورے ملکی سیاسی اور سماجی شیرازے کو بکھیرنے کے درپے ہے۔

کراچی کی بدامنی لاعلاج نہیں۔ رینجرز اور پولیس کی کارکردگی کو یکسر مسترد نہیں کیا جانا چاہیے، ان فورسز نے شدید مصائب اور ہولناک دہشت گردی اور اعصاب شکن ٹارگٹ کلنگ میں معاشرے کو سقوط سے بچایا ہے، اگر آپریشن میں کچھ نقائص اور زیادتیاں ہوئی ہیں تو عدالتوں سے رجوع کرنے کی مکمل آزادی ہے، سیاسی جماعتیں چپقلش کا شکار ہوں اور رینجرز و پولیس کو مطعون کیا جائے تو سیاسی جماعتوں کی عدم فعالیت خود ایک سوال بن جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں کے خلاف تشدد و ماورائے عدالت ہلاکتوں کا تدارک اور لاپتا افراد کی بازیابی میں سیاسی شراکت دار کشادہ دلی سے شریک ہوں، انارکی کا راستہ روکیں اور باہم متحد ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔